سفاری براؤزر کے نیچے موجود شیئر (Share) آئیکن پر ٹیپ کریں۔
اختیارات میں نیچے اسکرول کر کے Add to Home Screen (ہوم اسکرین میں شامل کریں) منتخب کریں۔
اوپر دائیں کونے میں Add پر کلک کریں۔ حیاتِ نو کی ایپ ہوم اسکرین پر شامل ہو جائے گی!
سفاری براؤزر کے نیچے موجود شیئر (Share) آئیکن پر ٹیپ کریں۔
اختیارات میں نیچے اسکرول کر کے Add to Home Screen (ہوم اسکرین میں شامل کریں) منتخب کریں۔
اوپر دائیں کونے میں Add پر کلک کریں۔ حیاتِ نو کی ایپ ہوم اسکرین پر شامل ہو جائے گی!
یہ بات دنیائے طب میں تسلیم شدہ ہے کہ صحت اور تندرستی کے لیے دوا سے زیادہ احتیاط کی اہمیت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوا مرض کا ازالہ کرتی ہے اور احتیاط مرض سے محفوظ رہنے کی ایک مؤثر تدبیر ہے۔ بہت سی بیماریاں محض بے احتیاطی سے پیدا ہوتی ہیں۔ یہ احتیاط پاکی صفائی، کھانے پینے، سونے جاگنے، جد و جہد اور مصروفیات، غرض شب و روز کے تمام اعمال و مشاغل میں ضروری ہے۔ کسی ایک معاملہ میں بھی بے احتیاطی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ متعدی امراض کے ذیل میں اسلام نے جو ہدایات دی ہیں ان سے ہمیں اس سلسلے میں رہ نمائی بھی ملتی ہے اور اس کے مزاج کو بھی اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔
## کیا امراض متعدی ہوتے ہیں؟
سب سے پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کسی مرض کے متعدی ہونے کو تسلیم کرتا ہے یا یہ اس کے نزدیک محض ایک وہم اور خیال ہے؟ یہ سوال ایک مشہور حدیث کے ذیل میں پیدا ہوتا ہے۔ جس سے بہ ظاہر کسی بھی مرض کے متعدی ہونے کی نفی ہوتی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ کی روایات ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
**لاَ عُدْوىٰ** (بخاری ، کتاب الطب ، باب لاعدویٰ)
'' بیماری کا متعدی ہونا کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘
اس سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ امراض متعدی نہیں ہوتے۔ ان کے متعدی ہونے کا تصور غیر اسلامی ہے۔ لیکن یہ استدلال صحیح نہیں ہے۔ اس میں درحقیقت مرض کی چھوت چھات کے جاہلانہ تصور کی تردید ہے۔ یہ دنیا اسباب و علل کی دنیا ہے، اس لیے اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہاں ہر واقعہ کا کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے، بعض امراض میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ ان کے جراثیم تیزی سے پھیلتے ہیں اور جو جان دار بھی ان کی زد میں آتا ہے اس پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کے کسی مرض میں جب کوئی شخص مبتلا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور ملنے جلنے والوں کو احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ احتیاط نہ ہو تو وہ بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔ لیکن یہ انسان کی نادانی ہے کہ وہ مادی اسباب ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے اور اس حقیقت کو بھول جاتا ہے کہ اسباب اور ان کے نتائج دونوں اللہ تعالیٰ کی مرضی کے پابند ہیں۔ وہ نہ چاہے تو کچھ نہیں ہوسکتا۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بیماری فی نفسہٖ متعدی نہیں ہوتی، بلکہ وہ اگر کسی کو لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے لگتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسباب و علل کا انکار نہیں فرمایا ہے، بلکہ اسباب کو قدرتِ خداوندی کا مقام دینے سے منع کیا ہے۔
## امراض کے متعدی ہونے کا ثبوت
اس بات کا ثبوت کہ رسول اللہ ﷺ نے مرض کے متعدی ہونے سے انکار نہیں کیا ہے، ایک دوسری حدیث سے ملتا ہے۔ اس میں آپؐ نے صاف صاف بیماری کے متعدی ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:
**لاَ يُورِدَنَّ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ**
(بخاری، کتاب الطب، باب لا ہامة۔ مسلم، کتاب السلام، باب لا عدویٰ ولا طیرة الخ)
''جس کے اونٹ بیمار ہوں وہ ان کو پانی پلانے کے لیے اس گھاٹ پر ہرگز نہ لے جائے، جہاں کسی کے تندرست اونٹ پانی پیتے ہوں۔‘‘
بیمار جانوروں کو تندرست جانوروں سے الگ رکھنے کی اس لیے تاکید کی گئی ہے، تاکہ بیماری ان میں بھی نہ پھیلے۔ امام نوویؒ فرماتے ہیں: یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔ ان میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ پہلی حدیث میں جاہلیت کے اس عقیدہ و خیال کی تردید ہے کہ بیماریوں کے پھیلنے میں اللہ تعالیٰ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے طور پر پھیلتی رہتی ہیں۔ اس میں اس بات کا انکار نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے تحت متعدی امراض سے نقصان پہنچتا ہے۔ دوسری حدیث میں اللہ تعالیٰ کی مشیت اور فیصلہ کے تحت جن چیزوں سے بالعموم نقصان پہنچتا ہے، ان سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ یہی جمہور علماء کا مسلک ہے اور اسی کو اختیار کیا جانا چاہیے۔ (شرح مسلم، جزء ۱۴، ۳۱۲/۴)
مطلب یہ کہ حدیث میں مرض کے متعدی ہونے کی نفی نہیں ہے، بلکہ مرض ہی کو حقیقی علت سمجھنے سے منع کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے متعدی امراض سے دور رہنے کی ہدایت بھی ہے۔ ## جذامی سے دور رہا جائے
جذام بڑا بھیانک اور متعدی مرض ہے۔ اس کے بارے میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
**فِرَّ من المجذوم كما تفر من الأسد** (بخاری، کتاب الطب، باب الجذام)
''جذامی سے اس طرح بھاگو، جس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔‘‘
عمر بن شرید کہتے ہیں کہ قبیلۂ ثقیف کے وفد میں ایک جذامی تھا۔ (جب وفد نے بیعت کی تو) رسول اللہ ﷺ نے اس سے کہلوادیا:
**انا قد با يعناك فارجع**
(مسلم، کتاب السلام، باب اجتناب المجذوم ونحوه۔ ابن ماجہ، ابواب الطب۔)
''ہم نے تم سے بیعت کرلی، تم واپس جاؤ۔‘‘
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
**لاَ تُدِيمُوا النظر الى المجذومين**
(ابن ماجہ، ابواب الطب، باب الجذام۔ اس کی سند کمزور ہے۔/ فتح الباری۔ ۳۲/۰۱)
''جذامیوں کو مستقل نہ دیکھتے رہو۔‘‘
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس طرح کے مریضوں کو مسلسل دیکھنے سے بھی انسان پر خراب اثرات پڑتے ہیں۔ اسی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ بھی ہے:
**و اذا كلمتموهم فليكن بينكم و بينهم قدر رمح** (اس کے ایک راوی فرج بن فضامہ کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہو، مسند احمد: ۲/۲۔ تحقیق احمد محمد شاکر)
''جب تم ان سے بات چیت کرو تو تمہارے اور ان کے درمیان ایک نیزہ کا فاصلہ ہونا چاہیے۔‘‘
اس مرض میں ایک طرح کی بدبو ہوتی ہے، یہی اس کے پھیلنے کا سبب بھی ہے، اسی لیے اس سے دور رہنے کی ہدایت ہے، اس حدیث میں گو کسی قدر ضعف ہے، لیکن اوپر کی حدیثوں سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ ان احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ صحیح اور تندرست آدمی کو جذامیوں سے احتیاط برتنی چاہیے۔ خود جذامیوں کو بھی بھرے مجمعوں ، بازاروں اور پبلک مقامات سے دور رہنا چاہیے۔ ابن ابی ملیکہؒ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ایک جذامی عورت کو طواف کرتے دیکھا تو اس سے کہا: اللہ کی بندی! لوگوں کو اذیت مت دے! اگر تم گھر ہی میں بیٹھی رہتیں تو کتنا اچھا ہوتا۔ اس کے بعد وہ گھر ہی میں رہنے لگی۔ حضرت عمرؓ کے انتقال کے بعد ایک شخص نے اس سے کہا: جنہوں نے تمہیں منع کیا تھا ان کا تو انتقال ہو گیا ہے، اب تم نکل سکتی ہو۔ اس نے جواب دیا: یہ نہیں ہو سکتا کہ ان کی زندگی میں تو ان کی اطاعت کروں اور ان کے انتقال کے بعد مخالفت شروع کر دوں۔ (موطا امام مالک ، کتاب الحج ، جامع الحج)
جذامی سے ایک تو لوگوں کو کراہت اور تکلیف ہوتی ہے، دوسرے یہ کہ اس کے ساتھ اختلاط سے اس مرض کے پھیلنے کا امکان بھی ہوتا ہے۔ اس لیے حضرت عمرؓ نے اس عورت کو الگ رہنے کی ہدایت کی اور اس نے اس پر عمل کیا۔
اگر جذامی کہیں زیادہ تعداد میں ہوں تو حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ ایک رائے یہ ہے کہ ان کو مساجد، پبلک مقامات اور جلسوں وغیرہ میں جانے سے منع کیا جائے گا اور ان کے لیے الگ مکانات اور رہائش گاہیں بنا دی جائیں گی۔ قاضی عیاضؒ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی جمہور کی رائے ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ کہیں بھی انھیں آنے جانے سے منع نہیں کیا جائے گا۔ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ کوئی شاذ و نادر کیس ہو تو اس طرح کے اہتمام کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ (فتح الباری: ۶۲۱/۱ ، نیز ملاحظہ ہو نووی شرح مسلم: ۸۲۲/۴۱)
## جذامی کے ساتھ کھانے کا جواز
آخر میں اس سلسلے کی ایک اور روایت سے ہم بحث کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جذامی کا ہاتھ پکڑا اور اپنے کھانے کے پیالے میں اسے شریک کرتے ہوئے فرمایا:
**كل بسم الله ثقة بالله و تو كلا عليه** (ترمذی، ابواب الاطعمه، باب ماجاء فی الاکل مع المجذوم ۔ ابو داؤد، کتاب الکهانه والتطير ۔ ابن ماجه، ابواب الطب)
''اللہ کا نام لے کر کھاؤ اور اللہ ہی پر بھروسہ اور توکل ہے۔‘‘
بہ ظاہر یہ حدیث اوپر کی احادیث سے ٹکراتی ہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس حدیث کو امام ترمذیؒ نے ضعیف قرار دیا ہے، اس لیے صحیح احادیث کے مقابلے میں اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔
اس میں شک نہیں کہ امام ترمذیؒ نے اس کے ایک راوی پر جرح کی ہے اور اسے غریب کہا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ حضرت عمرؓ سے اس پر عمل میرے نزدیک ثابت ہے۔ ظاہر ہے، حضرت عمرؓ کے عمل کی خاص اہمیت ہے۔ اسے کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس کی کیا توجیہ ہے؟
اس کی بہت سی توجیہیں کی گئی ہیں: ایک توجیہ یہ کی گئی ہے کہ مرض کے مختلف مراحل ہوتے ہیں۔ ابتدا میں کوئی بھی مرض اتنا بھیانک اور قابلِ احتراز نہیں ہوتا، جتنا بعد کے مراحل میں ہوتا ہے۔ بعض اوقات مرض کی علامات ظاہر تو ہوتی ہیں، لیکن ان میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرض بہت ہلکا ہے اور زیادہ تکلیف دہ شکل اختیار نہیں کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جس جذامی کے ساتھ کھانا کھایا، ہو سکتا ہے، اس کا مرض اسی نوعیت کا ہو اور آپ نے احتیاط کی ضرورت نہ محسوس فرمائی ہو۔
یہ توجیہ اچھی تو ہے، لیکن اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ فی الواقع وہ جذامی اسی نوعیت کا تھا۔ حضرت عمرؓ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ جذامی سے احتراز کے حکم کو منسوخ خیال فرماتے تھے۔
امام نوویؒ فرماتے ہیں: یہ حکم منسوخ نہیں ہے۔ دونوں حدیثوں میں تطبیق ہو سکتی ہے۔ وہ یہ کہ جذامی سے اجتناب اور بھاگنے کا حکم احتیاط کے لیے ہے۔ اس پر عمل واجب نہیں ہے۔ آپ کا اس کے ساتھ کھانا جواز کے لیے ہے۔ یہی اکثریت کی رائے ہے۔ اسی کو اختیار کیا جانا چاہیے۔ (نووی: شرح مسلم: ۴۱، ص ۸۲۲)
اس کی صاف حکمت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ جذامی سے احتراز کو واجب قرار دیا جاتا تو اس طرح کے مریضوں کے قریب کوئی نہ جاتا اور ان کی دیکھ بھال کرنے والا اور پرسانِ حال کوئی نہ ہوتا۔ (اس مسئلہ پر تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو الطب النبوی للائمام ابن القیم، ص ۹۲۷-۹۹۲۔ فتح الباری: ۰۱/ ۱۲۱-۶۲۱)
## طاعون زدہ مقام پر نہیں جانا چاہیے
اس کی ایک اور مثال طاعون کے سلسلے کے احکام ہیں۔ حضرت اسامہ بن زیدؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
**اذا سمعتم بالطاعون بارض فلا تدخلواها و اذا وقع بارض و انتم بها فلا تخرجوا منها** (بخاری، کتاب الطب، باب ما جاء فی الطاعون۔ مسلم، کتاب السلام)
''جب تمھیں معلوم ہو کہ کسی جگہ طاعون ہے تو وہاں مت جاؤ اور جہاں تم ہو وہاں اگر طاعون پھیل جائے تو اسے چھوڑ کر چلے مت جاؤ۔‘‘
## طاعون زدہ مقام سے فرار نہ اختیار کیا جائے
مشہور واقعہ ہے کہ حضرت عمرؓ کو شام کے سفر میں جب معلوم ہوا کہ وہاں طاعون پھیلا ہوا ہے تو صحابہؓ سے مشورہ کے بعد راستے ہی سے واپسی کا فیصلہ فرمایا۔ اس پر حضرت ابو عبیدہؓ نے کہا کہ یہ تو اللہ کی تقدیر سے فرار ہے۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا:
**نعم نَفِرُّ من قدر الله الى قدر الله**
''ہاں! ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف بھاگ رہے ہیں۔‘‘
تھوڑی دیر بعد حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے حضرت عمرؓ کے فیصلہ کی تائید میں مذکورہ بالا حدیث سنائی تو حضرت عمرؓ کو مزید اطمینان ہوا اور صحابہؓ کے ساتھ لوٹ آئے ۔ (بخاری، کتاب الطب، باب ما جاء فی الطاعون۔ مسلم، کتاب السلام)
سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب متعدی امراض سے احتیاط کا حکم ہے تو جہاں طاعون پھیلا ہوا ہو، وہاں قیام بھی نہیں کرنا چاہیے؟ لیکن جہاں طاعون پھیلا ہوا ہے اسے چھوڑنے اور باہر سے وہاں پہنچنے میں بڑا فرق ہے۔ کسی طاعون زدہ مقام سے صحت مند افراد بھاگ کھڑے ہوں تو جو لوگ اس میں مبتلا ہیں، ان پر بہت ہی ناگوار اثر پڑ سکتا ہے۔ بعض اوقات اس کی بھی نوبت آسکتی ہے کہ ان کی دوا علاج اور خبر گیری کرنے والا بھی کوئی نہ ہو۔ اس کا بھی امکان ہے کہ ان کی تجہیز و تکفین بھی نہ ہو سکے۔ کسی شخص سے قریبی تعلق رکھنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیمار ہو تو اس کی دیکھ بھال اور خدمت کریں اور اس کی ضرورتیں پوری کریں۔ اگر اس کا انتقال ہو جائے تو بہتر طریقہ سے تجہیز و تکفین کریں۔ اس میں غفلت اور کوتاہی اخلاق و شرافت کے بھی منافی ہے اور دین و شریعت کے بھی خلاف ہے۔ بلا شبہ احتیاط کی بھی ایک اہمیت ہے، لیکن احتیاط کے نام پر موت کے ڈر سے بھاگتے پھرنا اور اپنی ذمہ داریوں کو بھول جانا، بہت بڑا جرم ہے۔ چنانچہ اوپر کی حدیث میں ہمیں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں:
**و اذا وقع بارض و انتم بها فلا تخرجوا فراراً منه**
(بخاری، کتاب الطب، باب ما جاء فی الطاعون۔ مسلم، کتاب السلام)
''جب وہ کسی جگہ پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو فرار کے خیال سے اسے نہ چھوڑو۔‘‘
اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ طاعون زدہ مقام کو وقتِ ضرورت چھوڑا بھی جا سکتا ہے، البتہ فرار اختیار کرنا صحیح نہیں ہے۔ جو شخص طاعون زدہ مقام سے نہ بھاگے، اسے شہید کے سے اجر و ثواب کی بشارت دی گئی ہے۔ حضرت عائشہؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتی ہیں: **ليس من عبد يقع الطاعون فيمكث في بلده صابرا يعلم انه لن يصيبه الاّ ما كتب الله الاّ كان مثل اجر الشهيد** (بخاری، کتاب الطب، باب اجر الصابر علی الطاعون)
''جو بندہ بھی طاعون کے پھوٹ پڑنے پر اپنے شہر میں صبر کے ساتھ ٹھہرا رہے اور یہ یقین کرے کہ وہی پیش آئے گا جو اللہ نے لکھ دیا ہے تو اسے شہید کے ثواب کے برابر ثواب ہوگا۔‘‘
طاعون زدہ مقام کو نہ چھوڑنے پر کوئی بھی شخص اس اجرِ عظیم کا حق دار اسی وقت ہوگا، جب کہ وہ جزع فزع اور گھبراہٹ کا مظاہرہ نہ کرے، بلکہ صبر و سکون کے ساتھ رہے اور اسے یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ اور مشیت کے بغیر دنیا کی کوئی بھی چیز اور کوئی بھی وبا اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ جس شخص کے اندر یہ ایمان و یقین ہو اس سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ خود بھی استقامت کا ثبوت دے گا اور دوسروں کو بھی ثابت قدم رکھے گا۔ جو شخص ان حالات میں ہوش و حواس کھو بیٹھے اور جسے اللہ پر بھروسہ ہی نہ ہو وہ دوسروں کو صبر و توکل کی کیا تلقین کر سکتا ہے اور ان کی مدد کی اس سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟
امام نوویؒ نے لکھا ہے کہ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں طاعون ہو، وہاں نہیں جانا چاہیے، البتہ جو شخص وہاں موجود ہے، اسے موت کے ڈر سے بھاگنا بھی نہیں چاہیے۔ ہاں ضرورت پڑنے پر وہ باہر بھی جا سکتا ہے۔ یہی جمہور کا مسلک ہے۔ (نووی: شرح مسلم: ۱۴/ ۲۰۶)
مزید فرماتے ہیں کہ اس میں جس طرح مکروہات اور ان کے اسباب سے بچنے کی تعلیم ہے، اسی طرح مصائب میں اللہ کے فیصلہ پر سرِ تسلیم خم کر دینے کی بھی ہدایت ہے۔ (نووی: شرح مسلم: ۱۴/ ۲۰۷)
حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے ایک طرف تو متعدی امراض سے بچنے اور دور رہنے کا مشورہ دیا ہے اور دوسری طرف جو لوگ ان امراض کا شکار ہو جائیں انھیں کراہت اور حقارت کی نظر سے دیکھنے اور ان سے مکمل قطع تعلق کرنے سے بھی منع کیا ہے۔ یہ انتہائی معتدل اور متوازن رویہ متعدی امراض کو معاشرہ میں پھیلنے سے روکتا ہے اور ان امراض میں مبتلا اشخاص کو کس مپرسی اور بے چارگی کے احساس سے بچاتا ہے۔
موجودہ حالات میں راقم کی کتاب **’صحت و مرض اور اسلامی تعلیمات‘** کا مطالعہ مفید ہوگا۔ اس میں موضوع کے مختلف پہلوؤں پر بحث آئے ہیں۔