سفاری براؤزر کے نیچے موجود شیئر (Share) آئیکن پر ٹیپ کریں۔
اختیارات میں نیچے اسکرول کر کے Add to Home Screen (ہوم اسکرین میں شامل کریں) منتخب کریں۔
اوپر دائیں کونے میں Add پر کلک کریں۔ حیاتِ نو کی ایپ ہوم اسکرین پر شامل ہو جائے گی!
سفاری براؤزر کے نیچے موجود شیئر (Share) آئیکن پر ٹیپ کریں۔
اختیارات میں نیچے اسکرول کر کے Add to Home Screen (ہوم اسکرین میں شامل کریں) منتخب کریں۔
اوپر دائیں کونے میں Add پر کلک کریں۔ حیاتِ نو کی ایپ ہوم اسکرین پر شامل ہو جائے گی!
نو منتخب صدرِ انجمن جناب طارق اکرام اللہ فلاحی صاحب سے خصوصی گفتگو انٹرویوکار: محمد ارشاد عالم فلاحی
سوال: سب سے پہلے آپ کو انجمن طلبۂ قدیم جامعۃ الفلاح کا نویں صدر منتخب ہونے پر مبارک باد۔ آپ جامعۃ الفلاح کے اولین ادوار کے فارغین میں سے ہیں۔ 1976ء میں فراغت کے بعد آپ نے تعلیمی، سماجی اور رفاہی میدانوں میں طویل خدمات انجام دیں، بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کی، سعودی سفارت خانے میں ذمہ داریاں نبھائیں، مختلف سماجی اداروں سے وابستہ رہے اور اس وقت بھی متعدد تعلیمی اداروں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ ایسے میں سب سے پہلے یہ جاننا چاہیں گے کہ بطور صدرِ انجمن آپ کا بنیادی وژن کیا ہے؟ آپ انجمن کو کس سمت میں لے جانا چاہتے ہیں؟
جواب: صدرِ انجمن – طارق اکرام اللہ فلاحی میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع دیا۔
میرے نزدیک انجمن طلبۂ قدیم ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں جامعۃ الفلاح کے فارغین ایک دوسرے سے ملتے ہیں، تبادلۂ خیال کرتے ہیں اور اپنے تجربات و افکار کا اشتراک کرتے ہیں۔ برنارڈ شا کا ایک معروف قول ہے کہ اگر دو افراد ایک ایک سیب کا تبادلہ کریں تو ہر ایک کے پاس ایک ہی سیب رہے گا، لیکن اگر دونوں اپنے اپنے خیالات کا تبادلہ کریں تو ہر ایک کے پاس دو خیالات ہوں گے، بلکہ ایک نیا خیال بھی جنم لے سکتا ہے۔ یہی انجمن کی اصل روح ہے۔
انجمن بذاتِ خود کوئی الگ مقصد رکھنے والی تنظیم نہیں، بلکہ جامعۃ الفلاح کے مقاصد کی تکمیل کا ایک ذریعہ ہے۔ جامعہ نے اپنے طلبہ کی جو فکری و دینی تربیت کی ہے، اس کے اثرات عملی زندگی میں نمایاں ہوں، فارغین معاشرے میں ان اقدار کو عام کریں اور مادرِ علمی کی ہر ممکن معاونت کریں، یہی انجمن کے بنیادی مقاصد ہیں۔ اس کے علاوہ باہمی تعاون، رفاہی سرگرمیاں، مشاورت اور ضرورت مندوں کی مدد جیسی خدمات یقیناً اہم ہیں، مگر وہ اس بنیادی مقصد کی توسیع ہیں۔
سوال: آپ سے پہلے بھی انجمن کے مختلف صدور نے اپنے اپنے دور میں خدمات انجام دی ہیں۔ آپ کے دورِ صدارت کو ان سے کس اعتبار سے مختلف سمجھا جائے؟
جواب: یہ حقیقت ہے کہ میری مصروفیات غیر معمولی نوعیت کی ہیں اور میں مختلف اداروں میں عملی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہوں، لیکن اس کے باوجود میں نے صدارت سنبھالتے ہی ایک بات کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں انجمن بعض داخلی اختلافات اور انتشار کا شکار رہی ہے۔ میری کوشش یہ ہے کہ مختلف الخیال فارغین کو ایک بار پھر جامعۃ الفلاح کے مشترکہ مقاصد کے تحت ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ فارغین نے مجھ پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے، اس کا تقاضا یہی ہے کہ انجمن میں اتحاد، اعتماد اور باہمی تعاون کی فضا مضبوط ہو۔ میں پوری سنجیدگی کے ساتھ اس سمت میں کام کرنا چاہتا ہوں۔
سوال: آپ مختلف سماجی اور رفاہی اداروں سے بھی وابستہ ہیں۔ ایسے میں انجمن کے مقاصد اور آپ کے ذاتی وژن میں کس حد تک ہم آہنگی ہے؟ اور ان مقاصد کو عملی شکل دینے کے لیے آپ کی حکمتِ عملی کیا ہوگی؟
جواب: بعض لوگوں کی طرف سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ میں مختلف دباؤ کے تحت کام کرتا ہوں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ میری کسی سے ذاتی وابستگی یا مفاد وابستہ نہیں ہے کہ میں کسی دباؤ کو قبول کروں۔
میرے تعلقات مختلف دینی اور سماجی حلقوں سے ضرور ہیں، کیونکہ معاشرے میں رہتے ہوئے تعلقات کے بغیر کوئی اجتماعی خدمت ممکن نہیں ہوتی۔ سعودی سفارت خانے میں خدمات کے دوران بھی مجھے قومی سطح پر کام کرنے کا موقع ملا، خصوصاً مساجد، مدارس، ہسپتالوں اور رفاہی منصوبوں کے سلسلے میں۔ بعد میں بھی اللہ تعالیٰ نے مختلف سماجی اور ملی خدمات کی توفیق عطا فرمائی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی تجربات انجمن کے لیے بھی مفید ثابت ہوں گے اور انہیں فارغین کی خدمت اور جامعہ کی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
سوال: آج جامعۃ الفلاح کے فارغین ملک و بیرونِ ملک مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے درمیان مضبوط روابط اور مؤثر نیٹ ورکنگ کے لیے آپ کا کیا منصوبہ ہے؟
جواب: الحمدللہ، مجھے ملکی و بین الاقوامی سطح پر متعدد تعلیمی و سماجی اداروں اور اکابرین کے ساتھ کام کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ (سعودی عرب) میں طالب علمی اور کونسلر کی حیثیت سے خدمات کے دوران، مجھے جامعہ کی طرف سے ہندوستان، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، مالدیپ اور برما کے لیے اعزازی خصوصی نمائندہ بھی مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں، سعودی ہائر ایجوکیشن کی طرف سے یورپ کے تعلیمی مشن کے لیے میرا انتخاب ہوا، اور اب بھی میں بین الاقوامی نوعیت کے فعال مسلم اداروں سے منسلک ہوں۔
ان تجربات نے مجھ پر یہ حقیقت واضح کی کہ روابط ہی ترقی کی بنیاد ہیں۔ میری خواہش ہے کہ معاش کی غرض سے بیرونِ ملک مقیم ہمارے فارغین کے مابین ایک ایسا مضبوط رشتہ قائم ہو، جس سے باہمی مشوروں اور تجربات کا تبادلہ آسان ہو سکے۔
اس سمت میں پہلا قدم اٹھاتے ہوئے، ہم ہندوستان اور نیپال و کویت جیسی بیرونِ ملک علاقائی اکائیوں کے انتخابات مکمل ہونے کے فوراً بعد تمام نو منتخب صدور اور سیکریٹریوں کا ایک فعال رابطہ گروپ تشکیل دے رہے ہیں۔
جہاں تک جامعہ کی تعمیر و ترقی کا سوال ہے، تو میری ایک تعمیری شکایت یہ رہی ہے کہ ذمہ داران نے فارغین کو اس طرح اعتماد میں نہیں لیا جیسا کہ حق تھا۔ اگر مقامی فارغین کو مخلصانہ طور پر اعتماد میں لے کر دست و بازو بنایا جائے، تو جامعہ کی معاونت کا کام نہ صرف مستقل بلکہ نہایت آسان ہو جائے گا۔ اب ہمارا ہدف اسی باہمی اعتماد کی بحالی ہے۔
سوال: بزرگ فارغین کی جانب سے یہ احساس بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں جامعۃ الفلاح کے تعلیمی اور تربیتی معیار میں کمی آئی ہے۔ آپ اس رائے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ اور بطور صدرِ انجمن اس سلسلے میں انجمن کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟
جواب: یہ ایک نہایت حساس اور اہم موضوع ہے، جس پر سرسری گفتگو مناسب نہیں۔ اس حوالے سے گزشتہ آن لائن شوریٰ اجلاس میں بھی بعض اراکین نے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد طے پایا کہ اس موضوع پر الگ سے تفصیلی نشست منعقد کی جائے۔
اسی لیے آئندہ شوریٰ اجلاس میں تعلیمی و تربیتی معیار کو باقاعدہ ایجنڈے میں شامل کیا جا رہا ہے، تاکہ ذمہ دارانِ جامعہ اور اراکین کی مشاورت سے اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکے۔
میرا یقین ہے کہ ایسے بنیادی مسائل کا حل باہمی مشاورت، مشترکہ فکر اور مثبت مکالمے ہی سے ممکن ہے، اور انجمن اس سلسلے میں اپنا تعمیری کردار ادا کرے گی۔