سفاری براؤزر کے نیچے موجود شیئر (Share) آئیکن پر ٹیپ کریں۔
اختیارات میں نیچے اسکرول کر کے Add to Home Screen (ہوم اسکرین میں شامل کریں) منتخب کریں۔
اوپر دائیں کونے میں Add پر کلک کریں۔ حیاتِ نو کی ایپ ہوم اسکرین پر شامل ہو جائے گی!
سفاری براؤزر کے نیچے موجود شیئر (Share) آئیکن پر ٹیپ کریں۔
اختیارات میں نیچے اسکرول کر کے Add to Home Screen (ہوم اسکرین میں شامل کریں) منتخب کریں۔
اوپر دائیں کونے میں Add پر کلک کریں۔ حیاتِ نو کی ایپ ہوم اسکرین پر شامل ہو جائے گی!
موجودہ حالات، اپریل کے اداریے کو بار بار مہمیز کر رہے ہیں کہ اسے تاریخ کی نئی کروٹوں کے نام معنون کر دیا جائے! لیکن گزشتہ چند دنوں سے ذہن میں دَم پُخت عنوان: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور اس کے اطراف میں جاری قرآنی سرگرمیاں، ہے۔ چنانچہ موجودہ حالات کے لیے اس وقت ، بل گیٹس کے اس خیال سے اپنے اتفاق کا اعادہ کرتا ہوں: Where as many see the Corna/Covid-19 virus as a great disease, I prefer to see it as a great Corrector یعنی ''اکثر حضرات کرونا-کووڈ-19 کو ایک مہلک بیماری تصور کر رہے ہیں جب کہ میرا خیال ہے کہ یہ عظیم مصلح ہے۔‘‘
راقم سطور کو ابو بکر قدوسی کے خیال سے بھی اتفاق ہے کہ اللہ تعالی نے تمام اقوام کو ان کے ''مشترکہ ظلم‘‘ پر سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
میرے محترم دوست عرفان احمد علیگ (دہلی) نے جب بل گیٹس کی پوسٹ شیئر کی اور میرا ری ایکشن جاننا چاہا تو میں نے برجستہ کہا:
'' یہ میرے یقین کی شہادت ہے! دنیا کی تعمیرِ نو ہونے والی ہے! اس کی تاریخی شہادتیں موصول ہو رہی ہیں! ولی اللہ ، سرسید، اقبال اور مودودی کے افکار کا دائرہ مزید وسیع ہونے والا ہے! اقامتِ دین کی راہ اب مزید کشادہ ہونے کو ہے! البتہ اس اقامت میں سب کی ساجھے داری کو ''شحّ نفس‘‘ کے قفس سے نکل کر تسلیم کرنا ہوگی۔ اقامتِ دین کے داعیوں کو مابعد کرونا، دنیا کی آبادکاری نیز فکرِ اسلامی کی تفہیم کے لیے اب مزید فعالیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔‘‘ سرسید علیہ الرحمہ (و:۱۸۹۸ء) کی دانش گاہ میں قرآن کے خادمین اور عاشقین میں صرف مدارسِ اسلامیہ کے علماء و فضلاء ہی عظمتِ قرآن کے نغمے نہیں گنگنا رہے ہیں، بلکہ طبیعیاتی علوم کے بالغ نظر اساتذہ کو بھی یہ سعادت حاصل ہوتی رہی ہے۔ پروفیسر سید مسعود احمد (پ ۱۹۵۲ء، [email protected]) ان میں سے ایک ہیں۔ جو شعبہ بائیو کیمسٹری میں صدرِ شعبہ، کوآرڈینیٹر ریسرچ اور ڈین فیکلٹی کے علاوہ قائم مقام شیخ الجامعہ بھی رہ چکے ہیں۔ موصوف نے اپنے۴۴ سالہ قرآنی غور و خوض کو۲۰۱۸ء میں ''عظمت واعجازِ قرآنی کے عجیب و غریب پہلو‘‘ کے۱۹۲ صفحات میں ۶ ابواب میں واضح کیا ہے۔ موصوف نے اس چشم کشا کتاب کے علاوہ ۱۲ تصنیفات (۷ انگریزی، ۵ اردو میں) تیار کی ہیں، جو بیروت، امریکہ، دہلی اور علی گڑھ سے شائع ہو چکی ہیں۔ مزید برآں ماحولیات کے عنوان پر سو سے زائد تحقیقی مقالات عالمی وشہرت یافتہ مجلات میں شائع کر چکے ہیں، جو سند کا درجہ رکھتے ہیں۔
عظمت و اعجازِ قرآنی کے عنوانات اس طرح ہیں: باب اول: قرآنِ مجید عظیم ترین نعمتِ الٰہی، باب دوم: قرآن کریم کا معنوی اعجاز۔ ظروفِ قرآنی کی روشنی میں، باب سوم: قرآن مجید کا ادبی حسن و اعجاز۔ سورۂ یوسف کی روشنی میں، بابچہارم: قرآنِ حکیم کا علمی و سائنسی اعجاز، باب پنجم: قرآن کی عظمت و یکتائی میں اعجاز، باب ششم: تعلیماتِ قرآنی میں اعجاز۔ اس اہم دستاویزی، اسلامی ورثہ کا تقاضا ہے کہ قرآن کے طلبہ اس کا بالاستیعاب مطالعہ کریں۔ تحریکِ اسلامی کی فکر سے وابستہ موصوفِ گرامی نے اس تحقیقی خدمت کی جو گرانقدر قیمت رکھی، وہ ہے:
لِلّٰہِ فِی اللہ .
اس کتاب میں باب چہارم کا خلاصہ، اداریہ کے عنوان سے بطورِ خاص تعلق رکھتا ہے، سو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔ موصوف تحریر کرتے ہیں:
قرآن مجید ایک علمی و سائنسی معجزہ بھی ہے۔ اس دعوے کو بعض اوقات مبالغہ انگیزی اور خوش فہمی پر محمول کر کے تخفیف کی جاتی ہے۔ لیکن اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ یہ کتاب الٰہی ہے جو اللہ رب العالمین نے نازل کیا ہے۔ اور اس کو محمد رسول اللہ کی ختمِ نبوت کے ثبوت کے لیے معجزہ بنا کر ہی بھیجا ہے تو اس دعوے میں مبالغہ کا اعتراض بھی قائم نہیں رہتا اور مسئلہ کا حل بھی مل جاتا ہے۔۔ اس علمی و سائنسی معجزے کی یکتائی اور اس کے امتیاز کا اندازہ اس امر سے لگائیں کہ یہ معجزہ نہ صرف اس معنی میں ہے کہ اس نے اپنے زمانہ کے حکماء و فلاسفہ کے سامنے ایک خاموش چیلنج پیش کیا، بلکہ بدلتے زمانوں میں جب کہ علمِ سائنس کے بیشتر نظریات بھی خاصے تبدیل ہو گئے۔ قرآنی آیات کی تاویل و تشریح میں کوئی دقّت پیش نہ آئی، جو سائنس دانوں کے علمی پیمانوں میں فٹ نہ ہو۔ اس نے تو ایسی پیشین گوئیاں تک کر دیں جو زمانہ حال کے سائنس دانوں کی دلچسپی کا باعث ہو سکتی تھیں۔ اور اس نے ایسے بیانات دیے جن کا ماضی کے حقائق سے مستقبل کی ایجادات تک کا ثبوت فراہم ہوتا تھا۔ مثلاً فرعون کے جسم کی حفاظت کا متحیر العقول واقعہ یا ماحولیاتی بحران کا انکشاف، ان میں سائنسی دلچسپی کا ہر بیان قرآن کے سائنسی اعجاز کی دلیل اور اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے! وہ آگے بڑھ کر سائنسی تحقیقات کے لیے عمومی تحریک ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ خصوصی و موضوعاتی تحریک بھی فراہم کرتا ہے اور اس میدان میں اعلیٰ تحقیقات کے لیے متعدد اشارے بھی کرتا ہے۔ کیا یہ اس کی عظمت و اعجاز کا ثبوت نہیں؟ (ص ص ۱۰۶-۱۰۷)
---
۲۲-۲۳ فروری ۲۰۲۰ء کو شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کی قرآنی خدمات پر دو روزہ قومی سیمینار کا کنوینر راقم الحروف کو بنایا گیا۔ مرحومین اور موجودین کی قرآنی خدمات پر ۳۲ مقالات، بھارت کی مختلف جامعات، مدارس اور بطورِ خاص مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کے اسکالرز نے پیش کیے۔ پروفیسر عبدالعلیم، پروفیسر کبیر احمد جائسی، پروفیسر سالم قدوائی، پروفیسر یسین مظہر صدیقی، پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی، پروفیسر عبیداللہ فہد فلاحی، ڈاکٹر عبدالحمید فاضلی، ڈاکٹر عبدالحمید خاں اور راقم السطور کی قرآنی تصنیفات پر جو مقالات پیش کیے گئے، انھوں نے ثابت کر دیا کہ ''مرحومین‘‘ کی اغلاط اور تسامحات سے پردہ کشائی ممکن نہیں ہو پاتی جب کہ موجودین کو اس کا موقع مل جاتا ہے کہ اگر کچھ تقصیرات رہ گئی ہیں تو ان کا ازالہ کیا جا سکے اور یورپ کی جامعات میں اس قدر کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کی جاتی ہے۔ الغرض اس سیمینار نے قیامِ ادارہ ۱۹۵۲ء تا حال کی قرآنی خدمات کا سرسری جائزہ لے کر اس کی تاریخ رقم کر دی ہے۔
اس سے قبل ۸-۱۰ جنوری ۲۰۰۳ء کو ''قرآن اور سائنس‘‘ کے عنوان پر اسی شعبہ نے معیاری مقالات لکھوائے تھے۔ چند عنوانات یہ تھے: ۱- آیاتِ قرآنی کی سائنسی تعبیر و تشریح، خطرات اور ان کا تدارک (رضی الاسلام ندوی)، قرآنِ کریم اور عقلی استدلال (ظفر الاسلام اصلاحی)، امام رازی کی تفسیر میں عقلی دلائل (ضیاء الدین اصلاحی)، الجواہر فی تفسیر القرآن کے سائنسی مباحث (ضیاء الدین فلاحی)، علمِ آدم (وسیم احمد)، قرآن اور علمِ جنین (الطاف احمد عظمی)، تخلیقِ ازواج کا قرآنی اصول اور سائنسی کلیات (یسین مظہر صدیقی)،قرآن اور ستّۃ ایام کی سائنسی توضیح (جمشید احمد ندوی)، پانی۔ قرآن اور سائنس کی رو سے (ابوسفیان اصلاحی)، قرآن کا نظریۂ صحت اور میڈیکل سائنس (شمیم ارشاد اصلاحی)، قرآنی احکام اور طب (سید محمد کمال الدین)، ماحولیاتی آلودگی۔ مسائل اور حل (اختر الواسع)، قرآنِ کریم اور ماحولیات کا تحفظ (قیصر حبیب ہاشمی)، قرآن اور سائنس (منتخب کتابیات از ظفر الاسلام اصلاحی)، اس سیمینار کا کلیدی خطبہ ڈاکٹر محمد ریاض کرمانی (پ:۱۹۴۷ء، [email protected]) کے ذریعہ ''قرآن اور سائنس۔ ایک جائزہ‘‘ کے عنوان سے اس وقت کے وائس چانسلر جناب نسیم احمد کی صدارت میں پیش کیا گیا تھا۔ یہ خطبہ آج بھی طلبۂ قرآنیات کے لیے ریفرنس کا کام دے رہا ہے۔
---
خلیق احمد نظامی مرکز علوم القرآن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، اپنے زمانۂ قیام ہی سے قرآنی کارگاہوں اور سیمیناروں کے انعقاد میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ ترتیل و تجوید اور خطاطی کے علاوہ متنوع الجہات گوشوں میں گزشتہ تین سالوں کے سیمینار بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ (۱) مدارس میں قرآنِ کریم کی تدریس کا نصاب اور طریقۂ کار، منعقدہ ۲-۳/ مارچ ۲۰۱۸ء ۔ (۲) مدارسِ اسلامی میں قرآنِ کریم کی تدریس کا مثالی نصاب۔ منعقدہ ۱۸-۱۹/ مارچ ۲۰۱۹ء اور (۳) ہندوستان میں قرآنی مطالعات ۔ منعقدہ ۴/۵/ مارچ ۲۰۲۰ء-۲۰۲۱ء کے قومی سیمینار کے لیے ''مطالعۂ قرآن اصول اور طریقۂ کار‘‘ کا عنوان اعلان کیا گیا ہے۔
۵/ مارچ ۲۰۲۰ء کے اختتامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اپنے صدارتی کلمات میں پروفیسر اشتیاق احمد ظلی، ڈائریکٹر شبلی اکیڈمی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ادارہ جاتی قرآنی خدمات کو بامعنی بنانے کے لیے ملک گیر سطح کا قرآنی وفاق تشکیل دیا جائے تاکہ امت کو رجوع الی القرآن کا بامعنی پلیٹ فارم میسر آسکے۔ ڈائریکٹر سیمینار پروفیسر عبدالرحیم قدوائی اور سامعین نے اس تجویز کی تحسین کی ۔
---
علی گڑھ کی قرآنی سرگرمیوں کا تذکرہ نامکمل رہے گا اگر ادارہ علوم القرآن، شبلی باغ کی خدمات کا احاطہ نہ کیا جائے۔ اس کی قرآنی سرگرمیوں کے لیے ایک الگ مقالے کی ضرورت ہے۔ اہم بات یہ کہ اس کی لائبریری قرآنیات کے باب میں کافی مال دار ہے۔ تقریباً ۵۰۰ اردو تراجم و تفاسیر اور ۲۰۰ عربی تفاسیر اور علوم القرآن پر کتب کی موجودگی اسے ایشیا کا اہم مرکزِ قرآن قرار دینے کے لیے کافی ہے۔ یہاں صرف اس قدر تذکرہ ممکن ہے کہ اس کی لائبریری نے ۲۰۰۵ء سے ۲۰۱۸ء کے دوران بارہ (۱۲) قومی و بین الاقوامی سیمینار منعقد کر لیے اور سیمینار کے اکثر مقالات کو کتابی شکل میں محفوظ بھی کر لیا۔ چند عنوانات ملاحظہ کریں:
۱- قرآنی علوم بیسویں صدی میں، ۲- عصرِ حاضر کے مسائل اور قرآنی تعلیمات، ۳- خاندانی نظام اور قرآنی تعلیمات، ۴- عصرِ حاضر کے سیاسی مسائل اور قرآنی تعلیمات، ۵- عصرِ حاضر کے معاشی مسائل اور قرآنی تعلیمات، ۶- رجوع الی القرآن ۔ اہمیت اور تقاضے، ۷- انسدادِ فواحش اور قرآنی تعلیمات، ۸- غیر مسلمین سے ربط و تعاون قرآن کی روشنی میں، ۹- عروج و زوال کا قرآنی تصور عصرِ حاضر کے خصوصی تناظر میں اور ۱۰- اصلاحِ فساد کا قرآنی تصور۔
سطورِ بالا میں علی گڑھ کی سطح پر بعض قرآنی خدمات کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ قرآنیات پر اکیسویں صدی میں صرف ایک شہرِ علم میں، اس قدر گوناگوں سرگرمیوں کو دیکھ کر صادق ومصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث: **لَا تَنْقَضِیْ عَجَائِبُه** پر ایمان مزید پختہ ہو جاتا ہے۔
**خادمِ علم**
**ضیاء الدین ملک فلاحی**
شعبۂ اسلامک اسٹڈیز، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
۲۳/ مارچ ۲۰۲۰ء / ۲۸/ رجب المرجب ۱۴۴۱ھ