مرکزی مواد پر جائیں (Skip to main content)
ماہنامہ حیاتِ نوانجمن طلبہ قدیم جامعۃالفلاح کا ترجمان

رمضان المبارک کیسے گزاریں؟

ماہِ صیام سے بھرپور استفادے کے لیے یومیہ نظام الاوقات اور عملی خاکہ

حجمِ خط:100%
رسم الخط:
خلاصۂ مقالہ:رمضان المبارک کی برکتوں اور تربیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے سحر و افطار، عبادات، مطالعۂ قرآن، گھریلو تربیت اور روزمرہ فرائض کے متوازن یومیہ نظام الاوقات پر مولانا محمد طاہر مدنی کی جامع اور رہنما تحریر۔

ہمیں اپنی مختصر زندگی میں ایک بار پھر رمضان کی مبارک ساعتوں سے استفادہ کا موقع مل رہا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ گردو پیش پر نظر ڈالیں، کتنے افراد جو سال گزشتہ ہمارے ساتھ تھے اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ گویا وہ رمضان اُن کی زندگی کا آخری رمضان تھا، اور پتہ نہیں یہ رمضان ہم میں سے کس کس کا آخری رمضان ہو۔

مختصر زندگی سرعت کے ساتھ ختم ہو رہی ہے، ہر لمحہ ہم اپنی موت سے قریب ہو رہے ہیں، دانش مند وہی ہیں جو اپنی موت کو یاد رکھتے ہیں اور موت کے بعد کے مراحل کی تیاری کرتے ہیں۔ رمضان کا مہینہ ہماری تربیت کے لیے بہترین موقع ہے، اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے منصوبہ بندی ضروری ہے۔ یومیہ نظام الاوقات کا ایک مجوزہ خاکہ یہاں دیا جا رہا ہے، اسے سامنے رکھ کر ہم اپنا پروگرام مرتب کر لیں اور پوری پابندی کریں، إن شاء اللہ غیر معمولی فائدہ نظر آئے گا:

(۱) سحری کے لیے کم از کم ایک گھنٹہ قبل بیدار ہو جانا: اذکارِ مسنونہ کا اہتمام اور نمازِ تہجد کی ادائیگی کرنا، اور آخری وقت میں سحری ضرور کرنا، کیونکہ آپ ﷺ نے سحری کی تاکید فرمائی ہے۔

(۲) نمازِ فجر کی باجماعت مسجد میں ادائیگی: بعض لوگ دیر تک جاگتے ہیں اور سحری کھا کر سو جاتے ہیں۔ یہ کتنی محرومی کی بات ہے، ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ فجر کے بعد مسجد ہی میں ذکر و تلاوتِ قرآن مجید میں طلوع آفتاب تک مشغول رہنا سنت ہے۔ سورج نکلنے کے بعد دو رکعت نماز ادا کریں، اس کے بعد گھر جا کر کچھ دیر آرام کر لیں۔

(۳) ڈیوٹی اور روزمرہ کی مصروفیات: آرام کے بعد اپنی ڈیوٹی یا کاروبار کے لیے نکل جائیں۔ رمضان میں ہماری کارکردگی کم نہیں ہونی چاہیے۔ بعض لوگ روزے کے بہانے کام چوری کرتے ہیں، یہ بات مناسب نہیں ہے۔ پوری دلچسپی اور لگن کے ساتھ اپنا کام کرنا چاہیے، اور رمضان میں ہماری کارکردگی متاثر نہ ہونے پائے، کیوں کہ روزہ ہمیں طاقتور بناتا ہے، ہماری قوتِ ارادی کو مضبوط کرتا ہے۔ ہمارے اسلاف نے اس ماہِ مبارک میں بڑے بڑے معرکے سر کیے ہیں۔

(۴) نمازِ ظہر اور دینی معلومات میں اضافہ: ظہر کی اذان ہوتے ہی نماز کی تیاری، فرض سے پہلے سنت کا اہتمام، نماز کے بعد اذکارِ مسنونہ اور سنن و نوافل کا اہتمام۔ یاد رکھیں ماہِ مبارک میں نیکیوں کا اجر کئی گناہ بڑھ جاتا ہے، اپنے دامن میں نیکیاں سمیٹنے کا بہترین موقع ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی درس و تذکیر کا پروگرام ہو تو اس میں شرکت کریں اور اپنی دینی معلومات میں اضافے کی فکر کریں، پھر اپنے کام کی طرف لوٹ جائیں۔

(۵) نمازِ عصر اور مطالعۂ قرآن: عصر کی اذان ہوتے ہی مسجد کا رخ کریں، فرض سے پہلے سنتِ غیر مؤکدہ بھی پڑھیں۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد صرف نصف گھنٹہ مطالعۂ قرآن کے لیے مختص کریں۔ کسی ترجمہ و تفسیر کی مدد سے اگر روزانہ پانچ آیات کا بھی غور و فکر کے ساتھ مطالعہ کریں تو پورے مہینے میں ڈیڑھ سو آیات ہو جائیں گی۔ مطالعہ کے لیے یکسوئی اور دلچسپی ضروری ہے، اور طریقہ یہ ہے کہ پہلے آیات کی اچھی طرح تلاوت کریں، پھر اس کے معنی و مفہوم کو سمجھیں، اس پر غور کریں، دل پر اثر لینے کی کوشش کریں، اپنا احتساب کریں کہ ہمارا خالق و مالک ان آیات میں ہمیں کیوں ہدایات دے رہا ہے، ان پر ہمارا کتنا عمل ہے۔ کوتاہی کے لیے استغفار کریں، اور عہد کریں کہ پورے طور پر ان آیات پر کاربند ہوں گے، اللہ سے توفیق کی بھیک مانگیں، اور قرآنی پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کا بھی عزم کریں۔ اس طرح اگر روزانہ ہم قرآن کا مطالعہ کریں تو ہماری زندگی میں إن شاء اللہ غیر معمولی تبدیلی آئے گی، اور قرآن ہماری زندگی کو بدل دے گا۔

(۶) افطار، مغرب اور اہل و عیال کی تربیت: غروبِ آفتاب کے قریب افطار کی تیاری کریں، یاد رکھیں کہ افطار کرانے میں بڑا اجر ہے۔ کھجور یا پانی سے افطار کریں، اللہ کا شکر ادا کریں اور کھانے پینے میں اعتدال سے کام لیں، ایسا نہ ہو کہ دن بھر کی کسر افطار میں نکالنے لگیں، اور اس کے بعد نمازِ عشاء اور تراویح پڑھنا مشکل ہو جائے۔ افطار کے وقت دعا قبول ہوتی ہے، اس لیے دعاؤں کا خاص اہتمام کریں۔ نمازِ مغرب جماعت کے ساتھ مسجد میں ادا کریں، اس کے بعد اذکار اور سنن و نوافل نہ بھولیں۔ مغرب اور عشاء کے درمیان گھر کے افراد کے ساتھ کچھ دیر بیٹھیں اور کسی تربیتی کتاب کا اجتماعی مطالعہ ہو، مثلاً زادِ راہ از مولانا جلیل احسن ندوی، آدابِ زندگی از مولانا محمد یوسف اصلاحی، یا منہاج المسلم از شیخ ابوبکر جابر الجزائری یا کوئی اور مفید کتاب۔
رمضان اہل و عیال کی تربیت کا بہترین موقع ہے، اس کو اگر ٹھیک سے استعمال کیا جائے تو گھر کا نقشہ بدل سکتا ہے اور دینی ماحول بن سکتا ہے۔

(۷) نمازِ عشاء، تراویح اور شب بیداری: عشاء کی اذان ہوتے ہی مسجد کا رخ کریں، باجماعت نماز ادا کریں، اس کے بعد امام کے پیچھے نمازِ تراویح پڑھیں، اگر رمضان میں نماز کے اندر مکمل قرآن مجید سننے کا موقع مل جائے تو یہ بڑی سعادت کی بات ہے۔ بعض مساجد میں تراویح کے بعد مختصر تشریح کا پروگرام ہوتا ہے، یہ اچھی بات ہے، پوری دلچسپی سے اس میں شرکت کرنی چاہیے۔

اس کے بعد جلد سو جانا چاہیے، تاکہ رات کے آخری حصے میں بیدار ہونے میں زحمت نہ ہو۔ آج کل ایک غلط رواج یہ ہو گیا ہے کہ رات میں دیر تک لوگ ہوٹل وغیرہ میں گپ شپ کرتے ہیں، اپنا وقت ضائع کرتے ہیں، دیر میں سوتے ہیں، جس کی وجہ سے سحری اور نمازِ فجر سب غائب ہو جاتی ہے۔ اس غلط عادت کو بالکل چھوڑ دینا چاہیے، نبی ﷺ نے عشاء کے بعد فضول باتوں سے منع فرمایا ہے، سویرے سونے کی تاکید کی ہے، تاکہ سحر خیزی میں آسانی ہو۔ آپ ذرا سوچئے کہ رات کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ سمائے دنیا پر نازل ہوتا ہے اور فرماتا ہے: ’’ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اسے معاف کر دوں؟ ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اس کی جھولی بھر دوں؟‘‘ ایک طرف اللہ کی رحمت جوش میں ہے، دوسری طرف ہماری غفلت! ایک طرف اللہ کا فضل برس رہا ہے، دوسری طرف ہم بے خبر! اللہ تعالیٰ ہمارا دامن بھرنے کے لیے تیار، اور ہم سو رہے ہیں! یہ کتنی محرومی کی بات ہے!

تیری ہر ادا نوازش
میرا ہر نفس گزارش
ترے پاس دونوں عالم
مرے پاس صرف دامن

ایک غلط عادت یہ بھی ہے کہ لوگ T.V دیکھ کر یا سو کر رمضان کے اوقات گزارتے ہیں، مبارک لمحات سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ضائع کرتے ہیں۔ یاد رکھیں رمضان حرکت و نشاط کا مہینہ، عمل اور جد و جہد کا مہینہ، تزکیہ و تربیت کا مہینہ ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا ہے: ’’وہ شخص بد نصیب ہے جو رمضان کا مہینہ پائے اور اپنی مغفرت کا سامان نہ کر سکے۔‘‘ آخری عشرے میں اعتکاف کی سنت ادا کرنے اور شبِ قدر کی تلاش کی کوشش کرنی چاہیے، نیز اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ غریبوں کا چولھا بھی جل سکے اور ان کے گھر میں بھی خوشی ہو۔

یہ مجوزہ خاکہ منصوبہ بندی میں آپ کی مدد کرے گا۔ اپنے لحاظ سے آپ پروگرام بنائیں، رو بہ عمل لانے کی کوشش کریں، اللہ سے دعا کریں، إن شاء اللہ خوشگوار نتائج برآمد ہوں گے۔

اے اللہ! رمضان سے ہمیں بھرپور استفادہ کی توفیق دے، آمین۔

م

مولانا محمد طاہر مدنی

(ڈائرکٹر دعوت وارشاد واستاد جامعہ الفلاح، بلریا گنج اعظم گڑھ، یوپی)

ڈائرکٹر دعوت وارشاد واستاد جامعہ الفلاح، بلریا گنج اعظم گڑھ، یوپی۔ ممتاز مفکر، داعی، خطیب اور دینی و تعلیمی رہنما۔

مصنف کے تمام مضامین دیکھیں ←
رہنمائے تعلیم
8 منٹ مطالعہ

جز وقتی مکاتب

نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت، تدریسی منہج اور تعلیمی استحکام

ہندوستانی تناظر میں نئی نسل کے ایمان و عقیدہ کے تحفظ اور بنیادی دینی تعلیم کی فراہمی میں جز وقتی مکاتب کی ناگزیریت، ان کے تعلیمی و تدریسی منہج، نصابی کتب، اساتذہ کی تربیت اور سماجی تنظیم پر مولانا انعام اللہ فلاحی کا تفصیلی اور فکری مقالہ۔

حرفِ آغاز
5 منٹ مطالعہ

رکے تھے، بکھرے نہیں تھے

ماہنامہ حیاتِ نو کی تجدیدِ اشاعت پر مدیرِ اعلیٰ کا اداریہ اور نیا لائحۂ عمل

ماہنامہ حیاتِ نو کی تجدیدِ اشاعت پر مدیرِ اعلیٰ کا اداریہ، جس میں جریدے کے تاریخی پس منظر، فکری تسلسل، باہمی اختلافات کے آداب، اور مشرقِ وسطیٰ کے فلاحی برادران کے ساتھ رابطے کے اس نئے سفر پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

فکر و نظر
7 منٹ مطالعہ

شکرانِ نعمت کا اسلامی طریقہ

اللہ تبارک و تعالیٰ کی یہ مستقل سنت ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بلا تفریقِ رنگ و نسل بے شمار احسانات کرتا رہتا ہے، اور پھر اپنے بندے سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس پر مناسب ردِ عمل یعنی شکرگزاری کا اظہار کرے۔ قرآن، احادیث اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں شکرانِ نعمت کا جامع اسلامی طریقہ اور عملی لائحۂ عمل۔