اللہ تبارک و تعالیٰ کی یہ مستقل سنت ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بلا تفریقِ رنگ و نسل بے شمار احسانات کرتا رہتا ہے، اور پھر اپنے بندے سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس پر مناسب ردِ عمل یعنی شکرگزاری کا اظہار کرے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا صاف اعلان ہے: لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ، یعنی اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بہت سخت ہے۔ (سورہ ابراہیم: 7)
شکر کا قرآنی پیٹرن
اگر ہم قرآنِ کریم کی آخری سورتوں پر غور کریں، تو اللہ رب العزت نے ہر احسان کے بدلے میں شکرانے کا ایک خاص طریقہ اور پیٹرن سکھایا ہے:
1. سورۃ الضحیٰ میں تین بڑے احسانات کا ذکر کیا جو نبوت سے قبل حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیے گئے۔
• آپ یتیم تھے، اللہ نے کفالت فرمائی اور آپ کی تربیت کا بہترین انتظام فرمایا۔
• آپ ہدایت کی تلاش میں سرگرداں تھے، اللہ نے ہدایت کا بہترین سامان بہم پہنچایا۔
• آپ مالی اعتبار سے کم زور تھے، اللہ نے غنی بنا دیا۔
پھر ان تین احسانوں کے شکریہ کے لئے تین مطالبات رکھے کہ،
• آپ بھی یتیموں کے سر پر دست محبت رکھیں۔
• ناداروں سے ترش روئی سے نہ پیش آئیں اور
• رب کی نعمتوں کا تذکرہ کرتے رہیں۔
2. سورہ الم نشرح میں فرمایا کہ آپ کو شرحِ صدر سے فیضیاب کیا، آپ پر سے وہ بوجھ ہٹا دیا جو آپ کی کمر دوہری کئے دے رہا تھا اور آپ کا ذکر بلند کیا۔ ان تینوں نعمتوں کے شکرانے کے طور پر یہ مطالبہ کیا گیا کہ فرائض سے فارغ ہو کر رب کی عبادت کی طرف راغب ہو جائیں۔
3. سورہ قریش میں اہلِ مکہ کو یاد دلایا گیا کہ اللہ ہی نے انہیں خوف کے مقابلے میں امن عطا کیا اور جاڑے اور گرمی کے سفروں کو ان کے لیے ذریعۂ رزق بنایا۔اب اس احسانِ عظیم کا بدل یہ مانگا گیا کہ تمام باطل معبودوں کو چھوڑ کر صرف ربِ کعبہ کی ہی عبادت کی جائے۔
4. سورہ کوثر میں حوضِ کوثر اور لازوال نیک نامی کا شکرانہ نماز قائم کرنے اور قربانی پیش کرنے کو قرار دیا گیا۔
5. سورہ نصر میں فتح و نصرت اور دینِ اسلام کی اشاعت کا شکرانہ تسبیح، تحمید اور استغفار کو بتایا گیا۔
ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا جواب زبانی تحمید، تسبیح، استغفار، تہلیل، نماز، قربانی، اور رب کی طرف سچی رغبت سے دیا جاتا ہے۔
اسلامی تہوار اور شکر کا تصور
اسلام میں خوشی اور مسرت کے مواقع بھی شکرِ نعمت کے اظہار کا ذریعہ بنتے ہیں۔ چنانچہ عیدالفطر رمضان المبارک کی عبادتوں، روزوں اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہدایت پر شکر ادا کرنے کا دن ہے، جبکہ عیدالاضحیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال اطاعت، ایثار اور قربانی کی یاد تازہ کرتی ہے۔ اسی طرح یومِ عاشوراء کا روزہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات ملنے پر اللہ تعالیٰ کے شکر کی ایک عملی صورت ہے۔
ان مواقع سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اسلام نعمتوں اور کامیابیوں پر محض خوشی منانے یا جذباتی مسرت کے اظہار پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ ذکرِ الٰہی، عبادت، انفاق، قربانی اور اطاعتِ رب کے ذریعے شکرگزاری کا عملی راستہ دکھاتا ہے۔ گویا ایک مسلمان کے لیے ہر نعمت، ہر کامیابی اور ہر خوشی کا حقیقی حسن اس میں ہے کہ وہ اسے اپنے رب کی طرف رجوع، اس کی حمد و ثنا اور اس کی فرمانبرداری کا ذریعہ بنائے۔
اسی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام خوشی، مسرت اور شکرگزاری کے جذبات کے اظہار کے لیے ایک پاکیزہ، متوازن اور بامقصد راستہ دکھاتا ہے۔ عبادت، ذکرِ الٰہی، صدقہ و خیرات، باہمی ملاقات اور جائز تفریح وہ ذرائع ہیں جنہیں اسلام نے پسند فرمایا ہے۔ اس کے برعکس ایسے تمام طریقے جو اسراف، نمود و نمائش، ایذا رسانی یا فرائضِ دینی سے غفلت کا سبب بنیں، اسلامی مزاج سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ لہٰذا جلسہ جلوس، چراغاں، میلے ٹھیلے، شور و ہنگامہ، آتش بازی، نشہ آور سرگرمیاں، رات بھر لہو و لعب میں مشغول رہنا، فرائض سے بے پروائی برتنا، یا دوسروں کے آرام، سکون اور آمد و رفت میں خلل ڈالنا شکرگزاری کے مطلوب اسلامی تصور کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ایک مسلمان کے لیے حقیقی خوشی اور کامل شکر یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو اس کی رضا، اطاعت اور بندگانِ خدا کی خیر خواہی کا ذریعہ بنائے۔
شکرانِ نعمت کی عملی شکلیں
شکر صرف زبان سے چند کلمات ادا کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل تعلق عمل سے ہے۔ زکوٰۃ اور انفاق بھی شکرِ نعمت کی عملی شکلیں ہیں۔ أَنفِقُواْ مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ (البقرة 254)
ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے دو ایسے اشخاص پر رشک کرنے کی ترغیب دی ہے جو اللہ کی دی ہوئی نعمتوں (علمِ قرآن اور مال و دولت) کو دن رات بندگانِ خدا کی فلاح اور فیض رسانی پر خرچ کرتے ہیں۔ (بخاری 1409، مسلم 816) یہ دراصل نعمت کا بہترین تشکر ہے۔
قرآن کا علم اور مال و دولت دراصل وہ عظیم نعمتیں ہیں جن سے دین کے دو بڑے نظام (نظامِ ہدایت اور نظامِ کفالت) چلتے ہیں۔ علمِ قرآن کا عملی شکر یہ ہے کہ انسان دن رات بندگانِ خدا کو فکری و اخلاقی اندھیروں سے نکالے، اور مال کا شکر یہ ہے کہ اسے جمع کرنے کے بجائے صبح و شام ضرورت مندوں پر بہا دیا جائے۔ چونکہ ان دونوں نعمتوں کا اثر پذیری کا دائرہ پوری انسانیت پر محیط ہوتا ہے اور یہ دنیا و آخرت کے عروج کا بہترین امتزاج ہیں، اسی لیے امت میں علم کی ترویج اور انفاقِ مال کا جذبہ ابھارنے کے لیے انہیں قابلِ رشک قرار دیا گیا۔
قیامت کے دن ہر بندے سے “النعیم” (نعمتوں) کے بارے میں سوال ہوگا ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ ٱلنَّعِيمِ ۔(التکاثر 8)۔ اور کامیاب وہی ہوگا جو شکر گزار رہا۔
اگر ہم اپنے اوپر کی گئی بنیادی نعمتوں پر غور کریں تو ان کا شکرانہ ادا کرنے کی درج ذیل شکلیں ہمارے سامنے آتی ہیں:
1. والدین کی نعمت: والدین کی دیکھ بھال اور تربیت کا قرض اتارنا ممکن نہیں ہے۔ اس کا شکرانہ یہ ہے کہ ان کے سامنے “اُف” تک نہ کہا جائے (اسراء 23)، عاجزی سے جھکا جائے (اسراء 24) اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی جائے رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ (ابراهيم 41) ان کے لئے دعا کی جائے کہ اللہ ان پر رحم فرمائے۔ رَبِّ ٱرْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِى صَغِيرًا (اسراء 24)
2. ہوا اور پانی کی نعمت: زندگی کے لیے سب سے ضروری ان دو مفت نعمتوں کا شکرانہ یہ ہے کہ ہم انہیں آلودہ نہ کریں، دوسروں کے لیے ان کا حصول مشکل نہ بنائیں اور پانی کو اسراف سے نہ بہائیں۔ حدیث کے مطابق بہتی نہر کے کنارے بھی اسراف منع ہے۔ (مسند احمد 7065)
3. اعضائے بدن کی نعمت: اللہ نے ہمارے اعضاء و جوارح کو صحیح و سالم بنایا ہے۔ ان کا شکرانہ یہ ہے کہ آنکھوں سے صرف جائز دیکھیں، ہاتھوں سے دوسروں کی مدد کریں۔ ہمارے ہاتھ دوسروں پر ظلم کرنے والے نہ ہوں، اور پیروں سے صحیح راستوں پر چلیں۔ ورنہ کل قیامت کے دن یہی اعضاء ہمارے خلاف گواہی دیں گے۔ (النور 24)
خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار ایسی نعمتیں بن مانگے عطا کی ہیں جن کا احاطہ ممکن نہیں ہے۔ وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا (ابراهيم 34، النحل 18)
ہماری ذمہ داری ہے کہ اسی نہج پر غور و فکر کرتے ہوئے غفلت کی چادر کو اپنے اوپر سے ہٹائیں، اپنے گرد و پیش بکھری ربانی عنایات پر غور کریں اور اپنی پوری زندگی کو اللہ کی شکر گزاری، طاعت اور فرمانبرداری کے سانچے میں ڈھال لیں۔ زبانی شکر کے ساتھ ساتھ اپنے عمل، اپنے اعضاء اور اپنے وسائل کو اللہ کی رضا میں کھپانا ہی دراصل بحیثیت مسلم ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ زندگی کا اصل حسن یہی ہے کہ اس کا ہر ہر لمحہ اللہ کی شکر گزاری، طاعت اور والہانہ فرمانبرداری کے سانچے میں ڈھل جائے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نعمتوں کی قدر دانی اور حقیقی شکر گزار بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین!
ڈاکٹر رضوان الحق فلاحی (گورکھپور)