مرکزی مواد پر جائیں (Skip to main content)
ماہنامہ حیاتِ نوانجمن طلبہ قدیم جامعۃالفلاح کا ترجمان

غزل (سالم سلیم)

س
سالم سلیم
شاعر
حجمِ خط:100%
رسم الخط:
خلاصۂ مقالہ:بزمِ سخن: سالم سلیم کی شعری تخلیق۔
غزل
یار ہیں اس کے طرف داروں کے بیچ
میں اکیلا پڑ گیا یاروں کے بیچ
تیری زلفوں سے رہا ہونے کے بعد
ہم بہت بھٹکے ہیں رخساروں کے بیچ
موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر
میں ہی بس اچھا ہوں بیماروں کے بیچ
اے خدا تو ہی بتا آخر میں کیوں
گھومتا جاتا ہوں سیاروں کے بیچ
گھر سے خوش قامت وہ نکلا ہی نہیں
اور قیامت سی ہے بازاروں کے بیچ
گھر بنانے میں کٹی ہے زندگی
لگ چکے ہیں ہم بھی دیواروں کے بیچ
ہر طرف اللہ اکبر کا ہے شور
گھر گئی ہے خامشی نعروں کے بیچ
— سالم سلیم
س

سالم سلیم

(شاعر)

نئی نسل کے اہم شاعر۔ ریختہ سے وابستہ۔

مصنف کے تمام مضامین دیکھیں ←