سفاری براؤزر کے نیچے موجود شیئر (Share) آئیکن پر ٹیپ کریں۔
اختیارات میں نیچے اسکرول کر کے Add to Home Screen (ہوم اسکرین میں شامل کریں) منتخب کریں۔
اوپر دائیں کونے میں Add پر کلک کریں۔ حیاتِ نو کی ایپ ہوم اسکرین پر شامل ہو جائے گی!
سفاری براؤزر کے نیچے موجود شیئر (Share) آئیکن پر ٹیپ کریں۔
اختیارات میں نیچے اسکرول کر کے Add to Home Screen (ہوم اسکرین میں شامل کریں) منتخب کریں۔
اوپر دائیں کونے میں Add پر کلک کریں۔ حیاتِ نو کی ایپ ہوم اسکرین پر شامل ہو جائے گی!
ہندوستان میں مسلم اقلیت کی دینی اور ایمانی بقا کا مسئلہ ہمیشہ سے حساس اور توجہ طلب رہا ہے۔ موجودہ دور میں، جب کہ اکثریتی مسلم آبادی کے نونہالان سرکاری یا غیر مسلم نجی اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں جہاں اسلامیات اور اخلاقیات کی تعلیم کا کوئی باقاعدہ نظم نہیں ہے، 'جز وقتی مکاتب' (Part-Time Makatib) کی اہمیت اور افادیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کل وقتی دینی مدارس یقیناً ہمارے علمی مراکز اور قلعے ہیں، مگر ان میں ملت کے بچوں کا بمشکل چند فیصد حصہ ہی داخلہ لے پاتا ہے۔ بقیہ نوے فیصد سے زائد بچوں کو کفر و ارتداد کے فتنوں سے بچانے اور ان کے دلوں میں توحید، رسالت اور آخرت کے نقوش ثبت کرنے کا واحد اور مؤثر ترین ذریعہ جز وقتی مکاتب ہی ہیں۔
بچے کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اور مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ اگر ابتدائی عمر میں بچوں کی صحیح خطوط پر اسلامی تربیت نہ ہو تو وہ عصری تعلیم حاصل کر کے مادی اعتبار سے تو کچھ بن سکتے ہیں، لیکن ایمانی و اخلاقی اعتبار سے تہی دامن رہ جاتے ہیں۔ جز وقتی مکاتب کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ اسکول جانے والے مسلم طلبہ و طالبات کے لیے روزانہ صبح یا شام کے اوقات میں ایک یا دو گھنٹے کا ایسا تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ ناظرہ قرآن مجید کی صحیح تلفظ کے ساتھ تلاوت سیکھ سکیں، ضروری مسنون دعائیں اور نماز کے ارکان یاد کریں، اور اسلامی عقائد و آداب سے واقف ہو سکیں۔
حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَكْرِمُوا أَوْلَادَكُمْ وَأَحْسِنُوا أَدَبَهُمْ (ابن ماجہ)
''اپنی اولاد کا اکرام کرو اور ان کی تربیت اور ادب کو بہتر بناؤ۔‘‘
یہ اکرام اور حسنِ ادب اسی وقت ممکن ہے جب ہم بچوں کی روحانی اور ایمانی پرورش کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کریں۔
جز وقتی مکاتب کی کامیابی کا دار و مدار ایک جامع، متوازن اور پرکشش نصاب پر ہے۔ روایتی طور پر مکاتب میں صرف قرآن خوانی پر اکتفا کیا جاتا تھا، جس کے باعث بچے قرآن تو پڑھ لیتے تھے مگر اسلام کے بنیادی احکام، حلال و حرام کے تصور اور اخلاقیات سے ناواقف رہتے تھے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے مرکزی تعلیمی بورڈ نے چار حصوں پر مشتمل تدریجی نصاب مرتب کیا ہے جس میں درج ذیل پہلوؤں کو خاص طور پر سمویا گیا ہے:
۱۔ تجوید و تجوید القرآن: نورانی قاعدہ اور ناظرہ قرآن کی صحیح مخارج کے ساتھ تدریس، تاکہ بچہ کم عمری میں ہی صحیح عربی تلفظ کا عادی بنے۔
۲۔ عقائد و عبادات: کلمہ طیبہ کے معنی، اللہ تعالیٰ کی صفات، ارکانِ اسلام اور خصوصاً نماز کی عملی مشق۔
۳۔ سیرت و تاریخ: حضور اکرم ﷺ اور انبیائے کرامؑ کی پاکیزہ زندگی کے دلچسپ اور سبق آموز واقعات، تاکہ بچوں کے دلوں میں نبی کریم ﷺ کی سچی محبت پیدا ہو۔
۴۔ اخلاقیات اور مسنون دعائیں: روزمرہ کے آداب، والدین اور اساتذہ کا احترام، پڑوسیوں کے حقوق، اور کھانے پینے، سونے جاگنے اور گھر سے نکلنے کی مسنون دعائیں۔
تدریسی طریقہ کار میں مار پیٹ اور سختی کے بجائے شفقت، محبت، تصویری و آڈیو ویژول ذرائع اور تعلیمی کھیلوں (Educational Games) کا استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ بچے شوق اور خوشی سے مکتب آئیں۔
کسی بھی تعلیمی ادارے میں استاد ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جز وقتی مکاتب کے لیے ایسے اساتذہ کی ضرورت ہے جو محض قاری یا مولوی نہ ہوں بلکہ وہ بچوں کے نفسیات کو سمجھتے ہوں، بچوں سے محبت کرنے والے ہوں اور خود باکردار ہوں۔
اس ضمن میں اساتذہ کی وقتاً فوقتاً تدریسی ورکشاپس (Teachers' Training) کا اہتمام ناگزیر ہے۔ اساتذہ کو جدید تدریسی تکنیکوں، بلیک بورڈ کے استعمال، بچوں کی انفرادی صلاحیتوں کی شناخت اور کلاس مینجمنٹ کی تربیت دی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی اساتذہ کے مشاہرے اور اعزازیے کو باوقار بنایا جائے تاکہ وہ یکسوئی اور محنت سے اپنی ذمہ داری ادا کر سکیں۔
جز وقتی مکاتب کو صرف چند افراد کا دردِ سر نہیں بننا چاہیے، بلکہ یہ پوری بستی اور محلے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہماری مساجد جو دن کے بیشتر اوقات میں خالی رہتی ہیں، وہ مکاتب کے لیے بہترین اور پرسکون مراکز ثابت ہو سکتی ہیں۔
محلے کے باشعور افراد، ائمہ مساجد اور نوجوانوں کو مل کر ایک فعال 'مکتب کمیٹی' تشکیل دینی چاہیے۔ یہ کمیٹی بچوں کی حاضری کی نگرانی کرے، غریب و نادار بچوں کو مفت کتب اور یونیفارم مہیا کرے، اور والدین کے ساتھ ماہانہ رابطے (Parent-Teacher Meetings) کا اہتمام کرے تاکہ اسکول اور مکتب کی سرگرمیوں میں تال میل قائم رہے۔
ملتِ اسلامیہ ہند کو اگر آئندہ نسلوں کے حوالے سے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے تو ہر مسجد اور ہر مسلم بستی میں ایک منظم، فعال اور معیاری جز وقتی مکتب کا قیام عمل میں لانا ہوگا۔ اگر ہم نے اپنے بچوں کی ابتدائی دینی تعلیم سے غفلت برتی تو کل کو جب عصری فکری لہریں اور لادینیت کے طوفان اٹھیں گے تو ہمارے پاس کفِ افسوس ملنے کے سوا کچھ نہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور نئی نسل کے ایمان و اخلاق کی حفاظت کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔