عزیمت، صبر اور فکری شعور کی داستان
اسلامی تاریخ میں ہجرت ایک عظیم سنگِ میل ہے جس نے دعوتِ اسلام کو نئی سمت عطا کی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں اہلِ ایمان کی قربانی، استقامت اور اللہ پر کامل بھروسا پوری طرح نمایاں ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے کہ حق کے علمبردار آزمائشوں سے گزارے جاتے ہیں، کبھی دنیا کی کشش سے اور کبھی ظلم و جبر سے، تاکہ ایمان کی حقیقت ظاہر ہو جائے۔
جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں توحید کی دعوت پیش کی تو اہلِ ایمان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ ایسے حالات میں آپ ﷺ نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی۔ صحابۂ کرامؓ نے وطن، خاندان، مال و جائیداد اور آسائشیں چھوڑ دیں، مگر ایمان پر کوئی سمجھوتہ گوارا نہ کیا۔ اس سفر میں جہاں مردوں نے عظیم قربانیاں دیں، وہیں خواتینِ اسلام نے بھی صبر، عزیمت اور استقامت کی ایسی مثالیں قائم کیں جو قیامت تک اہلِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔
حضرت لیلیٰ بنت حثمہؓ : پہلی ہجرتوں کی ایک روشن مثال
حضرت ام عبداللہ لیلیٰ بنت حثمہؓ ان اولین خواتین میں شامل تھیں جنہوں نے اپنے شوہر حضرت عامر بن ربیعہؓ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ روانگی کے وقت حضرت عمرؓ، جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، وہاں آئے اور سفر کا سبب پوچھا۔
حضرت لیلیٰؓ نے فرمایا کہ مکہ والوں کے ظلم نے ہمیں وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے، اب ہم اللہ کی زمین میں ایسی جگہ جائیں گے جہاں اپنے دین پر آزادی سے عمل کر سکیں۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ متاثر ہوئے اور بے اختیار فرمایا: صَحِبَكُمُ اللَّهُ” یعنی اللہ تمہارا ساتھی ہو۔
یہ واقعہ اہلِ ایمان کی استقامت اور خواتین کے غیر معمولی حوصلے کی واضح دلیل ہے۔
حضرت رقیہؓ اور حضرت زینبؓ : قربانی اور صبر کی داستان
رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہؓ کی زندگی ہجرت اور قربانی کی روشن مثال ہے۔ ابتدا میں ان کا نکاح عتبہ بن ابی لہب سے ہوا، لیکن اسلام دشمنی کے باعث ابو لہب کے دباؤ پر انہیں طلاق دے دی گئی۔ بعد ازاں حضرت عثمان بن عفانؓ سے ان کا نکاح ہوا۔
جب مکہ میں مسلمانوں پر ظلم بڑھا تو حضرت عثمانؓ اور حضرت رقیہؓ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“ابراہیم اور لوط علیہما السلام کے بعد یہ پہلا جوڑا ہے جس نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی۔”
یہ ہجرت اس بات کی علامت تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے گھرانے کی خواتین بھی دین کی خاطر قربانی اور آزمائش کے راستے پر گامزن تھیں۔ بعد میں حضرت رقیہؓ مدینہ منورہ میں بیمار ہوئیں اور غزوۂ بدر کے موقع پر وفات پا گئیں۔ رسول اللہ ﷺ ان کی وفات پر غمگین ہوئے اور ان کی قبر پر تشریف لے گئے۔
اسی طرح حضرت زینبؓ، رسول اللہ ﷺ کی بڑی صاحبزادی بھی صبر و وفاداری کا پیکر تھیں۔ ان کے شوہر ابو العاصؓ ابتدا میں مسلمان نہ ہوئے۔ غزوۂ بدر کے بعد جب وہ قیدی بن کر مدینہ آئے تو حضرت زینبؓ نے فدیے کے لیے اپنی والدہ حضرت خدیجہؓ کا دیا ہوا ہار بھیجا۔ یہ ہار دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور صحابہؓ سے فرمایا کہ اگر مناسب سمجھو تو یہ ہار واپس کر دو، یہ زینب کی ماں کی یادگار ہے۔
ابو العاصؓ کو اس شرط پر آزاد کیا گیا کہ وہ حضرت زینبؓ کو مدینہ بھیج دیں گے۔ راستے میں کفار نے انہیں تکلیف پہنچائی، جس کے اثرات ان کی صحت پر پڑے۔ سن 8 ہجری میں ان کا انتقال ہوا۔ رسول اللہ ﷺ ان کی وفات پر بہت غمگین ہوئے اور فرمایا کہ زینب میری سب سے اچھی بیٹی تھی جو میری محبت میں ستائی گئی۔
حضرت ام سلمہؓ اور حضرت اسماءؓ : توکل، ہمت اور وفاداری
حضرت ام سلمہؓ کی ہجرت صبر و استقامت کی عظیم مثال ہے۔ وہ اپنے شوہر حضرت ابو سلمہؓ اور بچے کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوئیں، مگر راستے میں خاندان والوں نے انہیں روک لیا اور شوہر سے جدا کر دیا، جبکہ دوسرے خاندان نے بچے کو بھی اپنے پاس رکھ لیا۔
کئی دن تک شدید غم برداشت کرنے کے بعد حضرت ام سلمہؓ نے اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے بچے کو لیا اور تنہا مدینہ کی طرف روانہ ہو گئیں۔ راستے میں حضرت عثمان بن طلحہؓ نے انہیں تنہا دیکھا تو ان کے ساتھ مدینہ تک گئے۔ حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے ایسا شریف اور باوقار ساتھی کبھی نہیں دیکھا۔
بعد میں حضرت ابو سلمہؓ غزوۂ احد کے زخموں کی وجہ سے وفات پا گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ام سلمہؓ کو صبر کی تلقین فرمائی اور بہتر بدلے کی دعا سکھائی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں امہات المؤمنین میں شامل ہونے کا شرف عطا فرمایا۔
ہجرت کے موقع پر حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ نے بھی عظیم کردار ادا کیا۔ وہ غارِ ثور میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے لیے کھانا پہنچاتیں۔ ایک موقع پر کھانے کی پوٹلی باندھنے کے لیے کوئی چیز نہ ملی تو انہوں نے اپنے نطاق کو دو حصوں میں تقسیم کیا، جس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں ذات النطاقین کا لقب عطا فرمایا۔
ہجرت کا پیغام : آج کے لیے سبق
یہ واقعات محض تاریخ کے صفحات نہیں بلکہ ایمان، قربانی، عزیمت اور اللہ پر اعتماد کی روشن مثالیں ہیں۔ حضرت لیلیٰ بنت حثمہؓ، حضرت رقیہؓ، حضرت زینبؓ، حضرت ام سلمہؓ اور حضرت اسماءؓ نے ثابت کیا کہ دین کی سربلندی کے لیے قربانی کا جذبہ صرف مردوں تک محدود نہیں، بلکہ خواتینِ اسلام نے بھی تاریخ کے عظیم ترین کارنامے انجام دیے۔
انہوں نے وطن چھوڑا، گھر بار چھوڑا، عزیزوں سے جدائی برداشت کی، مگر ایمان کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔ آج بھی امت کو انہی صفات کی ضرورت ہے کہ ہم اللہ کے دین کی خدمت کے لیے اپنا وقت، صلاحیت اور وسائل پیش کریں اور دنیاوی مفادات پر دین کے تقاضوں کو ترجیح دیں۔
ہجرت کے یہ روشن ابواب گواہی دیتے ہیں کہ ایمان کی حفاظت اور حق کی سربلندی کا راستہ ہمیشہ قربانی، صبر اور استقامت سے ہو کر گزرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحابیاتِ رسول ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے، ایمان و عمل میں مضبوطی اختیار کرنے اور دین کی خدمت کے لیے اخلاص عطا فرمائے۔ آمین۔
اسامہ احسن صدیقی