خلاصۂ مقالہ:خوشا نصیب بنا ہے جو نامہ بر کاغذ، حنائی دست نے کر ڈالا معتبر کاغذ — سعید اختر اعظمی کی منفرد غزل
غزل
خوشا نصیب بنا ہے جو نامہ بر کاغذ
حنائی دست نے کر ڈالا معتبر کاغذ
سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ ان پہ کیا لکھوں
رکھے ہوئے ہیں کئی میری میز پر کاغذ
عجیب چیز ہے اشکوں کی روشنائی بھی
لکھا۔ مٹایا۔ ملا مجھ کو پھر بھی تر کاغذ
وصال و ہجر کے احوال سب رقم کر دوں
وہ لمحہ خوب ہو بن جائے دل اگر کاغذ
سخن وری کی فضا سازگار ہے اختر
رواں ہے خامہ مرا اور ہم سفر کاغذ
سعید اختر اعظمی ، ریاض سعودی عرب
موضوعات:#اردو ادب و شاعری