بعض نفوسِ قدسیہ دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہوتے؛ ان کا وجود خود اپنی دلیل ہوتا ہے اور ان کی زندگی وقت کے سینے پر ایسا نقش چھوڑ جاتی ہے جسے مٹانا ممکن نہیں ہوتا۔ وہ تاریخ کے اوراق میں نہیں بلکہ انسانوں کے دلوں میں نقش رہتے ہیں، اینٹ گارے کے اداروں میں نہیں بلکہ بیدار ذہنوں کی یادوں میں سانس لیتے ہیں۔
قاری محمد عرفان شمسیؒ بھی ایسے ہی ایک چراغِ سحر تھے؛ وہ چراغ جو تاریکیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے رات بھر خود کو جلاتا ہے، مسافروں کو منزل کا سراغ دیتا ہے، اور جب صبح کا اجالا کائنات کو اپنی آغوش میں لینے لگتا ہے تو خاموشی سے بجھ جاتا ہے۔ مگر اس کی خاموشی اندھیرے کی بازگشت نہیں ہوتی بلکہ اس نور کا تسلسل ہوتی ہے جو وہ سحر کے سپرد کر کے رخصت ہوتا ہے۔
یہ داستانِ شوق اسی چراغِ سحر کی ہے جس نے علم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا، جس کی قرآنی صداؤں نے دلوں کو گرمایا، آنکھوں کو نم کیا اور بے شمار لوگوں کے اندر ایمان و یقین کی نئی روشنی پیدا کی۔ اس نے دعوت، خدمت اور اخلاص کو اپنی زندگی کا شعار بنا لیا تھا۔
ان کے وصال کے وقت بظاہر کئی علمی منصوبے ادھورے رہ گئے اور کئی خواب تعبیر کے منتظر تھے، مگر جو روشنی وہ چھوڑ گئے وہ آج بھی راہوں کو منور کر رہی ہے اور آنے والوں کو راستہ دکھا رہی ہے۔
بستانِ علم کا پہلا شگوفہ… رامپور سے فلاح تک
۳۰ مارچ ۱۹۵۱ء کو رامپور کی تاریخی اور علمی سرزمین پر ایک ایسے طفلِ سعادت مند نے آنکھ کھولی، جسے آگے چل کر قراءت، علم اور دعوتِ دین کا استعارہ بننا تھا۔
تخلیقِ کائنات کے اس شاہکار کی تشنہ لبی نے سب سے پہلے مدرسہ تجوید القرآن کے چشمۂ صافی کا رخ کیا، جہاں انہوں نے قرآن کریم کو اپنے سینے میں محفوظ کیا۔ اسی معصومانہ دور میں انہیں قاری عبدالواحد رامپوری صاحب جیسی یگانہِ روزگار ہستی سے سندِ قراءت حاصل کرنے کا شرف ملا۔ یہ ان کے مستقبل کی پہلی مضبوط بنیاد تھی۔
علم کی یہ تڑپ انہیں جامعۃ الفلاح کی دہلیز تک لے آئی۔ فلاح کے زیتونی ماحول میں انہوں نے سات برس گزارے۔ یہ صرف سات سال نہیں ، بلکہ یہ ان کی شخصیت کی تراش خراش کا سنہری دور تھا۔ یہیں ان کے علمی ذوق کو جلا ملی، ان کا قرآنی اسلوب نکھرا، اور خدمتِ خلق کا جذبہ ان کی رگ و پے میں سرائیت کر گیا۔ وہ اپنے دور میں جامعۃ الفلاح کے ان مایہ ناز طلبہ میں شمار ہوتے تھے، جن کی سحر انگیز آواز، وسیع مطالعہ اور باوقار قراءت اساتذہ اور طلبہ دونوں کے حلقوں میں رشک کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی۔
قاہرہ کے افق پر فلاح کا سفیر…ازہر کی تاریخی دہلیز پر
جامعۃ الفلاح کے علمی حصار سے نکل کر جب انہوں نے نیل کے کنارے آباد جامعہ ازہر (قاہرہ) کا رخ کیا تو یہ صرف ایک طالب علم کی ہجرت نہیں تھی بلکہ ایک نئے علمی ارتقاء کا سنگِ میل تھا۔
وہ جامعۃ الفلاح کے اُن اولین فضلاء میں شامل تھے جنہوں نے جامعہ ازہر کی تاریخی درسگاہ میں داخلہ حاصل کیا، اور اس اعتبار سے جامعۃ الفلاح کے دوسرے ازہری تھے۔ قاہرہ کے اجنبی ماحول، فصیح عربی کے معرکہ آرا میدانوں اور منفرد نظامِ تعلیم میں انہوں نے جلد اپنی علمی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور ایک ممتاز مقام حاصل کیا۔
جامعۃ الفلاح سے ان کی وابستگی صرف ایک سابق طالب علم کی حد تک نہ تھی، بلکہ وہ اس ادارے کی علمی ترقی اور وقار کے لیے ہمیشہ فکرمند رہتے تھے۔ جامعہ ازہر سے جامعۃ الفلاح کے روابط، اس کی اسناد کے معادلے اور ادارے کی علمی شناخت کو مضبوط بنانے کے سلسلے میں وہ دل چسپی لیتے رہے اور حسبِ استطاعت اپنی کوششیں بھی جاری رکھیں، تاکہ آنے والے طلبہ کے لیے علمی مواقع مزید ہموار ہو سکیں۔
وہ لحنِ داؤدی جس نے مصر کو مسحور کر دیا
مصر، جو صدیوں سے حسنِ قراءت اور فنِ تلاوت کا مرکز ہے، وہاں ہندوستان کے اس نوجوان نے اپنی آواز کا ایسا سحر جگایا کہ اہلِ مصر بھی معترف ہو گئے۔ اسکندریہ کے عالمی قراءت کے مقابلے میں انہوں نے پہلی پوزیشن حاصل کی اور غیر معمولی اعزاز سے نوازے گئے۔ اس شاندار کامیابی کے اعتراف میں اُس وقت کے مصری وزیرِ اعظم نے ایک خصوصی تقریب میں انہیں اعزاز اور حجِ بیت اللہ کے ٹکٹ سے نوازا۔
اسی سال ان کی علمی و تعلیمی میدان میں بھی غیر معمولی کارکردگی کا اعتراف کیا گیا اور انہیں یونیورسٹی کی طرف سے ” مثالی طالب علم” (Ideal Student) کے باوقار اعزاز سے نوازا گیا۔ یہ دونوں کامیابیاں دو الگ پہلو رکھتی تھیں: ایک قراءت کی دنیا میں امتیاز، اور دوسرا تعلیمی میدان میں علمی برتری۔
لیکن ان کی اصل عظمت محض خوش الحانی یا فنی مہارت تک محدود نہ تھی، بلکہ ان کی قراءت سوز و تاثیر کا پیکر تھی۔ وہ قرآن کو صرف پڑھتے نہیں تھے بلکہ اسے محسوس کرتے اور سامعین کو بھی اس کیفیت میں شریک کر لیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی تلاوت سماعت سے زیادہ دلوں پر اثر کرتی تھی۔
ان کی تقریروں کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ جب قرآن کی کوئی آیت یا سیرتِ نبوی ﷺ کا کوئی ایمان افروز واقعہ بیان کرتے تو محسوس ہوتا کہ وہ صرف ایک مقرر نہیں بلکہ ایک صاحبِ دل انسان ہیں جو پہلے خود اس کیفیت سے گزرتے ہیں، پھر سامعین کو اس میں شریک کر لیتے ہیں۔ اسی لیے ان کی گفتگو سننے والے صرف معلومات حاصل نہیں کرتے تھے بلکہ قرآن اور سیرت کو اپنے دل کی دنیا میں محسوس بھی کرتے تھے۔
ان کی خوش الحانی اور اثر انگیزی کا چرچا مصر تک محدود نہ تھا۔ جامعۃ الفلاح کے اُن ایام کو یاد کرتے ہوئے معاصرین بیان کرتے ہیں کہ جب مغرب کی اذان کا وقت ہوتا اور کھیل کے میدانوں میں مصروف طلبہ کو نماز کے لیے بلانا مقصود ہوتا تو بالخصوص انہی سے اذان دلوائی جاتی تھی۔ جونہی ان کی پُرسوز آواز فضا میں بلند ہوتی، میدانوں میں کھیلتے ہوئے بچے اور نوجوان بے اختیار مسجد کی طرف دوڑ پڑتے۔ گویا یہ صرف اذان نہ تھی بلکہ روح کی گہرائیوں سے ابھرنے والی وہ صدا تھی جو دلوں کو اپنے رب کی بارگاہ کی طرف کھینچ لاتی تھی۔
بعد کے برسوں میں قطر میں بھی جب وہ تلاوت کرتے یا قرآن سناتے تو سامعین ان کی قراءت کے سوز، حسنِ ادائیگی اور روحانی اثر کا خصوصی ذکر کرتے تھے۔ یہ وہ نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ ہر کسی کو عطا نہیں کرتا، ایک ایسی آواز جو کانوں سے زیادہ دلوں کو سنائی دیتی تھی۔
ان کا علمی سفر محض قراءت کی حد تک محدود نہ تھا، بلکہ وہ علم کی گہرائیوں میں اترنے والے ایک سچے غواص تھے۔ انہوں نے جامعہ ازہر کے “کلیہ اصول الدین” سے تفسیر و حدیث کے شعبے میں تعلیم حاصل کی اور جید جداً (First Class) کے اعلیٰ ترین درجے کے ساتھ لیسانس (گریجویشن) کی ڈگری حاصل کی۔
ان کا علمی ملکہ اس وقت مزید کھل کر سامنے آیا جب انہوں نے ایم اے کے لیے “سورۃ النازعات و بیان اھدافھا“کے عنوان سے ایک گراں قدر اور اچھوتا تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ مصری اساتذہ اور ممتحنین نے ان کی باریک بینی اور اسلوبِ نگارش کی داد دیتے ہوئے اس مقالے کو “ممتاز” (Excellent) کے درجے سے نوازا۔ وہ پی ایچ ڈی کے آخری مراحل میں داخل ہو کر علم کی معراج کو چھونے ہی والے تھے کہ مشیتِ ایزدی نے ان کی زندگی کا رخ ایک دوسرے میدان کی طرف موڑ دیا۔
دوحہ…جہاں ایک فرد ادارہ بن گیا
۱۹۸۳ء ان کی زندگی میں ایک انقلابی موڑ ثابت ہوا جب وہ حجِ بیت اللہ کی سعادت کے لیے ارضِ مقدس حاضر ہوئے۔ یہ ان کا دوسرا حج تھا، جو دراصل مصر کے عالمی مسابقۂ قراءت میں پہلی پوزیشن کے اعتراف میں حکومتِ مصر کی طرف سے بطورِ انعام عطا ہوا تھا۔
حج ہی کے دوران ان کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا۔ مکہ مکرمہ میں شیخ عبدالعزیز بن بازؒ کے دفتر میں انہیں آفس سیکریٹری کی ذمہ داری سونپی گئی، اور یوں ایک سال تک مکہ، طائف اور ریاض میں شیخ محترم کی قربت اور خدمت کا نادر موقع ملا۔ یہ رفاقت ان کی علمی، دعوتی اور فکری شخصیت کے لیے غیر معمولی نکھار اور پختگی کا ذریعہ بنی۔
انہی ایام میں رابطہ عالمِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے امیر جماعت اسلامی ہند مولانا ابو اللیث اصلاحیؒ اور مرکزی سیکریٹری سید یوسفؒ صاحب مکہ تشریف لائے ہوئے تھے۔ اتفاق سے انھیں دنوں میں شیخ ابن بازؒ نےدعوتی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے قاری صاحب کو دو مقامات، لندن اور قطر کی طرف توجہ دلائی۔
قطر کے ذکر پر سید یوسفؒ صاحب نے نہایت اعتماد کے ساتھ مشورہ دیا کہ وہاں جماعت کا مضبوط حلقہ موجود ہے، اس لیے انہیں وہاں منتقل ہو جانا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے ، قطر میں تحریک اسلامی کے مؤسس جناب وحید داد خان ، اپنے بھائی یعقوب شاہ میاں کے نام تعارفی خطوط بھی لکھے، جو قطر میں اسلامی تحریک کے ابتدائی معماروں میں شمار ہوتے تھے۔
۱۹۸۴ء کے اواخر میں جب وہ قطر پہنچے تو جناب عبد الوحید داد خانؒ اور سید یعقوب شاہ میاں نے نہ صرف ان کا پرتپاک استقبال کیا بلکہ انہیں اپنے اہلِ خانہ کا فرد بنا لیا۔ ابتدائی ایام میں رہائش، تعارف، دعوتی سرگرمیوں اور سماجی روابط کے ہر مرحلے میں دونوں بزرگوں کی شفقت ان کے شاملِ حال رہی۔ یہ تعلق رسمی رفاقت تک محدود نہ رہا بلکہ تا حیات ایک خانوادۂ محبت کی صورت قائم رہا۔
اس طرح چند ہی دنوں میں یہ سرزمین ان کے لیے اجنبی نہیں رہی۔ یہی وہ ابتدائی بنیاد تھی جس پر بعد کے برسوں میں جماعت اسلامی، اہل حدیث اور تبلیغی جماعت سمیت مختلف دینی حلقوں میں ان کی غیر معمولی مقبولیت قائم ہوئی۔
قطر میں ان کی خدمات ایک فرد کی سطح تک محدود نہ رہیں۔ مرکز الدعوۃ والارشاد میں وہ دینی رہنمائی، تدریس اور علمی مشاورت کے ساتھ ساتھ اردو داں طبقے کے ایک معتبر علمی مرجع بن گئے۔
ریڈیو قطر FM107 کے پروگرام “نورِ اسلام” سے ان کا ۱۷ سالہ تعلق انہیں خطے بھر میں گھر گھر متعارف کر گیا۔ لائیو پروگراموں میں وہ فقہی، سماجی اور خاندانی مسائل کا نہایت مدلل، نرم اور شفقت آمیز انداز میں جواب دیتے، جس سے لاکھوں سامعین کی علمی پیاس بجھتی رہی۔ اسی طرح جمعہ کے خطبات کے اردو ترجمے کے ذریعے وہ نوجوانوں اور تعلیم یافتہ طبقے کے لیے علمی و روحانی کشش کا مرکز بن گئے۔ البِدع کی مسجد میں ان کی گفتگو ترجمہ سے زیادہ بلکہ فکر و روح کی تازگی کا ذریعہ ہوتی تھی۔
دعوت و تدریس کے ساتھ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت بھی ان کی زندگی کا اہم مشن تھا۔ ان کی صحبت سے بے شمار نوجوانوں نے قرآن فہمی، دینی شعور اور فکری پختگی حاصل کی۔ ان کی گفتگو علم و آگہی کے ساتھ سوچنے اور سمجھنے کا سلیقہ بھی عطا کرتی تھی۔ ان کی خطابت کا خاصہ یہ تھا کہ وہ جذباتی خطیب نہیں تھے؛ ان کی گفتگو مستند حوالوں، علمی تحقیق اور مضبوط دلائل پر قائم ہوتی تھی۔ وہ جذبات کو علم کے تابع رکھتے تھے، جس کی وجہ سے عام سامع کے ساتھ اہلِ علم بھی ان کی محفلوں میں برابر شریک رہتے تھے۔
ان کی خطابت کی ایک امتیازی خصوصیت ان کی زبان بھی تھی۔ ان کی اردو نہ صرف شستہ اور ٹکسالی تھی بلکہ اس میں ادبی وقار، محاورے کی صحت اور لہجے کی لطافت نمایاں تھی۔ ان کی گفتگو میں نہ علاقائی رنگ غالب آتا تھا اور نہ کسی مصنوعی خطابت کا شائبہ۔ وہ نہایت سلیس، باوقار اور ادیبانہ انداز میں گفتگو کرتے، جس کی وجہ سے اہلِ علم، ادباء اور عام سامع سب یکساں طور پر ان کی زبان کے حسن سے متاثر ہوتے تھے۔
علمی اور فکری نشستوں کے فروغ کے لیے وہ ہمیشہ سرگرم رہے۔ محترم عبد الوحید داد خان صاحب اور دیگر رفقاء کے ساتھ مل کر علمی حلقوں، فکری نشستوں اور مطالعۂ قرآن کی مجالس کو منظم کرتے رہے، تاکہ نئی نسل کتاب اور فکر سے اپنا رشتہ مضبوط رکھ سکے۔
یوں وہ بتدریج ایک فرد سے بڑھ کر ایک ایسا علمی و دعوتی مرکز بن گئے جس کے گرد علم، تربیت، اخوت اور خیر خواہی کے دائرے تشکیل پاتے گئے۔ ان سے ملنے والا ہر شخص کچھ نہ کچھ لے کر اٹھتا تھا…علمی رہنمائی، روحانی سکون، اخلاقی سبق یا زندگی کا نیا حوصلہ۔
خاموش قلم کار… بکھرے ہوئے موتی اور یادوں کے اثاثے
قاری صاحب کی شخصیت کا ایک نہایت اہم، مگر نسبتاً غیر معروف پہلو ان کی تحریری و تحقیقی خدمات تھیں۔ اردو اور عربی دونوں زبانوں پر یکساں دسترس نے ان کے قلم کو ایک مستقل روانی عطا کر رکھی تھی۔ وہ محض خطیب یا معلم نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے خاموش قلم کار بھی تھے جو علمی موضوعات پر مضامین، خطبات کے فکری خاکے اور تحقیقی نکات تسلسل کے ساتھ محفوظ کرتے رہتے تھے۔
مرکز الدعوۃ و الارشاد کے تحت ان کی ایک مستقل ذمہ داری تھی کہ وہ ہر ماہ ایک اردو اور ایک عربی مضمون تحریر کریں۔ یہ مضامین وہ نہایت محنت، توجہ اور ذاتی کاوش سے اپنے ہاتھ سے لکھتے، اور ان کی فائلیں ترتیب دیتے جاتے تھے۔ یوں تقریباً بارہ برس کے عرصے میں ایک ایسا قیمتی علمی ذخیرہ تیار ہو چکا تھا جسے اگر محفوظ رہتا تو باقاعدہ ایک یا ایک سے زائد ضخیم کتابوں کی صورت میں شائع کیا جا سکتا تھا۔
مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ان کی وفات کے بعد جب رہائش کی منتقلی کا مرحلہ پیش آیا اور بن عمران سے فریج کلیب منتقل ہونا ہوا، تو سامان کی ترتیب و تنظیم کے دوران وہ کارٹن، جن میں یہ قیمتی فائلیں محفوظ تھیں، بدقسمتی سے کہیں گم ہو گئے۔ ان کی اہلیہ محترمہ کو جب اس علمی خزانے کا خیال آیا تو اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ یوں وہ تحریری اثاثہ، جو دراصل ان کی راتوں کی محنت، دنوں کے مطالعے اور فکری کاوشوں کا نچوڑ تھا، وقت کی گرد میں کہیں گم ہو گیا۔ حقیقت میں وہ فائلیں ، ایک زندہ ذہن کی علمی یادگاریں تھیں، جن کے ضائع ہو جانے کا دکھ ان کے اہلِ خانہ اور قریبی احباب کے دلوں میں آج بھی تازہ ہے۔
جادۂ اخلاق کا مسافر
ان کا عمل ان کے علم کا آئینہ دار تھا۔ وہ حسنِ اخلاق، شفقت، حلم اور کسرِ نفسی کا ایسا مجسم نمونہ تھے کہ ان سے ملنے والا شخص ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔ ان کی زندگی صلہ رحمی، والدین کی خدمت اور اہلِ خانہ کے ساتھ محبت و اپنائیت سے عبارت تھی۔ وہ ضرورت مندوں کی مدد میں ہمیشہ پیش پیش رہتے، بسا اوقات دوسروں کے لیے خود تنگی برداشت کر لیتے، مگر کبھی شکایت کا شائبہ تک نہ آنے دیتے۔ ان کا شیوہ اپنے ساتھیوں اور ہم عصروں کے کاموں کو آسان بنانا تھا۔ ان کے نزدیک دین محض وعظ و کتاب کا نہیں بلکہ عمل اور کردار کا نام تھا۔
ان کا حلقۂ تعلق کسی ایک جماعت یا مکتبِ فکر تک محدود نہ تھا۔ جماعتِ اسلامی، اہلِ حدیث اور تبلیغی جماعت کے ذمہ داران سب ہی ان کا یکساں احترام کرتے تھے، اور ان کی وفات پر مختلف حلقوں کا اظہارِ محبت ان کی وسعتِ مزاجی کا روشن ثبوت تھا۔ مخالفانہ حالات اور تلخ تجربات کے باوجود ان کا طرزِ عمل ہمیشہ یکساں رہا۔ فکری اختلافات اور ناگوار رویّوں کے باوجود انہوں نے نہ کبھی شکوہ کیا، نہ غیبت کا راستہ اپنایا، نہ انتقام لیا اور نہ بدسلوکی کا جواب بدسلوکی سے دیا۔ وہ خاموشی، صبر اور حسنِ ظن کے ساتھ اپنا کام کرتے رہے۔
ادا جعفری کے الفاظ میں گویا ان کی کیفیت یہ تھی:
ان کی یہی خاموش استقامت وقت کے ساتھ بہت سے اختلافات کی حدّت کو ماند کرتی گئی، مگر ان کا حسنِ اخلاق، وقار اور خیر خواہی لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ان سے ملنے والا شخص انہیں صرف ایک عالم یا قاری کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ایسے مخلص خیر خواہ کے طور پر یاد رکھتا تھا جو تعلق نبھانا جانتا تھا۔ ان کی مجلس میں مختلف حلقوں اور مختلف مزاجوں کے لوگ یکساں اپنائیت محسوس کرتے تھے، کیونکہ ان کے خلوص، وسعتِ ظرف اور محبت آمیز رویّے نے بہت سے فاصلے خود بخود مٹا دیے تھے۔
مہمان نوازی… ایک مکمل داستان
مہمان نوازی گویا ان کی فطرت اور مزاج کا حصہ تھی۔ قاہرہ کی طالب علمی ہو یا دوحہ کی علمی و دعوتی زندگی، ان کا گھر مسافر، طالب علم، عالمِ دین اور دینی کارکن کے لیے ایک بے تکلف پناہ گاہ اور کھلا مہمان خانہ بنا رہا۔ جامعہ ازہر کے ایام میں ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور پورے برصغیر سے آنے والے طلبہ و مسافروں کے لیے ان کا دروازہ ہمیشہ وا رہا۔ اجنبی دیار میں آنے والوں نے نہ صرف رہائش اور طعام پایا بلکہ ایسی اپنائیت اور شفقت بھی دیکھی جس نے پردیس کی اجنبیت کو گھر کی مانوس فضا میں بدل دیا۔ یوں قاہرہ میں ان کا گھر ایک ایسے مرکز کی صورت اختیار کر گیا تھا جہاں برصغیر سے آنے والے طلبہ اور مسافر اپنے پن کا احساس پاتے تھے۔ ان کی مہمان نوازی محض رسمی خدمت نہ تھی بلکہ خلوص، تواضع اور محبت کا عملی اظہار تھی۔ کبھی وہ خود اپنے ہاتھوں سے کھانا تیار کرتے، مہمانوں کو محبت سے بٹھاتے اور بار بار اصرار کے ساتھ خدمت کرتے، جیسے میزبان نہیں بلکہ گھر کے بزرگ ہوں۔ ان کی یہ سادگی اور خلوص ملنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ عام طور پر اہلِ علم کے بارے میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ لوگ ان کی ضیافت کا اہتمام کرتے ہیں، مگر قاری صاحب کی طبیعت اس کے برعکس تھی۔ وہ دوسروں کی دعوتیں کم ہی قبول کرتے تھے، البتہ اپنے گھر لوگوں کو مدعو کرنے میں غیر معمولی خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان کے نزدیک دسترخوان بھی دعوتِ دین، اخوت اور دلوں کو جوڑنے کا ایک مؤثر ذریعہ تھا۔ اسی لیے ان کا گھر ہمیشہ مہمانوں سے آباد رہتا اور ان کی خوش دلی سے کی گئی میزبانی دیر تک یاد رہتی۔
یہی روایت قطر میں بھی پوری آب و تاب سے جاری رہی۔ ان کی رہائش گاہیں… فریج عبدالعزیز سے فریج بن عمران تک… جامعۃ الفلاح کے اساتذہ، ذمہ داران اور وفود کے لیے مستقل مرکز بن گئیں۔ ہر آنے والا وفد ان کی ذاتی توجہ، پرتپاک استقبال اور قیام و طعام کے انتظامات سے مستفید ہوتا، اور یہ خدمت ان کے لیے محض ذمہ داری نہیں بلکہ قلبی مسرت کا باعث ہوتی۔
وہ صرف میزبان نہیں بلکہ تعلقات کے معمار تھے۔ ان کے دسترخوان سے اٹھنے والا ہر شخص صرف کھانا نہیں بلکہ محبت، اخلاص اور اپنائیت کا احساس ساتھ لے کر جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک سے آنے والے علماء، طلبہ اور دینی کارکن آج بھی ان کا ذکر کرتے ہوئے ان کی علمی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی بے مثال مہمان نوازی کو ضرور یاد کرتے ہیں۔
بجھتے چراغ، امنڈتےآنسو
وقت گزرتا گیا، زندگی نشیب و فراز دکھاتی رہی، یہاں تک کہ وہ گھڑی آ پہنچی جس نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا۔ بیماری کے ایام آئے، پھر وقتی بہتری بھی ہوئی، اور وہ ازسرِنو علمی و دعوتی سرگرمیوں میں پوری دل جمعی سے مشغول ہو گئے۔ مدینۃ خلیفہ کے مرکز الدعوۃ و الارشاد کی مرکزی لائبریری کی تنظیم و بہتری میں ان کی دلچسپی نمایاں رہی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ زندگی ایک بار پھر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ رواں ہے، مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ۵ دسمبر ۲۰۰۵ء کو، ۵۴ برس کی عمر میں وہ چراغِ سحر ہمیشہ کے لیے بجھ گیا۔
تھے کتنے ستارے کہ سرِ شام ہی ڈوبے…ہنگامِ سحر کتنے ہی خورشید ڈھلے ہیں
ان کا اٹھ جانا گویا ایک بستی کا اجڑ جانا تھا۔ وہ کسی ایک جماعت یا مکتبِ فکر کے حلقے میں محدود نہ تھے؛ ان کا اخلاص، ان کی محبت اور ان کا درویشانہ اخلاق سب کے لیے عام تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے انتقال کی خبر نے ہر دل کو جھنجھوڑ دیا…جماعتِ اسلامی، اہلِ حدیث اور تبلیغی جماعت سب یکساں طور پر اشکبار تھے، جیسے ہر شخص نے اپنا کوئی اپنا خیر خواہ کھو دیا ہو۔مگر ان کی محبوبیت کا اصل پیمانہ صرف اہلِ علم کا غم نہیں تھا۔ ان کی وفات پر دکاندار، مزدور، ٹیکسی ڈرائیور اور عام لوگ بھی اسی شدت سے رنجیدہ تھے، جو بھی کبھی ان کے اخلاق، مسکراہٹ یا کسی چھوٹے سے احسان سے متاثر ہوا تھا، وہ اس صدمے میں شریک تھا۔ گویا انہوں نے صرف ذہنوں کو نہیں، دلوں کو بھی مسخر کر لیا تھا۔
قطر کی عرب قیادت میں بھی انہیں غیر معمولی قدر و منزلت حاصل تھی۔ سابق وزیرِ اوقاف شیخ عبداللہ دباغ ان سے گہرا قلبی تعلق رکھتے تھے۔ ظاہری قد و قامت کے فرق کے باوجود دونوں کے درمیان محبت ایسی بے تکلف تھی کہ ملاقات کے وقت شیخ صاحب انہیں شفقت سے اپنے بازوؤں میں اٹھا لیتے تھے، جیسے کوئی بزرگ اپنے عزیز کو سینے سے لگا رہا ہو۔ یہ منظر دیکھنے والوں کے لیے محبت اور خلوص کی زندہ تصویر تھا۔ان کے انتقال پر قبرستان کی مسجد میں شیخ عبداللہ دباغ کے رقت آمیز کلمات آج بھی لوگوں کے دلوں میں محفوظ ہیں۔ ان کی آواز بار بار جذبات سے بھر جاتی تھی اور حاضرین بھی آبدیدہ تھے۔ اس لمحے نے یہ گواہی دی کہ مرحوم کی محبت صرف اردو بولنے والوں تک محدود نہ تھی بلکہ عرب اہلِ علم اور قیادت کے دلوں میں بھی وہ ایک خاص مقام رکھتے تھے۔
ان کے انتقال کے چند روز بعد حلقۂ رفقائے ہند، قطر کے زیرِ اہتمام شانتی نکیتن انڈین اسکول، دوحہ میں ایک عظیم الشان تعزیتی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجتماع میں بڑی تعداد میں علماء، دانشوروں، دینی کارکنوں اور برصغیر کے علاوہ عرب دنیا سے تعلق رکھنے والے ان کے محبین نے شرکت کی۔ مقررین نے ان کی علمی خدمات، دعوتی جدوجہد، حسنِ اخلاق اور ذاتی تعلقات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی مغفرت کے لیے اجتماعی دعا کی۔ یہ اجتماع اس بات کا بین ثبوت تھا کہ مرحوم نے مختلف حلقوں اور مختلف قومیتوں کے دلوں میں یکساں محبت پیدا کی تھی۔
اس موقع پر معروف شاعر و ادیب پروفیسر سلیم شاذ نے اپنے تعزیتی قطعے کے ذریعے مرحوم کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا، جو اس اجتماع کی یادگار بن گیا:
وہ اپنے پیچھے کم عمر بچے چھوڑ گئے جنہیں باپ کی شفقت کی شدت سے ضرورت تھی، اور کئی علمی منصوبے بھی۔جامعہ ازہر میں پی ایچ ڈی کا نامکمل سفر، اور وہ عربی و اردو تحریری ذخیرہ جو زمانے کی گرد میں گم ہو گیا۔ مگر ان سب بکھری ہوئی چیزوں کے باوجود ایک چیز مکمل رہی: ان کی یاد، ان کی محبت، اور ان کی وہ خوشبو جو آج بھی دلوں میں رچی بسی ہے۔
چراغ بجھ ضرور گیا، مگر اس کی روشنی باقی رہ گئی۔ اور شاید یہی کسی باکمال زندگی کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ وہ اپنے اختتام کے بعد بھی دوسروں کے دلوں میں اجالا چھوڑ جائے۔ قریبی رفقا کی آنکھوں میں یہ ادھوری داستان غالب کے اس شعر کی صورت اترتی ہے:
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے
روشنی، جو نسلوں میں منتقل ہو گئی
چراغ بجھ گیا، مگر اس کی روشنی باقی رہی؛ بلکہ وقت کے ساتھ پھیلتی چلی گئی۔ یہ روشنی آج بھی ان کے گھر کے ماحول، ان کی اولاد کے کردار اور ان کے مشن کے تسلسل میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ان کے وصال کے بعد ان کی باوقار، صابر اور حوصلہ مند رفیقۂ حیات محترمہ قمر جبیں صاحبہ (فاضلہ جامعۃ الصالحات) نے نہایت استقامت کے ساتھ بچوں کی تربیت اور گھر کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ وہ صرف ماں نہیں رہیں بلکہ ایک مربیہ، معلمہ اور باپ کی کمی پوری کرنے والی سرپرست بن گئیں۔ بعض مخلصین نے اکلوتے صاحبزادے عبدالرحمن کو فوری طور پر روزگار سے وابستہ کرنے کا مشورہ دیا، مگر انہوں نے علم کا راستہ اختیار کیا، اور وقت نے ان کے فیصلے کی حکمت کو ثابت کر دیا۔
قمر جبیں صاحبہ نے MES اسکول میں تدریسی خدمات انجام دیں، خواتین کے دعوتی و تربیتی حلقوں میں سرگرم رہیں اور ناظمہ کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ یوں انہوں نے اپنے شریکِ حیات کے مشن کو خاموشی مگر مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھایا۔ ان ہی کی تربیت اور حوصلہ افزائی کا نتیجہ تھا کہ عبدالرحمن شمسی نے MES اسکول، پھر CNA-Q دوحہ اور بعد ازاں برطانیہ سے انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ آج وہ الجزیرہ نیوز نیٹ ورک میں سینئر انجینئر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور حلقۂ رفقائے ہند کی یوتھ ونگ، انڈین اسلامک یوتھ سرکل (IIYC) کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔ ان کی دو صاحبزادیاں، رمیسا اور رفیدہ، دینی اور عصری تعلیم کے حسین امتزاج کی مثال ہیں۔ جامعۃ الصالحات رامپور سے دینی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ انہوں نے جدید تعلیم میں بھی نمایاں مقام بنایا، طالبات کی تنظیم IIYGC سے وابستہ رہیں، اور آج اپنے گھروں میں دینی اقدار، شائستگی اور وقار کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ قاری محمد عرفان شمسی فلاحی ازہریؒ کا چراغ بجھا نہیں، بلکہ اس کی روشنی نسلوں میں منتقل ہو گئی ہے؛ کبھی علم کی صورت میں، کبھی کردار کی شکل میں، اور کبھی دعاؤں کی صورت میں۔
اللہ تعالیٰ قاری صاحب ؒ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
( خبیب کاظمی- قطر)