مواد کی طرف جائیں (Skip to main content)
علمی، فکری، تحقیقی و دعوتی ترجمان — قائم شدہ: 1978ء
تازہ شمارہ: جولائی تا ستمبر 2026ء

ڈاکٹر خلیل احمد صاحب : نقوش و تاثرات

حجمِ خط:
رسم الخط:
خلاصۂ مقالہ:افسوس ہے کہ جناب ڈاکٹر خلیل صاحب علیگ ماہ مئی ۲۰۲۳ء کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم کی شخصیت جامعۃ الفلاح کے بانیوں میں بڑی اہمیت کی حامل...

افسوس ہے کہ جناب ڈاکٹر خلیل صاحب علیگ ماہ مئی ۲۰۲۳ء کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم کی شخصیت جامعۃ الفلاح کے بانیوں میں بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ جامعۃ الفلاح کے قیام میں جہاں جماعت اسلامی کے ذمہ داران مولانا ابوبکر صاحب اصلاحی اور مولانا ملک حبیب اللہ صاحب قاسمی کا کردار اہم ہے، وہیں اس کی علمی توسیع وترقی میں مولانا جلیل احسن ندوی ، مولانا شبیر احمد اصلاحی ، اور مولانا عبد الحسیب صاحب اصلاحی کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح مقامی لوگوں میں جناب حکیم ایوب صاحب ندوی، جناب ڈاکٹر ابرار صاحب، جناب حاجی عبدالمتین صاحب، جناب شیخ منیر صاحب، جناب حاجی امانت اللہ صاحب، جناب مولوی محمد عیسی صاحب کی کاوشیں بھی لائق ستائش ہیں۔ اسی طرح مولانا ابواللیث صاحب اصلاحی ندوی اور مولانا صدر الدین اصلاحی کی خدمات بھی کم نہیں ہے۔ البتہ بانیان جامعۃ الفلاح میں جو لوگ ممتاز اور نمایاں تھے ان میں ڈاکٹر خلیل صاحب کا نام سر فہرست ہے۔ ڈاکٹر خلیل صاحب نے اپنی زندگی کے نہایت قیمتی لمحات جامعۃ الفلاح کی تعمیر وترقی میں لگا دیے اور اس کو عالمگیر شہرت کا حامل جامعہ بنادیا۔ ڈاکٹر خلیل صاحب کی رحلت جامعۃ الفلاح کے بانیوں کی آخری یادگار کی رحلت ہے، اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین۔

جناب ڈاکٹر خلیل صاحب سے ملاقات کا شرف

قصبہ بلریا گنج اور حکیم ایوب صاحب کے نام سے بچپن ہی سے مانوس ہو گیا تھا۔ ہمارے گاؤں کے کچھ لوگ بلریا گنج حکیم ایوب صاحب کے زیر علاج تھے اور اکثر آیا کرتے تھے، ان میں میرے برادر کلاں بھی تھے۔ ۱۹۸۰ء میں جامعہ اسلامیہ نیوتنی میں مدرس تھا، مدرسہ چھوٹا تھا، میری صلاحیت ضائع ہو رہی تھی۔ اس لیے کسی عربی درسگاہ میں تدریس کا شدید خواہشمند تھا، اسی اثنا میں سہ روزہ دعوت میں جامعۃ الفلاح کا ایک اشتہار شائع ہوا ، جس میں مختلف آسامیوں کی جگہ خالی تھی۔ میں نے بھی درخواست دے دی تھی ، اس وقت جامعۃ الفلاح کے ناظم اعلی مولانا ابواللیث صاحب اصلاحی تھے۔ انہی کے نام سے میں نے درخواست بھیجی تھی ، چند ہی دنوں بعد مجھے جامعۃ الفلاح کی طرف سے ایک لفافہ ملا، اس کو چاک کیا ، دیکھا تو وہ اصل میں میرا تقرر نامہ تھا۔ بے حد خوشی ہوئی کہ اب میری دیرینہ خواہش پوری ہو رہی ہے کہ عربی تدریس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک موقع فراہم کر دیا ہے۔ مشاہرہ دیکھ کر تھوڑا تردد ہوا، مجھے نیوتنی میں ۳۰۰ روپے ماہانہ مل رہے تھے اور جامعۃ الفلاح میں ۲۴۰ روپے ماہانہ کے لحاظ سے میرا تقرر عمل میں آرہا تھا۔ ۲۰ روپے ماہانہ کا خسارہ تھا لیکن یہ تردد دیر تک قائم نہیں رہا، کیونکہ جامعۃ الفلاح میں مجھے مولانا جلیل احسن ندوی سے استفادہ کا موقع مل رہا تھا جو میرے لیے بہت قیمتی تھا۔ اس لیے میں نے فوراً جواب لکھ بھیجا کہ ایک مہینے کے بعد ان شاء اللہ جامعۃ الفلاح حاضر ہو جاؤں گا۔ یہ خط و کتابت میرے اور ڈاکٹر خلیل صاحب کے درمیان تھی جو اس وقت نائب ناظم تھے ، ڈاکٹر خلیل صاحب کا نام اس سے پہلے نہیں سنا تھا۔ سب سے پہلے اس خط و کتابت کے ذریعے ان کے نام سے آشنائی ہوئی۔ میں وعدے کے مطابق اگست 1980 کے آخر میں صبح سویرے جامعہ الفلاح پہنچا، صدر مدرس مولانا شبیر احمد اصلاحی صاحب سے ملاقات ہوئی ، مولانا کو پہلے ہی سے پہچانتا تھا، پہلی ملاقات بنارس میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد مدرسۃ الاصلاح کے علاوہ جماعت کے اجتماعات میں بھی ملاقات رہی اور انہیں امباری کے اجتماع میں خطاب عام کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ مولانا نے اپنے کمرے میں ( جو حسن البنا منزل کے پچھمی گیٹ شمال کی جانب تھا) میرا سامان رکھوایا اور دوسرے دن دفتر تعلیمات میں بلایا، تھوڑی سی رسمی گفتگو کے بعد فرمایا کہ آپ کا تقرر ہمہ وقتی نگراں کی حیثیت سے کیا گیا ہے، یہ سننا تھا کہ میرے پیر سے زمین سرک گئی ، سوچا کہ فورا لوٹ جاؤں لیکن کہاں جاؤں، نیوتنی سے تو اپنی کشتی جلا کر آگیا تھا، پورے قصبے نے سمجھایا تھا لیکن میں نے ایک نہیں مانی اور چلا آیا ، آخر اب کس منھ سے وہاں جاؤں گا۔

میرے ساتھ ہمہ وقتی نگراں کی حیثیت سے دو افراد کا اور تقرر ہوا تھا جن میں سے ایک مولوی خلیل صاحب غازی پوری تھے اور دوسرے مولوی شبیر فلاحی صاحب چوکنیاں تھے۔ ان دونوں کا تقرر کے بعد انٹرویو بھی ہو چکا تھا۔ ایک دن مجھے بتایا گیا کہ آج بعد نماز عشاء جناب ڈاکٹر خلیل صاحب نائب ناظم جامعۃ الفلاح کے رو برو آپ کو پیش ہونا ہے، وہ آپ سے انٹرویو لیں گے۔ انٹرویو کا لفظ سن کر بہت گھبرایا کیونکہ شبیر فلاحی صاحب نے ان کا جو تعارف کرایا تھا وہ بڑا منفی تھا کہ ڈاکٹر صاحب بہت سخت ہیں، میں بیمار تھا بخار میں مبتلا تھا، لیکن عشاء بعد دفتر نظامت میں ڈاکٹر خلیل صاحب سے جا کر ملاقات کی ، ڈاکٹر صاحب نے دیکھتے ہی کہا آپ بیمار ہیں کیا ؟ میں نے کہا ، جی ہاں ! ڈاکٹر صاحب نے نگرانی کے سلسلے میں کچھ نصیحتیں کی اور پھر رخصت کر دیا، میں بے حد خوش ہوا۔

جامعۃ الفلاح سے ڈاکٹر صاحب کا بے حد لگاؤ

اس وقت جامعۃ الفلاح کے ناظم مولانا ابواللیث صاحب ندوی اصلاحی تھے اور نائب ناظم ڈاکٹر خلیل صاحب علیگ تھے، مولانا ابواللیث صاحب ہفتے میں ایک دن شاید سنیچر کو آتے تھے مگر ڈاکٹر صاحب روزانہ اور کبھی کبھی دن میں کئی کئی بار آ جاتے تھے۔ ایک دن ڈاکٹر صاحب دن میں تعلیمی وقت میں آئے مولانا شبیر صاحب (صدر مدرس ) کو ساتھ لیا اور میں بھی ان لوگوں کے ساتھ تھا ، بورڈنگ کے کمرے میں جاتے اور درجہ نہ جاکر بورڈنگ میں رہ جانے والے لڑکوں کا نام رجسٹر میں لکھتے اور آخر میں مولانا شبیر صاحب سے کہا کہ مولانا ! اب اگر بورڈنگ میں لڑکے ملے تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔ مولانا شبیر صاحب مرحوم و مغفور نے نہایت خندہ جبینی کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کا فرمان سنا اور ایفائے عہد کا وعدہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب جب بھی مدرسے میں تشریف لاتے ، مولانا شبیر صاحب از حد ان کا احترام کرتے ۔ مولانا شبیر صاحب اصلاحی کے اندر بے پناہ صلاحیت تھی ، انتظامی امور کے ماہر تھے، اکیلے مدرسے کو چلا رہے تھے، مگر بے حد متواضع اور خاکسار تھے۔ اپنے اساتذہ سے بھی اسی طرح خاکساری کے ساتھ پیش آتے ، اس وقت ان کے اساتذہ میں مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی، مولانا جلیل احسن ندوی اور مولانا ابوبکر اصلاحی تھے، ان سب سے خاکسارانہ ملتے ۔ مولانا عبد الحسیب اصلاحی ان کے استاد نہیں تھے مگر پھر بھی ان سے دب کر رہتے تھے ۔ مولانا نظام الدین اصلاحی صاحب سے بچ کر رہنے کی کوشش کرتے ، مگر نجی طور پر ڈاکٹر خلیل صاحب سے بڑی گہری چھنتی تھی۔

مجھے تعجب ہوتا تھا کہ ڈاکٹر صاحب سے مدرسے میں مولانا ملتے تو حاکم و محکوم کا فرق نظر آتا تھا مگر ان کے مطب پر جب ان سے ملتے تھے تو ان دونوں کے تعلقات برادرانہ محسوس ہوتے تھے۔ میں کئی مرتبہ مولانا کے ساتھ ان کے مطب پر ملا، ہر مرتبہ محسوس ہوا کہ مولانا سے بڑے گہرے مراسم ہیں اور صاف محسوس ہوتا کہ ڈاکٹر صاحب مولانا سے بڑی محبت اور اپنائیت رکھتے ہیں۔ جامعۃ الفلاح کے حلقہ تعارف کی توسیع میں مولانا شبیر صاحب اصلاحی اور ڈاکٹر خلیل صاحب کی خدمات کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

گزشتہ صدی کی آٹھویں دہائی میں جب شیخ منیر صاحب ممبئی سے ریٹائر ہو کر اور حاجی عبدالمتین صاحب اپنی کاروباری مصروفیات چھوڑ کر ممبئی سے بلریا گنج آگئے تو ان تینوں نے مل کر جامعہ کو آگے بڑھانے کے لیے بڑی مخلصانہ جدوجہد کی جس سے جامعہ کو بہت فائدہ پہونچا۔

جامعہ کے ملحق اداروں کے دورے

جامعہ کے ملحق اداروں کی تعلیم وتربیت کے معیار کو بلند کرنے کے لیے کبھی کبھی ڈاکٹر صاحب دورے بھی کرتے ، جس میں جامعہ مصباح العلوم چوکنیاں اور جامعہ اسلامیہ نیوتنی خصوصاً قابل ذکر ہیں کیونکہ ان مقامات پر سفر میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ میں بھی رہا ہوں۔

ڈاکٹر صاحب اداروں کے معائنے کے درمیان سب سے زیادہ جس چیز پر توجہ دیتے وہ انگلش اور ریاضی کا سبجیکٹ ہوتا، ان دونوں مضامین پر ڈاکٹر صاحب خصوصی توجہ فرماتے اور کوشش کرتے کہ تمام درجات کا معائنہ باریکی کے ساتھ کریں اور آخر میں ذمہ داران کے سامنے جائزہ رپورٹ پیش فرماتے جو بالعموم تنقیدی ہوتی اور احتساب میں قدرے شدت ہوتی۔ میں ڈاکٹر صاحب سے گزارش کرتا کہ ڈاکٹر صاحب معائنے کا یہ طریقہ مناسب نہیں ہے، جہاں طلبہ کی خامیوں کا ذکر کیا جائے وہیں طلبہ کے اندر جو خوبیاں ہیں ان کا بھی اعتراف ہونا چاہیے لیکن ڈاکٹر صاحب اس سے باز نہیں آتے۔ میں نے تو انہیں جامعۃ الفلاح میں شعبہ اعلی اور ثانوی کا جائزہ لیتے ہوئے اور پھر سخت ریمارک دیتے دیکھا ہے اور بسا اوقات شوری میں تعلیمی رپورٹ پر بحث کے دوران ڈاکٹر صاحب کا موقف نہایت سخت ہوتا، یہ سب بربنائے اخلاص تھا۔ وہ جامعۃ الفلاح کے معیار تعلیم کو نہایت بلند دیکھنا چاہتے تھے اور معیار مطلوب پر طلبہ اور اساتذہ کو نہ پاتے تو برہم ہوتے اور اس کا اظہار برملا فرماتے تھے۔

ڈاکٹر صاحب اداروں کے معائنے کے درمیان سب سے زیادہ جس چیز پر توجہ دیتے وہ انگلش اور ریاضی کا سبجیکٹ ہوتا، ان دونوں مضامین پر ڈاکٹر صاحب خصوصی توجہ فرماتے اور کوشش کرتے کہ تمام درجات کا معائنہ باریکی کے ساتھ کریں اور آخر میں ذمہ داران کے سامنے جائزہ رپورٹ پیش فرماتے جو بالعموم تنقیدی ہوتی اور احتساب میں قدرے شدت ہوتی۔ میں ڈاکٹر صاحب سے گزارش کرتا کہ ڈاکٹر صاحب معائنے کا یہ طریقہ مناسب نہیں ہے، جہاں طلبہ کی خامیوں کا ذکر کیا جائے وہیں طلبہ کے اندر جو خوبیاں ہیں ان کا بھی اعتراف ہونا چاہیے لیکن ڈاکٹر صاحب اس سے باز نہیں آتے۔ میں نے تو انہیں جامعۃ الفلاح میں شعبہ اعلی اور ثانوی کا جائزہ لیتے ہوئے اور پھر سخت ریمارک دیتے دیکھا ہے اور بسا اوقات شوری میں تعلیمی رپورٹ پر بحث کے دوران ڈاکٹر صاحب کا موقف نہایت سخت ہوتا، یہ سب بربنائے اخلاص تھا۔ وہ جامعۃ الفلاح کے معیار تعلیم کو نہایت بلند دیکھنا چاہتے تھے اور معیار مطلوب پر طلبہ اور اساتذہ کو نہ پاتے تو برہم ہوتے اور اس کا اظہار برملا فرماتے تھے۔

جمیل صاحب ( چار بھائی بیڑی ورکس )

جمیل صاحب ( چار بھائی بیڑی ورکس ) حیدر آباد میں جامعۃ الفلاح کے نہایت ہمدرد اور بہی خواہ تھے ۔ اتر ولی ضلع علی گڑھ کے رہنے والے تھے۔ اپنے وطن علی گڑھ سے بڑی محبت رکھتے تھے۔ مجھ سے ایک روز فر مایا کہ جامعۃ الفلاح کی شاخ اتر ولی ضلع علی گڑھ میں قائم ہونی چاہیے۔ لہذا تم جامعۃ الفلاح کے ناظم ڈاکٹر خلیل صاحب کو اتر ولی لے کر جاؤ اور جائزہ لے کر بتاؤ کہ اس کے کیا امکانات ہیں؟ ہم دونوں علی گڑھ پہنچے اور وہاں سے مولانا سلطان احمد اصلاحی کو لیا اور ہم تینوں بذریعہ کار اتر ولی کے لیے نکل گئے ۔ جمیل بھائی نے اتر ولی کے ایک صاحب ( عبد الوہاب صاحب محلہ چودھریان ) کا پتہ دیا تھا اور ان کو بھی ہماری آمد اور مقصد سے باخبر کر دیا تھا۔ ہم لوگ اتر ولی پہنچ گئے ، عبدالوہاب صاحب سے ملاقات کی گئی ، قصبے کا جائزہ لیا گیا، اور جمیل صاحب کے محلے کی مسجد میں تمام مصلیان کو نماز ظہر کے بعد روکا گیا اور ان کے سامنے ایک مدرسے کی تجویز رکھی گئی۔ مصلیوں میں سے عموماً لوگ خاموش تھے، البتہ جمیل صاحب کے خاندان کے ایک صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا: تجویز تو بہت اچھی ہے اور اس سے پہلے عبد الحفیظ صاحب نے مدرسہ قائم کیا بھی تھا لیکن وہ چلا نہ سکے، اس لیے یہاں کسی مدرسے کا چلنا مشکل ہے۔ شام تک ہم لوگ علی گڑھ واپس آگئے ۔ رات میں ہم لوگوں نے آپس میں مشورہ کیا اور طے کیا کہ مدرسہ قائم کیا جائے اور جمیل صاحب کو پوری کارروائی کی اطلاع دے دی جائے ۔ ڈاکٹر صاحب کے مشورے کے مطابق اس طرح کی ایک تحریر تیار کی گئی:

یہاں ایک مدرسہ چل سکتا ہے، البتہ جامعۃ الفلاح کی شاخ نہیں، بلکہ ایک جدید ادارہ قائم کیا جائے اور علی گڑھ سے اس کی منظوری لی جائے ۔

یہ خط جمیل صاحب کو بھیج دیا گیا اور وہاں سے منظوری آگئی اور مدرسہ قائم ہو گیا۔ کچھ دنوں تک مولانا سلطان اصلاحی کی سر پرستی میں چلا اور اس وقت سلطان اصلاحی کے بڑے صاحبزادے عرفان فلاحی کی زیر نگرانی چل رہا ہے۔ اس مدرسے کے معائنے کے لیے ڈاکٹر صاحب ایک بار تشریف لے گئے تھے اور معائنے کے بعد ہم تین لوگ مولانا سلطان احمد اصلاحی ، ڈاکٹر خلیل صاحب اور میں ( نعیم الدین ) حیدر آباد پہنچے اور دوسرے دن طے شدہ پروگرام کے مطابق جناب جمیل صاحب کی آفس مبارک منزل میں ایک نشست رکھی گئی ، جس میں مدرسے کے نظام اور دستور کی تشکیل زیر بحث آئی، جس پر جمیل صاحب نے فرمایا، میں تو مدرسوں کے چلانے کا کوئی تجربہ نہیں رکھتا، البتہ ڈاکٹر صاحب جو بھی ہمیں حکم دیں ہم اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ مولانا سلطان صاحب چاہتے تھے کہ با قاعدہ مدرسہ کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے ، جس کے ارکان بلریا گنج علی گڑھ اور حیدر آباد کے افراد پر مشتمل ہوں۔ اس سلسلے میں جناب جمیل صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو ذمہ دار بنایا اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب کمیٹی تشکیل دے کر مجھے اطلاع فرمائیں۔ میں اس کے مطابق عمل درآمد کی کوشش کروں گا ۔ اس طرح ہم لوگ دو دن حیدر آباد میں قیام کر کے اپنے اپنے مقام پر واپس آگئے ۔ دو تین دن کے بعد میں ڈاکٹر صاحب سے ملنے ان کے مکان پر گیا اور ڈاکٹر صاحب سے اتر ولی کے مدرسے کی پیش رفت کے سلسلے میں دریافت کیا ، ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے فرمایا جمیل صاحب کو اطلاع کرو کہ جمیل صاحب کمیٹی میں صرف اپنے گھر کے افراد کو رکھیں تا کہ آئندہ چل کر کسی قسم کا تنازعہ نہ پیدا ہو سکے۔ میں نے فورا ہی جناب جمیل صاحب کو ڈاکٹر صاحب کے مشورے سے آگاہ کیا، جمیل صاحب کا فورا جواب آیا اور انھوں نے بھی ڈاکٹر صاحب کے مشورے کی تائید کی ۔ اس طرح مدرسہ آزاد ادارے کی شکل میں سرگرم سفر ہے اور اتر ولی کے مسلمانوں کے لیے خصوصاً غریب مسلمانوں کے لیے بچوں کی تعلیم کا ایک اچھا دینی تعلیمی مرکز ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی اس ادارے کو زیادہ سے زیادہ ترقی عطا فرمائے اور ڈاکٹر صاحب کے حسنات میں اسے اضافے کا ذریعہ بنائے ، آمین

ڈاکٹر صاحب مرحوم علیگ تھے، عالم فاضل نہیں تھے مگر زہد ورع سے متصف تھے ۔ نام و نمود اور ریا سے کوسوں دور تھے۔ سب سے بڑی خوبی جو ان کے اندر میں نے دیکھی وہ یہ تھی کہ کسی کی غیبت نہیں کرتے تھے، حالانکہ یہ ایسی بیماری ہے جس میں بڑے بڑے علماء بھی گرفتار ہیں۔ ان کی موت سے جامعۃ الفلاح جہاں اپنے ایک محسن خادم سے محروم ہوا، وہیں جماعت اسلامی نے ایک مخلص کارکن کھو دیا۔ اللہ تعالی ان دونوں اداروں کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے اور ان کی ترقی کے سفر کو دوام بخشے ، آمین ۔

مولانا نعیم الدین اصلاحی

ق

مولانا نعیم الدین اصلاحی

(ممتاز عالم دین و محقق)

اسلامی تاریخ، سوانح اور دعوتی خدمات کے کہنہ مشق مصنف۔

مصنف کے تمام مضامین دیکھیں ←