مواد کی طرف جائیں (Skip to main content)
علمی، فکری، تحقیقی و دعوتی ترجمان — قائم شدہ: 1978ء
تازہ شمارہ: جولائی تا ستمبر 2026ء

آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا

حجمِ خط:
رسم الخط:
خلاصۂ مقالہ:یہ کیا ہوائیں گزرتی ہوئی ابھی گئی ہیں :

یہ کیا ہوائیں گزرتی ہوئی ابھی گئی ہیں :

ماضی قریب میں دنیائے انسانیت نے ایسی ناگفتہ بہ ساعتوں کا مشاہدہ کیا ہے جسے حقیقی معنوں میں’’ سانسیں تنگ ہوجانے‘‘ کی عملی تصویر سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ کرونا کی عالمی وبا ء نے جس انداز سے ماحول کو مسموم کر دیا تھاگویا اس نے ہوائوں کے بدن پر کانٹے اگادئے ہوں جو ہر ذی روح کی قبا سے ریشم ادھیڑنے کے کام پر مامور ہو۔ گویا ہوائوںنے اپنے ہاتھ میں پتھر اٹھالئے ہوں اورچن چن کر ہرذی نفس کو زخمی کردینے کے درپے ہوں ۔ کوئی بھی سانس ایسا نہیں تھا جو اس وبا ء کی ستم سامانیوں سے محفوظ رہ سکا ہو ۔کوئی اس سے تحفظ کے حصول کے لئے اذیت کی خاک پھانکنے پر مجبور تھا ، کوئی مرض کی زد میں آکر بے حال تھا، کوئی اس کے عوارضات سے زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا، کسی پر اعزہ و اقرباء کی رحلت کا صدمہ پہاڑ بن کر ٹوٹ پڑا تھا ، کسی پر اپنے سرپرست کو کھو دینے کا غم مسلط تھا تو کسی کو اپنے سہارے کی لاٹھی کے ٹوٹ جانے کا رنج کھائے جا رہا تھا ۔ غرض یہ کہ پورا عالم ایک عجیب طرح کی بے سرو سامانی اور وحشت سے دوچار تھا ، ایک عجیب ہوـ‘ کا عالم تھا جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ۔معیشت سے لیکر معاشرت تک انسانی زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہ تھا جو اس کی زد میں آنے سے محفوظ رہ سکا ہو۔

منظور دل کو شرح غم داستاں نہیں بتلائیں کیا کہ درد کہاں ہے کہاں نہیں

سخن سراؤں سے زہرہ جبیں چلے گئے ہیں :

کرونا کی عالمی وبا ء نے جہاں زندگی کے ہر دوسرے شعبے کو متاثر کیا وہیں اس نے انسانی جانوں کے ضیاع کی ایک طویل فہرست بھی مرتب کی ہے۔ کیا عام ، کیا خاص، کیا امیر، کیا غریب ، کیا تاجر، کیا مزدور ، کیا شرفاء، کیا اتقیاء ، کیا محلات ، کیا جھوپڑ پٹیاں ،جہاں جہاں اور جس جس تک اس کی رسائی ہوئی اس نے موت کے پنجے گاڑنے میں کسر نہیں چھوڑی ۔ اس ام الوباء کی تباہ کاریوں کے طفیل بے شمار علمی و ادبی شخصیات نے اس جہان فانی سے اپنے رشتے کو منقطع کرلیا اور اپنی جان کو جان آفریں کے سپرد کردیا۔ متعدد ایسی شخصیتیں جن سے علم و فن اور تہذیب و ثقافت کی بازیافتیں منسوب تھیں نے داعی اجل کو لبیک کہنے میں عافیت سمجھی ۔ کئی ایسے چاند جو سر آسماں اپنی روشنی بکھیرنے میں منہمک تھے نہ صرف یہ کہ ماند پڑگئے بلکہ شاخ فلک سے تعلق کو بحال رکھ پانے میں بھی ناکام رہے ۔ ادباء و شعرا، اطباء و محققین، علماء و سائنس داں غرض یہ کہ علوم و فنون سے جڑے افراد کی ایک بڑی کھیپ آن کی آن میں ہم سے بچھڑ کر خون نے آنسو رونے پر مجبور کر گئی اور ہم ـ’’ میری تمام سرگزشت کھوئے ہوئوں کی جستجو‘‘ کی تفسیر بن کر رہ گئے ہیں ۔

کیا جانے و ہ ستارہ جبیں کون لوگ تھے محراب شب میں نور بچھا کر چلے گئے

جو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ ہم سے بچھڑ گئے :

کووڈ کی وبا میں ہم نے بہتوں کو کھویا ، بہتوں نے ہماری جبینوں پر مفارقت کے داغ ثبت کئے ۔ہمارے والدین نے ہم سے ہاتھ چھڑا لیا جن کی انگلی تھام کر قدم آگے بڑھانے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا،ہم سے ہمارے ان رشتہ داروں نے ناطہ توڑلیا جو ہمارے خونی شریک تھے ، ہمارے وہ رفقائے کار ہم سے دامن چھڑا گئے کہ پیشہ ورانہ زندگی میں جن کی پل پل معیت ہمیں نصیب تھی ، ہمارے وہ دوست واحباب زندگی سے روٹھ گئے جن کے دم سے ہمیں خوش حالی و شادابی کے لمحات میسر تھے ، ہمارے ان اساتذہ نے اپنے سینے میں موجود سانسوں کی لڑی کو توڑ کر پھینک دیا جنھوں نے ہمیں رہ زیست کے انمول قرینوں سے متصف کیا ۔

کس کس کو یاد کیجئے کس کس کو رویئے

بچھڑنے اور زندگی سے روٹھ جانے والے احباب کی اس گوناگونی میں چند ایسے لوگ بھی ہیں جن کے ہجر کا غم ہنوزسینے کا الائو بنا ہوا ہے اور ساعت بہ ساعت شرر بار ہوکر روح کو زخمی کرنے پر آمادہ رہتا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب بھی ان کی یادوں کے بجھے ہوئے چراغ سے مٹی اڑائی جاتی ہے ذہن و خیال کی دیواروں سے روشنی کی تہیں لپٹ جاتی ہیں ۔ ستارے، چراغ، انجم و مہتاب حقیقی معنوں میں ان کی ذات کے استعارے ہیں ۔ رنگ و نور ، خوشبو، پاکیزگی اور حلاوت جیسی صفات جن کی عادات و اطوارکے جھرنوں سے تراوش پانے والے مظاہر ہوتے ہیں جنھیں محسوسات کی بساط پر دور تک اور دیر تک بنے رہنے کا حق حاصل ہوتا ہے ۔چنانچہ ایسی ہی شخصیات میں طب یونانی کی ایک قد آور شخصیت پروفیسر غفران احمد مرحوم کی ذات بھی تھی جن کی رحلت کے سبب ہماری روحیں کلیجہ تھامیں کھڑی ہیں اور ہم کانٹوں سے اپنے زخموں کی رفو گری میں لگے ہوئے ہیں ۔

آسماں کے رخ پہ اپنی ضوفشانی چھوڑ کر چاند رخصت ہوگیا یادیں سہانی چھوڑ کر

وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی :

پروفیسر غفران احمد مرحوم عصری طبی تاریخ کا ایک روشن اور تابندہ باب تھے۔ان کی ہستی شہرت اور مقبولیت کے مدارج سے کہیں آگے محبوبیت کے مقام پر فائز تھی ۔ وہ اذہان کے دریچوں میں قندیل بن کر جگمگاتے رہنے کی تاثیر سے مملو تھے ۔ ان کی ذات دراصل اجالوں کی ایک ایسی رمق تھی جوکسی بھی تاریک خلا کو پر کرنے کی مجاز تھی ۔ ان کی وفات ایک ایسا سانحہ ہے جسے بآسانی خانہ یادداشت سے محو نہیں کیا جا سکتا ۔ فی الوقت خلیل جبران کی تحریر کاایک اقتباس میری نگاہوں کے روبرو رقصاں ہے :

ما زِلْتُ أُؤمِنُ…

أنَّ الإنْسانَ لا یَمُوتُ دُفْعَۃً واحِدَۃً، وَإنَّما یَمُوتُ بِطَریقَۃِ الأجْزاء، کُلَّما رَحَلَ صَدِیقٌ ماتَ جُزْئٌ، وکُلَّما غادَرَنا حبیبٌ ماتَ جُزْئٌ، وکُلَّما قُتِلَ حُلْمٌ مِنْ أحْلامِنا ماتَ جُزْئٌ، فَیَأتِی المَوْتُ الأکْبَرُ لِیَجِدَ کُلَّ الأجْزائِ مَیِّتة فَیَحْمِلُہَا وَیَرْحَلُ..

ترجمہ :

’’میں اب بھی مانتا ہوں کہ انسان ایک دم نہیں مرتا بلکہ وہ ٹکڑوں میں مرتا ہے جب بھی کوئی دوست رخصت ہوتا ہے، ایک حصہ مر جاتا ہے اور جب بھی کوئی محبوب ہم سے جدا ہوتا ہے، ایک حصہ ختم ہو جاتا ہے اور جب بھی ہمارے خوابوں میں سے کوئی ایک خواب مر جاتا ہے، ایک حصہ تحلیل ہو جاتا ہے اور یوں، آخر میں، حتمی موت آتی ہے، جو تمام اجزاء کو مردہ کر دیتی ہے۔ پس وہ اُنہیں اُٹھاتی ہے اور چلی جاتی ہے‘‘۔ 

پروفیسر غفران احمد مرحوم کی رحلت کا صدمہ بھی فی الواقع ایک ایسا ہی صدمہ ہے جو پل پل ہمیں مارتا رہے گا۔وہ ہمارے لئے محض علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبہ علم الادویہ کے ایک لائق و فائق استاذ ہی نہیں تھے بلکہ وہ طبی دنیا کا ایسا خواب تھے جسے ہر آنکھ نے نہ صرف دیکھا تھا بلکہ اسے بہ حسرت تمام سجا کر رکھا تھا۔طب یونانی سے جڑی ہوئی کتنی ہی خوش نما تعبیریں تھیں جنھیں ان کی ذات سے جوڑ کر دیکھا جارہا تھا،کتنے ہی ایسے ناتمام خاکے تھے جن میں ان کی ذات کے توسط سے رنگ بھرا جانا تھا، کتنے ہی ایسے مٹی کے خام نمونے تھے جنھیں سرِ چاک ان کے لمس کوزہ گری سے مشکّل ہونا تھا۔ لیکن قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھاوہ عمر عزیز کی ڈھلوان پر ہی اپنے سیکڑوں چاہنے والوں کو غم زدہ چھوڑ کر کرونا کے ہاتھوں پیوند خاک ہوگئے اور شام ہونے سے قبل ہی موت کی سیاہ چادر میں روپوش ہوگئے۔ راحت اندوری نے غالباً ایسے ہی موقع کے لئے یہ شعر کہہ رکھا تھا:

مذاق اچھا رہے گا یہ چاند تاروں سے میں آج شام سے پہلے ہی ڈھل کے دیکھوں گا

وسعتیں، خاموشیاں، گہرائیاں:

اعظم گڑھ کی شاداب اور زرخیز مٹی کے خمیر سے نمو پانے والے پروفیسر غفران احمد کی شخصیت میں ایک طرف جہاں وہاں کے معتبرترین دینی تعلیمی ادارے جامعۃ الفلاح کی تربیت کا پرتو موجزن تھا وہیں ان کی ذات میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تہذیب کی ساری اشارتیں بھی نمو پذیر تھیں ۔ وہ علم و عمل کے توازن کی اعلیٰ مثال تھے۔ وہ اپنی ہستی میں کسی سمندر سے کم نہ تھے لیکن تبحر علمی سے آراستہ ہونے کے باوجود تند خوئی کو اپنے آس پاس بھی نہیں پھٹکنے دیتے تھے ۔نرم روی ان کے مزاج کا خاصہ تھی ، اکثر اوقات خاموشی کو گفتگو کا وسیلہ اظہار بناتے ، بولتے تو کم گوئی سے دامن استوار رکھتے ۔ کسی موضوع پر اظہار خیال کرتے تو علمیت کے اثر سے ان کی پیشانی چمکتی رہتی۔ ایسے ایسے نکات کو موضوع کا حوالہ بناتے کہ لوگ انگشت بدنداں رہ جاتے اور ان کی وسعت نظری کی داد دئے بغیر خاموش نہ رہتے ۔ فلسفیانہ اور منطقی موضوعات پر بھی ایسے خوبصورت پیرائے میں وضاحت کناں ہوتے کہ وہ آیتوں کی طرح ذہن و دل میں اترتے محسوس ہوتے۔ غالبؔ نے کیا خوب کہا ہے :

فکر میری گہر اندوز، اشارات کثیر کلک میری رقم آموز، عبارات قلیل
میرے ابہام پہ ہوتی ہے تصدق توضیح میرے اجمال سے کرتی ہے تراوش تفصیل

پروفیسر غفران احمد مرحوم کے پاس چیزوں کو دیکھنے اور پرکھنے کا بہت ہی واضح تصور موجود تھا۔فکری و نظریاتی سطح پر ان کے یہاں ایسا شاندار استحکام پایا جاتا تھا جو فی زمانہ لوگوں میں نادر و نایاب ہے۔ وہ وجودی مسائل اورمذہبی و روحانی معاملات ہر ایک حوالے سے اپنی رائے رکھتے تھے۔ خواہ وہ قدیم طبی عناوین ہوں ، یا جدید عصری موضوعات، ان کا تعلق طبی مبادیات سے ہو یا اطلاقیات سے ہر پہلو ان کے یہاں انتہائی شفاف اور الجھائو سے پاک عناصر سے تشکیل پاتا تھا ۔ انھوں نے طب کا علم ہی نہیں حاصل کیا تھا بلکہ اس کے سفرِ ارتقاء کے ہر سنگ میل پربھی ان کی گہری نظر تھی ۔ بظاہر خاموش رہنے والی ان کی ہستی میدان عمل میں ویسی ہی فعال اور سرگرم رہتی تھی ۔ وہ کوتاہیوں اور کمیوں سے گھبرا کر توسنِ عمل کی باگ موڑنے کے قائل نہ تھے بلکہ استقلال اورسخت کوشی کے ساتھ منصب پر ڈٹے رہنے کے حامی تھے ۔ تدریس سے لیکر تحقیق تک ، تالیف سے لے کر ترتیب تک اورادارت سے لے کر تنظیم تک ہر عمل ان کے یہاں اپنی خوبصورت ترین شکل میں انجام کو پہونچتا تھا ۔ ان کے وجود کے کشکول میں متواتر، شائستہ، کھرے، سچے ، صالح اور نیک اطوارسکے کھنکتے رہتے جو لوگوں کی توجہ کا مرکز ٹھہرتے۔ ان کے گلستانِ طینت میں پاکیزگی کے ایسے خوش رنگ پھول کھلتے تھے جس کی کشش بے اختیار خوشبو پسندلوگوں کو اپنی جانب کھینچ لیتی تھی ۔بقول علامہ اقبال ؔ :

نرم دم ِگفتگو ، گرم دم ِجستجو رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک پاز

وہ ترا پھول سا لہجہ و شگفتہ اسلوب:

پروفیسر غفران احمد مرحوم اپنی ذات میں تاروں بھری انجمن تھے ۔ وہ طلباء کے لئے سراپا آئینۂ شفقت، اساتذہ کے محبوب نظر، علمی و ادبی حلقوں میں ممتاز، دوستوں کے درمیان بے تکلف ، داد و ستائش سے بے نیاز، تملق و چاپلوسی سے متنفر، فیاضی و فراخ دلی سے آباد، بے جا تکلفات سے گریزاں، تصنع و بناوٹ سے دور، کبر و ریا وخود نمائی سے پاک،فیاضانہ شان سے زندگی بسر کرنے والے پرکشش اور دلآویز شخصیت کے مالک تھے ۔محفلوں میں عموماً احباب کی گفتگو میں مخل ہونے سے اجتناب کرتے لیکن جہاں ضروری سمجھتے یا جب ان سے بولنے کے لئے کہا جاتا تو پھر ” ساری محفل بھول گئی تیرا لہجہ یاد رہا ” کے مصداق ہو جاتے ۔ وہ یوں تو میدان قلم کے شہسوار تھے لیکن جب کبھی بھی تقریر کی لذتیں ان کے نطق کا بوسہ لینے پر آمادہ ہوتیں اور وہ اپنی رَو میں ہوتے تو سماعتیں شیرینی کشید کرتی رہ جاتیں ۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں گفتگو کرنے پر یکساں قدرت رکھتے تھے تاہم مادری زبان سے بے پناہ محبت کے سبب وہ مقامات جہاں انگریزی میں گفتگو ناگزیر نہ ہوتی اردو کو ہی ترجیح دیتے اور گل افشانی گفتار کی ایسی مثال پیش کرتے کہ زبان و بیان کے دامن شگفتگی سے بھر جاتے ۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک مرتبہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسین کی کسی تقریب میں سخن سرا ہوئے تو طلباء و طالبات کے ناموں کو الفاظ کی لڑی میں اس انداز میں پروکر پیش کیا لوگ حیران تھے کہ جملوں کی معنویت اور اس کے طلسم پر سر دھنیں یا ناموں کے استعمال کی خوش اسلوبی پر عش عش کریں ۔مرزا غالبؔ ایک بار پھر یاد آرہے ہیں :

ترا انداز سخن شانہ زلف الہام تری رفتار قلم جنبش بال جبریل

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ؔہوئے :

استاد محترم پروفیسر غفران احمد مرحوم کی شخصیت ایک انتہائی خلیق اور مہربان مٹی سے وجود پاتی تھی ۔ ان کی ذات بے لوثی، اخلاص اور اپنائیت کا مرقع تھی ۔ ہر کسی کی فریاد رسی کے لئے ہم تن گوش، ہر کسی کے رنج و غم میں شریک ، ہر کسی کے تعاون کے لئے آمادہ ۔ کوئی بھی ان کے در پر کاسہِ ضرورت لے کر آتا تو خالی ہاتھ نہ جاتا ۔ حاجت روائی جیسے ان کے آستانے کی شان تھی ۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا کہ سامنے والے کی پیاس کو از خود محسوس کر لیتے اور بڑھ کر اس کا گلاس بھر دیتے ۔ہر وقت لوگوں کی علمی و قلمی امداد کے لئے بر سر پیکار رہتے ۔ کبھی کسی کی synopsisکو انجام تک پہونچا رہے ہیں ، کبھی کسی کے ریسرچ پروٹوکول کوآخری شکل دے رہے ہیں ، کبھی کسی کی تھیسیس کو اصلاح و ترمیم کے مراحل سے گزار رہے ہیں ، کبھی کسی کے مضمون میں امکانات کے در تلاش کررہے ہیں تو کبھی کسی کی کتاب پر تقریظ لکھ کر اس کی اہمیت میں اضافہ کررہے ہیں ۔ تعاون اور معاونت کا یہ سلسلہ نہ صرف یہ کہ انفرادی سطح پر قائم رہتا بلکہ شعبہ جاتی اور ادارہ جاتی سطح پر بھی وہ اپنی وسعت نظری ،مقصد برآوری اور جاں فشانی کے سبب لوگوں کی نگاہوں کا مرکز ٹھہرتے ۔اکثر اوقات یہ نوبت بھی آ جاتی کہ سارا کام خود ان کے سر پر آن پڑتا جسے وہ تمام تر خوش اسلوبی کے سا تھ اختتام کو پہونچاتے ۔

پروفیسر غفران احمد مرحوم کی شخصیت کا ایک اہم اعجاز یہ بھی تھاکہ وہ ہر ملاقاتی کے دل میں گھر کر جانے کی بے پناہ صلاحیت سے مالامال تھے ۔ ایک عجیب طرز کی شان ِمحبوبیت اور جاذبیت ان کی ذات کا حصہ تھی ۔ جو بھی ان سے ملتا نہ صرف ان کا گرویدہ ہوجاتا بلکہ انھیں اپنا سب سے بڑا ہمدرد اور خیر خواہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتا۔ جس سے بھی ان کے حوالے سے معلوم کرئیے اس کا دامن ان کے کسی نہ کسی احسان سے گراں بار ضرور ملتا ، جس کسی سے بھی ان کا تذکرہ کیجئے وہ ان کے لئے رطب اللسان ہوتا اور ان پر ریشہ خطمی پایا جاتا ۔ طلباء و اساتذہ کی ان کے لئے مدح سرائی تو سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ ان کا آپس میںایک مستقل تعلق اور انسلاک بنا رہتا ہے لیکن دیگر ماتحتوں کی ایک بڑی تعدادجو ان سے محض چند دنوں کی رفاقت کے امین ہیں وہ بھی ان پر ویسے ہی فریفتہ نظر آتے ہیں ۔ کیا وجہ ہے کہ ان کا ذکر خیر آتے ہی لوگوں کی آنکھوں میں ان کے لئے عزت و احترام کی لو روشن ہو جاتی ہے ۔عمیر نجمی نے سچ ہی کہا ہے:

یہ نہیں ہے کہ فقط میں ہی اسے چاہتا ہوں جو بھی اس پیڑ کی چھائوں میں گیا ، بیٹھ گیا

سامنے کوئی بحسنِ انتظام آ ہی گیا :

پروفیسر غفران احمد مرحوم کی فعالیت کا دائرہ بہت وسیع اور متنوع تھا ۔ایک اور پہلو جو ان کی شخصیت کو انفراد بخشتا تھا وہ ان کی انتظامی صلاحیت تھی ۔کم ہی اسکالرس ایسے ہوتے ہیں جو علم اور اس کے متعلقات پر دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ انتظامی امور اور اس کی پیچیدگیوں پر بھی عبور رکھتے ہیں ۔چنانچہ استاذ محترم کوخوش انتظامی میں بھی ملکہ حاصل تھا۔وہ ذمہ داریوں کی مشکل بھری رہ گزر پر بھی بہ سہولت گزرجانے کا حوصلہ رکھتے تھے ۔ اپنی اسی صلاحیت کے سبب انھوں نے تدریس و تحقیق سے وابستہ رہتے ہوئے بھی نہ صرف ملکی و بین الاقوامی علمی اجتماعات اور سیمینارس کے انعقاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ اجمل خان طبیہ کالج اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسین ، بنگلور میں شعبہ علم الادویہ کی صدارت کرتے ہوئے طلباء و اساتذہ اور متعلقین کے دلوں پر راج بھی کیا ۔ علاوہ ازیں این آئی یو ایم میں ڈپٹی ڈائرکٹر شپ کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے آپ نے انتظام کارکی ایک نہ مٹنے والی نظیر بھی چھوڑی ہے ۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ ان کی موجودگی کے باعث اس وقت کے ڈائرکٹر پروفیسر مستحسن علی جعفری صاحب کے شانے جو ذمہ داریوں کے بوجھ سے جھکے رہتے تھے ایسے سبک ہوگئے تھے کہ گویا ان پر کبھی سرگرانی طاری ہی نہ ہوئی ہو ۔

عام طور پر کسی منصب پر فائز ہونے کے بعد صاحب مسند کے لئے ہر کسی کو خوش رکھ پانا ممکن نہیں ہوتا ہے ۔ بعض ضرورتوں کی تکمیل چند ناگفتہ بہ اور نامساعد حالات کے پیش نظر زیر التوا بنی رہتی ہے ۔ کبھی کچھ ایسے تکنیکی مسائل بھی ہوتے ہیں جن کا ادراک صرف ذمہ داران کو ہوتا ہے ، ماتحت افراد ان تک رسائی سے قاصر رہتے ہیں ،ایسی صورت میں عہدہ داروں سے بدگمان اور نالاں ہونے کے وافر مواقع ہوتے ہیں ۔ عام روایت بھی یہی ہے کہ موجودہ افسر کو سابقہ کے مقابلے ہمیشہ ناموزوں قرار دیا جاتا ہے اور ادارے سے جڑے ہوئے زیادہ تر لوگوں کی زبان پر ان کے لئے حرف شکایت ہی پایا جاتا ہے ۔ اس حقیقت سے قطع نظر پروفیسر غفران احمد مرحوم کی شخصیت میں نہ جانے ایسا کون سا سحر تھا کہ خواہ وہ صاحب منصب ہوں یا نہ ہوں ، کسی عہدے پر متمکن ہوں یا نہ ہوں ، کسی ذمہ داری کا بوجھ ان کے سر پر موجود ہو یا نہ ہو ان کی ذاتِ خوش اطوار سے کسی کو نالاں نہیں دیکھا گیا۔ کسی کو بھی ان کے خلاف شکایت کناں نہیں پایا گیا ۔ انہیں تو بس ایک درویش کی طرح اس شعر کا آئینہ بنے رہنے سے مطلب تھا:

کبھی خواص میں شامل کبھی عوام میں ہم لگے ہوئے ہیں زمانے کے انتظام میں ہم

جس کی تحقیق نے قطروں سے نکالے دریا :

پروفیسر غفران احمد مرحوم کے علمی مقام و مرتبے کی رفعت کا سب سے معتبر حوالہ ریسرچ و تحقیق کے تئیں ان کا جنون تھا ۔طبی ریسرچ کے حوالے سے ان کی یہ بے پناہ دلچسپی اورحد درجہ شوق بظاہر ان کے اساتذہ بالخصوص پدم شری پروفیسر حکیم سید ظل الرحمان، پروفیسرکنور محمد یوسف امین صاحب، پروفیسر آفاق احمد صاحب اور پروفیسر نعیم احمد خان کی فیض رسانیوں کا رہین منت معلوم ہوتا ہے جنھوں نے ان میں موجود اتھاہ صلاحیتوں کے دریا کو دریافت کر کے اسے درست اور مناسب سمت عطا کی ۔تاہم ان کی ذاتی للک نے بھی انھیں اس میدان خاص کا سرخیل بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ شعبہ علم الادویہ ، اجمل خان طبیہ کالج کا امتیاز جہاں اس کی قدامت ہے وہیں تکنیکی وسائل کی فراہمی اور جدید علوم سے آراستہ اساتذہ کی موجودگی نے بھی اسے اعلی قدروں کا امین بنایا ہے چنانچہ پروفیسر غفران احمد مرحوم نے مہیا ان دونوں دہلیزکی جبیں سائی میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا اور ان سے خوب خوب کسب فیض کیا ۔ تحقیق کے میدان میں ان کی آگہی کی بڑی وجہ یہ بھی تھی جدید سائنٹفک طبی مجلات و رسائل ان کے مطالعہ کا حصہ ہوتے تھے ۔ ایسے متعدد جرنلس جن سے عام وابستگان طب کی بصارتیں آشنا بھی نہیں ہوتی تھیں ،ان کے مطالعے کی میز کی زینت ہوتے ۔ غالباً یہی وجہ تھی پوسٹ گریجوئیشن کی سطح پر شعبہ علم الادویہ کے ساتھ ساتھ دیگر شعبہ جات کے طلباء بھی اکثر اوقات اَن سلجھی گتھیوں کے ہمراہ ان کی قدم بوسی کے لئے حاضر رہتے اور ان کے حل کے ساتھ خوشی خوشی واپس جاتے ۔ انھوں نے ایم ڈی میں صرف شعبہ علم الاودیہ کے طلباء کی ہی سرپرستی نہیں کی ہے بلکہ وہ دیگر شعبہ جات میں بھی طلباء کے نائب نگراں رہے ہیں ۔

استاذمحترم کی تحقیقی دلچسپیاں یوں تو کسی ایک محور پر مرتکز نہیں تھیں، وہ جسمانی نظام کی ہر کڑی سے یکساں واقفیت رکھتے تھے لیکن امراض نظام بول اورامراض مفاصل سے انھیں خاص علاقہ تھا۔انھوں نے اپنے زیر نگرانی مکمل ہونے والے کل ۳۴ مطالعہ جات میں بول و مفاصل کے مخصوص نظام سے تعلق رکھنے والی دوائوں کی تاثیرات کو پرکھنے میں خاص رغبت دکھائی ہے ۔ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ امراض گردہ پر کام کرنے کے لئے آمادہ طلباء کو انھوں نے اپنی سرپرستی عطا کرنے میں فوقیت دی ہے ۔

لوگ چن لیں جس کی تحریریں حوالوں کے لئے :

پروفیسر غفران احمد مرحوم کا جنون صرف تحقیق کی تکمیل تک محدود نہیں تھا بلکہ معیاری ملکی و بین الاقوامی سائنٹیفک جریدوں میں تحقیقات کی اشاعت کا اہتمام بھی ان کی اولین ترجیحات میں شامل تھا۔ وہ سائنٹفک رائٹنگ کی جملہ باریکیوں سے نہ صرف آشنا تھے بلکہ اس کے بہترین پارکھ بھی تھے ۔اس کا اندازہ ہمیں دوران تعلیم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسین ، بنگلور میں جنرل کلبس میں ان کی آراء سماعت کرنے کے بعد ہوا۔اکثر اوقات ایسا ہوتا کہ وہ نکات جن کوہم کسی خاطر میں لانے سے گریزاں رہتے وہ ان کی داخلیت کے ایسے اعلیٰ جواز پیش کرتے کہ سب حیران رہ جاتے علاوہ ازیں بعض وہ چیزیں جو ہماری نظروں میں بہت معنی خیز ہوتیں ان کی توضیح کے بعد بے وقعت ہو کر رہ جاتیں۔ متعدد عالمی طبی جرائد کے ادارتی بورڈ ، مشاورتی کونسل اور ناقدین کے پینل میں ان کی شمولیت ان کی سائنٹیفک تحریری لیاقت کامنہ بولتا ثبوت ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یونانی طب سے جڑے بے شمار اسکالرس اپنے تحقیقی مضامین کی اشاعت کے لئے ان کی ایک آخری نظرکو لازمی سمجھتے تھے ۔

حقیقی معنوں میں استاذ محترم کی علمی لیاقت سے طبی دنیا کی واقفیت کی سب سے بڑی وجہ ان کے تحقیقی مقالات کی اشاعت ہی تھی ۔ ایک زمانہ تھا کہ یونانی دنیا تحریر و تخلیق کے نام پر ایک یا دو کتابوں کی اشاعت سے آگے کی سوچتی بھی نہیں تھی ۔ تحقیقات کی اشاعت سے تو گویا اسے کوئی علاقہ ہی نہیں تھا ۔ایسے میں اگر کسی کا پہلا تحقیقی مقالہ ہی Elsevierجیسے معتبر ترین پبلشرز کے تحت شائع ہونے والے عالمی جریدے میںمقام پا جائے تو لوگوں کا اس کی طرف بنظر استعجاب دیکھنا واجب ٹھہرتا ہے ۔یقینی طور پر استاذ محترم نے اپنے لئے طبی اشاعت کا ایک ایسا معیار متعین کر رکھا تھا جہاں تک لوگوں کا پہونچنا تو کجا سوچنا بھی ناممکنات میں شامل تھا ۔ بحیثیت تحقیق کار ومعاون محقق ان سے منسوب مجموعی مقالات کی تعداد سو سے بھی زائد پہونچتی ہے۔سوچنے والے اس بات پر بھی مستعجب ہیں ایک ایسا فرد جس کی ابتدائی و ثانوی تعلیم عربی و اردو میڈیم میں کسی مدرسے سے انجام پائی ہو وہ انگریزی زبان پر ایسی بے مثال قدرت کیسے رکھ سکتا ہے کہ اس سے زائد از صد سائنٹیفک مقالات منسوب ہوسکیں ۔ پوری طبی دنیا اس بات کی شاہدہے کہ پروفیسر غفران احمد مرحوم جس انداز سے ٹکسالی اردو بولنے اور لکھنے پر قادر تھے اسی انداز سے انھیں شستہ و شاداب انگریزی بولنے و لکھنے میں مہارت حاصل تھی ۔ بہر حال سچائی تو یہی ہے کہ ان کا قلم حقیقت کی روشنائی سے آشنا تھا اور وہ لوح قلم کے توسط سے زندگی کے عکس کو کاغذ پر اتارنے میں صرف ہوگئے :

ورق ورق تجھے تحریر کرتا رہتا ہوں میں زندگی تری تشہیر کرتا رہتا ہوں

مجھے قریب سے پڑھ سرسری نہ دیکھ مجھے :

پروفیسر غفران احمد مرحوم چونکہ پیشہ ورانہ طور پر سائنٹفک تحقیق سے وابستہ تھے اس لئے ان کی زیادہ تر تحریریں بہ زبان انگریزی پائی جاتی ہیں تاہم ان کی فکری جولانیوں نے اردو کے احسان بھی اٹھائے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اوائل عمری میں اردو فکشن اور شعری ادب سے ان کا گہرا تعلق رہا ہو۔ ناول ، خاکے اور انشائیوں نے فرصت کے لمحات میںان کے لئے بھی دل بستگی کا سامان کیا ہو۔دوران تعلیم انھوں نے افسانے بھی تحریر کئے ہیں جو اقامتی ہالوں کی سالانہ میگزین میں شائع ہوئے ہیں۔علاوہ ازیں ان سے چند دیگر تحریریں بھی منسوب ہیں جو زبان و بیان اور فکر و تخیل کے اعتبار اپنی شناخت آپ ہیں ۔ اردو زبان میں شائع شدہ ان کی تحریریں تعداد میں جتنی کم ہیں ویسی ہی متنوع بھی ہیں ۔ چنانچہ یہ شخصی ، تاریخی ، ادویہ و صیدلہ جاتی ،معالجاتی ،تقریظی اور مقدماتی ادب کا نمونہ ہیں اور ہر پہلو سے متعلقہ ادب میں بطور مثال پیش کئے جانے کی مجاز ہیں ۔

علم الادویہ کے میدان میں پروفیسر غفران احمد مرحوم کی اردو تحریر ایک انتہائی اہم موضوع پر تالیف کردہ ان کی کتاب “اوصاف ادویہ : ضمانت سے محاسبہ تک”ہے جو انھوں نے ڈاکٹر سعود الظفرصاحب کی معیت میں تالیف کی ہے ۔ یہ کتاب اس لحاظ سے تو اہم ہے ہی کہ اپنے موضوع پر ایک انتہائی منضبط اور مبسوط کتا ب ہے لیکن اس کی اہمیت بایںلحاظ مزید فزو ںتر ہوجاتی ہے کہ اس میں طب کی قدیم معلومات سے لے کر جدیدعلمی ذخائر اور عصری قانونی ادارو ں کے احکام و قوانین کو بھی یکجا کر دیا گیا ہے ۔

ٍ پروفیسر غفران احمد مرحوم کا سب سے اہم علمی کارنامہ دراصل علم الصیدلہ پر مشتمل ان کی کتاب ’’اصول دواسازی‘‘ ہے جس کی تحقیق و تالیف میں انھوں اپنی پوری زندگی کا سرمایہ لٹا دیا تھا۔ اس کتاب کی اشاعت دراصل ان کا دیرینہ خواب تھا جسے اٹھتے بیٹھتے ان کی آنکھوں نے دیکھا تھا۔ شومئی قسمت کہ انھوں نے اپنے خواب کی تکمیل سے قبل ہی داعی اجل کو لبیک کہہ دیا ۔

اسی لئے تو ہوا رو پڑی درختوں میں ابھی میں کھِل نہ سکا تھا کہ رت بدنے لگے

ابتدا میں اس کتاب کی اشاعت قومی کونسل برائے فروغ زبان اردو ، نئی دہلی کے توسط سے کسی پروجیکٹ کے تحت ہونی تھی لیکن صفحات کی زیادتی اور چند دیگر مسائل کی وجہ سے یہ کام تعطل کا شکار ہوگیا۔ بعد میں استاذ محترم نے اسے ذاتی اخراجات پر شائع کرنے کا ارادہ کیالیکن وہ بھی بعض اسباب کی بنا پر زیر التوا ہی رہا ۔ خدا کا شکر کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسین سے یہ کتاب ۲۰۲۳ ؁ عیسوی میں زیورِ طبع سے آراستہ ہوکرطب یونانی کی ایک بڑی ضرورت کی تکمیل کا دم بھر رہی ۔ کل ۶۰۰ صفحات پر مشتمل مرحوم کی یہ معرکۃ الآرا تالیف دواسازی پر اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے ۔

آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا :

یہ بات مصدقہ ہے کہ صالح اقدار و نظریات انسان کو وحدت کی لڑی میں پرودیتے ہیں اور اگر اس نظریے کی اساس عشق ہو تو وحدت الوجود کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔ استاد محترم کی صالحیت کی مٹی میں گندھی ہوئی ذات بھی کسی ایسی ہی عشق کی آگ میں تپ کر کندن ہوئی تھی جس نے انھیں مودت ومحبت کا پیکربنا دیا تھا۔ان کا دماغ اگر فلسفی کا تھا تو دل کسی صوفی سے کم نہیں تھا ۔اس اشتراک نے ان کی شخصیت کو وہ نور عطا کیا تھا جس کی شبنمی ضیاء سے ہر کوئی قطرہ قطرہ شرابور تھااور جس کی کشش سے بانوئے کشور دلبری ان کی دہلیز کی داسی تھی۔ایسا لگتا ہے کہ ان کا تانبے کا جسم جو سونے کی روح سے آراستہ تھا ،جس کی آنکھوں میںپل پل ریشمی خواب چمکتے تھے مٹی کی محبت میں سنہری لمحات کی ڈور کو تھامے ہوئے دور کہیں بہت دور کسی اتھاہ خلا میں جا سمایا ہے ۔

کاش! رو پہلی صبح کے بنفشی پھولوں پر شام کے کاسنی سائے دراز نہ ہوئے ہوتے ۔

کاش! حجرۂ درویش کے چراغ کی لو کے کان میں ہوا نے تماشا ختم ہونے کا اعلان نہ کیا ہوتا۔

کاش!کچھ دن اور مٹی کے پیالے تشنگی کے جوالا کو برفاب کرتے ۔

کاش !کچھ دن اور سوکھی ٹہنیاں لمس دلآویز کے اثر سے شادابی کا آبگینہ ٹھہرتیں۔

کاش ! کچھ دن اور ورید ِجاں سے ٹپکنے والی امید کا جوہر اپنے کرشمے دکھاتا رہتا۔

کاش! کچھ دن اور زندگی کا حقہ اپنے پرانے انداز میں دھوئیں کے مرغولے اڑاتاہوا ، لہراتا، بل کھاتا، کافوری سگندھ چھوڑتا ہوا رفاقت کی دالانوں کو معطر رکھتا !!!

کاش! کچھ دن اور اجل کے دیوتااپنی چلمنوں سے باہر نہ نکلتے ۔

پھر کوئی عکس شعاؤں سے نہ بننے پایا کیسا مہتاب مرے آئینہ خانے سے اٹھا

پروفیسر غفران احمد مرحوم کے سانحہ ارتحال سے یقینی طور پر یونانی طبی دنیا ایک بہت بڑے خسارے سے دوچار ہوئی ہے ۔ ایک ایسا خسارہ جس کی تلافی حال فی الحال ممکن نہیں نظر آتی ہے ۔ ان سے بچھڑنے کے غم میں نہ جانے کتنے ہی دلوں کے پرچم جھکے ہوئے ہیں ۔ ان کی موت کا زخم ایسا ہی ہے جس کو بھرنے میں مدتیں صرف ہوجانی ہیں ۔بظاہر خاک کی امانت خاکدان کے حوالے ہوچکی ہے لیکن اس کے ذروں میں موجود درخشانیوں کو ابھی ہمارے حافظے میں محفوظ رہنا ہے۔اس نے خون کی روشنائی سے سینہ قرطاس پر جو داستانِ وفا رقم کی اسے اتنی آسانی سے زوال آمادہ نہیں ہونا ہے ۔ یقیناًفروغ شمع کو صبح محشر تک باقی رہنا ہے۔

محمد ارشد جمال

ق

محمد ارشد جمال

(ماہر تعلیم و سوانح نگار)

سوانحی خاکوں اور ملی شخصیات کے کردار پر گہری نظر رکھنے والے ادیب۔

مصنف کے تمام مضامین دیکھیں ←