مواد کی طرف جائیں (Skip to main content)
علمی، فکری، تحقیقی و دعوتی ترجمان — قائم شدہ: 1978ء
تازہ شمارہ: جولائی تا ستمبر 2026ء

ڈاکٹر خلیل احمد : بہترین معالج اور تحریکی رفیق

حجمِ خط:
رسم الخط:
خلاصۂ مقالہ:۲۹ مئی ۲۰۲۳ کی شب میں بلریا گنج (اعظم گڑھ) کی جانی پہچانی شخصیت، معالج اور تحریکی رفیق ڈاکٹر خلیل احمد (۱۹۳۱ — ۲۰۲۳) طویل عمر گزار کر ہمیں داغ جدائی دے گئے ۔ وہ ۱۹۳۱ میں بلریا گنج ...

۲۹ مئی ۲۰۲۳ کی شب میں بلریا گنج (اعظم گڑھ) کی جانی پہچانی شخصیت، معالج اور تحریکی رفیق ڈاکٹر خلیل احمد (۱۹۳۱ — ۲۰۲۳) طویل عمر گزار کر ہمیں داغ جدائی دے گئے ۔ وہ ۱۹۳۱ میں بلریا گنج کے ایک زمین دار اور متمول گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے وہیں سے بنیادی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد علی گڑھ سے بی یو ایم ایس کی ڈگری حاصل کر کے اپنے وطن ہی میں علاج معالجے کے پیشے سے جڑ گئے اور بانوے (۹۲) سال کی بھر پور اور کام یاب زندگی گزار کر وہیں سے دار فانی کو کوچ کر گئے ۔ جب یہ تکلیف دہ خبر مجھے ملی تو میں ساکت سارہ گیا۔ کافی دیر کے بعد سکوت کا سلسلہ ٹوٹا۔ پھر کتاب ماضی کے یادگار صفحات یکے بعد دیگرے سامنے آنے لگے۔ ان کی زندگی کے وہ تمام لمحات ذہن و دل پر روشن ہونے لگے، جن میں کسی نہ کسی نوعیت سے میں بھی شامل رہا ہوں۔ میں اپنی اس حرماں نصیبی پر اب تک متاسف ہوں کہ میں ان کی نماز جنازہ اور تکفین و تدفین میں شرکت کی کام یاب کوشش نہ کر سکا۔ یہ تأسف و حرماں نصیبی کا احساس دیر تک رہے گا۔

ڈاکٹر خلیل احمد کی وفات سے بلریا گنج اور اس کے مضافات کے لوگ ایک ایسے عظیم فرد سے محروم ہو گئے ، جس کا سلسلہ اُس دیار کے ان اعاظم رجال سے ملتا تھا، جن میں حکیم محمد ایوب ندوی ، مولانا محمد عیسی قاسمی اور مولانا ابوالبقا ندوی رحمہم اللہ کے زندہ و تابندہ نام خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ وہ ملت اسلامیہ کے ایک مخلص و ہم درد فرد تھے اور اس کی تعلیم و ترقی کے لیے ہمیشہ فکر مند اور ساعی و کوشاں رہتے تھے۔ وہ یکے از بانیان جامعۃ الفلاح تھے۔ وہ جامعۃ الفلاح کی تعمیر وترقی اور اس کی تعلیمی و تربیتی اصلاح و بلندی کے لیے مسلسل سوچتے رہتے تھے۔ ہر ملنے جلنے والے سے تبادلہ خیال کرتے رہتے تھے اور جس حد تک ممکن ہوتا تھا، متعلقہ ذمے داروں کے شانہ بہ شانہ اس کی تمام تعمیری و انتظامی سرگرمیوں میں حصہ بھی لیتے رہتے تھے۔

جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ ڈاکٹر خلیل احمد پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے۔ گرچہ اس دیار کے معالجین میں حکیم محمد ایوب ندوی کو شہرت و نام وری حاصل تھی ، وہ اپنے مخصوص علاج اور اس سے حیرت انگیز صحت و شفایابی کی وجہ سے نہ صرف بلریا گنج یا اس کے مضافات، بلکہ دوسرے دور و نزدیک کے اضلاع میں بھی شہرت رکھتے تھے اور ان کے یہاں مریضوں کا ایک قسم کا میلا لگارہتا تھا۔ لیکن ڈاکٹر خلیل احمد صاحب بھی اپنے ایلو پیتھی علاج کے لیے قرب و مضافات میں خاصی شہرت رکھتے تھے۔ وہ مریضوں کو بڑی توجہ سے دیکھتے تھے، ان کے ساتھ ہم دردانہ معاملہ رکھتے تھے۔ لیکن جب جامعۃ الفلاح یا تحریک و ملت کا کوئی معاملہ آجاتا تھا اور اس کے لیے وقت دینے کی بات آجاتی تھی تو وہ ہمیشہ اس کے لیے بھی تیار رہتے تھے۔ جب اور جہاں بھی جانا ہوتا تھا، بڑی یک سوئی کے ساتھ خود کو فارغ کر لیتے تھے۔ وہ جامعۃ الفلاح کے قیام کے روز اول ہی سے اس کی تعمیر و ترقی میں برابر کے شریک رہے۔ اس کی مختلف کمیٹیوں کے رکن رہے اور اس کے مختلف تعلیمی، تربیتی اور انتظامی عہدوں پر بھی فائز ہوتے رہے۔ جس عہدہ و منصب پر رہے اپنی صلاحیت و استعداد کی حد تک انھوں نے اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کی ۔ جہاں ضرورت سمجھی بعض دوسرے با صلاحیت لوگوں سے بھی تعاون لیا۔ اس سلسلے میں ان کے قریبی عزیز ماسٹر عبدالجلیل مرحوم خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔

ڈاکٹر صاحب وقتاً فوقتاً بعض فارغین جامعہ، خصوصاً ماضی قریب کے ان فارغ طلبہ سے جو جامعہ سے سند عالمیت یا فضیلت لے کر کسی یونی ورسٹی میں اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہوتے تھے، جامعہ کی علمی تعلیمی اور انتظامی صورت حال سے متعلق دریافت کرتے رہتے تھے۔ یہ سوال خصوصیت کے ساتھ کرتے تھے کہ آپ جامعہ سے آنے کے بعد اپنے اندر کیا تعلیمی کمی محسوس کرتے ہیں اور اس کمی پر کس طرح قابو پایا جا سکتا ہے؟ میں نے دہلی میں متعدد بار ان کے ساتھ رہ کر کئی طلبہ سے ان کے تاثرات کو جان کر جامعہ سے متعلق ان کی تعلیمی و انتظامی کمیوں کو سدھارنے کی فکر مندی کو محسوس کیا۔

بلریا گنج جانے سے پہلے میں وہاں کی بعض شخصیات سے تو واقف تھا، مختلف حوالوں سے اُس سے خط و کتابت بھی رہی لیکن ڈاکٹر خلیل احمد مرحوم سے میری کوئی واقفیت نہیں تھی ۔ اُن سے میں اس وقت متعارف ہوا، جب ۱۹۸۶ء میں جامعۃ الفلاح سے میری وابستگی ہوئی۔ وہاں پہنچے ہوئے ابھی مجھے چند ہی دن ہوئے تھے کہ ایک دن کسی نے بڑے شکایتی انداز میں بتایا کہ ابھی کچھ دیر پہلے ابتدائی شعبے میں کسی غرض سے ڈاکٹر خلیل احمد صاحب تشریف لائے ہوئے تھے، وہاں ایک مدرس کسی طالب علم کو کسی وجہ سے چھڑی سے مار رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے بڑھ کے مدرس صاحب سے چھڑی چھین لی اور ان کے اس رویے پر سخت ناگواری کا اظہار کیا۔ ان صاحب نے یہ بات بڑے شکایتی انداز میں بتائی تھی۔ لیکن اس خبر نے میرے دل میں ڈاکٹر خلیل احمد کے لیے ایک اچھی جگہ بنادی۔ اس لیے کہ میری زندگی کا اچھا خاصا وقت تعلیم و تدریس میں گزرا ہے۔ میں نے ہر عمر کے طلبہ وطالبات کو پڑھایا ہے۔ لیکن ان کو مارنے پیٹنے سے میں نے ہمیشہ پر ہیز کیا ہے۔ بس ڈانٹ پھٹکار ہی سے کام لیا ہے۔ اس میں کام یاب بھی رہا ہوں۔ اس واقعے کے بعد ڈاکٹر صاحب سے جب بھی ، یا جہاں بھی ملاقات ہوئی، میں نے بڑھ کے سلام و مصافحہ کیا۔ البتہ اس شنیدہ خبر پر نہ کبھی خوشی کا اظہار کیا اور نہ اس سلسلے میں ان سے کچھ پوچھا۔ انھوں نے بھی ہمیشہ محبت و موانست کا معاملہ کیا۔ پھر ان رسمی ملاقاتوں نے گہرے تعلق اور یگانگی کی شکل اختیار کر لی۔ تعلق اتنا بڑھا کہ جن دو چار رفقا سے میرے خصوصی تعلقات تھے، وہ بھی اُن کے خصوصی احباب و رفقا میں شامل ہو گئے۔ دوست کا دوست، دوست ہوتا ہے اور دوست کا دشمن، دشمن کی کہاوت پورے طور پر صادق آئی۔ ایک دوسرے کے ہاں وقتا فوقتا جانے اور چائے پانی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کسی وجہ سے شاید یہ ماحول پہلے نہیں تھا۔ اس خوش گوار فضا سے اساتذہ جامعہ اور بعض دوسرے رفقا نے بھی اثر لیا ہوگا۔

ایک دن محترم ڈاکٹر خلیل احمد صاحب میرے جامعہ کے رہائشی کمرے میں پوچھتے پوچھتے آگئے ۔ میں اس وقت دو پہر کا کھانا کھا رہا تھا۔ کھانے میں دال اور سبزی بھی تھی لیکن میں گڑ سے روٹی کھا رہا تھا۔ میں ان دنوں جامعہ کے کمرہ نمبر چالیس (۴۰) میں رہتا تھا۔ چالیس نمبر پہنچنے سے پہلے زینے کے پاس ہی دس نمبر پڑتا تھا۔ وہاں کچھ طلبہ کو کافی زد و کوب کے بعد مرغا بنایا گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے میرے ہاتھ میں گڑ کی ڈلی دیکھ کر حیرت و استعجاب کا اظہار کیا، فرمایا: آپ نے تو میری ساری کوفت دور کر دی۔ میں نیچے سے بہت مکدر ہو کر آیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب بس چند ہی منٹ بیٹھے اور فرمایا: میں اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ میری خواہش ہے کہ میری چھوٹی بیٹی کو آپ صحیح طریقے سے قرآن مجید پڑھا دیں۔ اگر موقع رہے تو کچھ میری اصلاح بھی کر دیں۔ میں نے فوراً آمادگی ظاہر کر دی۔ ڈاکٹر صاحب نے شکریہ ادا کیا اور سلام کر کے رخصت ہو گئے۔

میں نے کم و بیش ڈھائی تین برس تک ڈاکٹر خلیل احمد کے دولت کدے پر ان کی بیٹی عزیزہ رمی، دو بھانجیوں اور ان کی پوتی عزیزہ نوزی سلمہا کو قرآن مجید اور اسلامیات کی بعض کتابیں پڑھائیں۔ کچھ دنوں تک خود ڈاکٹر صاحب نے بھی ابتدائی قواعد کے ساتھ قرآن مجید کی صحت و درستی کی کوشش کی۔ اس دوران انھوں نے میرے ساتھ غیر معمولی طور پر اعزاز و تکریم کا معاملہ کیا۔ پابندی کے ساتھ ناشتے کا اہتمام کیا۔ ان کی کوشش یہی رہتی تھی کہ جو چیز مجھے پسند اور مرغوب ہے وہی ناشتے میں رہے۔ دہی کا اہتمام تو وہ خصوصیت کے ساتھ کرتے تھے۔

یہ بات خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہے کہ میں ڈاکٹر صاحب کے ہاں سے بچیوں کو پڑھا کے رخصت ہوتا تھا تو کچھ دیر راستے میں کھڑے ہو کر گلیوں میں کھیلنے والے بچوں کے پاس جا کر انھیں کھیل ختم کر کے مدرسے جانے کی تیاری کے لیے آمادہ کرتا تھا اور حسب ضرورت انھیں محبت و شفقت کے ساتھ کچھ تنبیہ و تلقین بھی کرتا تھا۔ میرا یہ عمل کسی طرح سے ڈاکٹر صاحب کے علم میں آگیا۔ انھوں نے اس پر غیر معمولی خوشی و مسرت کا اظہار کیا اور اس سلسلے میں انھوں نے ایک اعزازیے کی بھی پیش کش کی۔ میں نے یہ کہہ کر اسے قبول نہیں کیا کہ ڈاکٹر صاحب یہ کام میں محض اپنی عادت و مزاج کے لحاظ سے حسب موقع کرتا ہوں، یہ کوئی ڈیوٹی نہیں ہے۔ اس سے ڈاکٹر صاحب کی ملت کے فرزندوں کے تئیں فکر مندی اور ان کی تعلیم و تربیت کے لیے ان کے احساس ذمہ داری کو ہم محسوس کر سکتے ہیں۔ یہ وہ جذبہ خیر خواہی اور احساس و فکر مندی ہے، جو آج کے دور میں تقریباً مفقود ہے۔

ڈاکٹر صاحب میرے طریقہ تعلیم و تربیت سے خاصے متاثر تھے۔ وہ مجھ سے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ آپ کو آپ کے نزدیک رہ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ دور سے تو آپ بس شاعر ہی معلوم ہوتے ہیں۔ یہ محض ان کا حسن ظن تھا۔ اس حسن ظن کا اظہار وہ اکثر اپنے ملنے والوں اور بعض اساتذہ جامعہ سے بھی کرتے رہتے تھے۔

ڈاکٹر خلیل احمد صاحب نے گرچہ صرف عصری تعلیم حاصل کی تھی۔ دینی تعلیم وہ نہیں حاصل کر سکتے تھے۔ لیکن خاندان کے مخصوص ماحول اور اپنے ذوق وشوق مطالعہ سے انھوں نے بہت کچھ حاصل کر لیا تھا۔ ان کی دین داری، احتیاط اور رہن سہن کو دیکھ کر یہی محسوس ہوتا تھا کہ وہ دین کی خاصی معلومات رکھتے ہیں۔ اپنے اعزہ واقربا ، ملنے جلنے والوں اور جامعہ کے طلبہ میں بھی وہ وہی رنگ دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ خاندانی طور پر اس مسلک سے تعلق رکھتے تھے، جسے ہم عامل بالحدیث یا اہل حدیث کہتے ہیں۔ ان کے خاندان کے بعض بزرگوں کو میں نے ہمیشہ اسی مسلک پر عامل دیکھا۔ خود ڈاکٹر صاحب بھی گرچہ ظاہری طور پر اس مسلک پر نہیں تھے لیکن ان کے عقائد اور مذہبی احساسات وہی تھے، جس کے لیے وہ مسلک جانا جاتا ہے۔ شرک و بدعت یا کتاب وسنت سے انحراف کو وہ قطعی برداشت نہیں کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بار جب انھیں معلوم ہوا کہ جماعت اسلامی کے مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی سے وہ تفسیر شائع ہونے والی ہے، جو اہل سنت اور جمہور علما کے نزدیک قابل اعتبار نہیں ہے تو انھوں نے ایک رکن جماعت کی حیثیت سے اس وقت کے امیر جماعت حضرت مولانا ابواللیث ندوی کو بہت سخت خط لکھا اور اس کی اشاعت کے فیصلے کی مخالفت کی ۔ انھوں نے یہاں تک لکھ دیا کہ اس تفسیر میں انکار حدیث کے کیڑے بُری طرح بلبلا رہے ہیں۔

جامعۃ الفلاح میں چار برس گزارنے کے بعد بوجوہ میں نے آیندہ وہاں نہ رہنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس کا ذکر وہاں کے بعض مخلصین سے بھی کر دیا تھا۔ سالانہ تعطیل ہوئی تو میں ۲۲ / مارچ ۱۹۹۰ء کو وہاں سے آگیا۔ اس زمانے میں میں مستقل طور پر دیوبند ہی میں رہتا تھا۔ دیوبند پہنچنے کے دو چار دن کے بعد میں نے نہایت غم وحزن کے ساتھ محترم ناظم جامعہ کو استعفا بھیج دیا۔ اس وقت جامعہ کے ناظم محترم مولانا صدر الدین اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ تھے اور نائب ناظم مشفقی و محبی ڈاکٹر خلیل احمد رحمہ اللہ علیہ۔ میں نے استعفا جامعہ کے پتے پر بھیجنے کے بجائے براہ راست ناظم جامعہ محترم مولانا صدرالدین اصلاحی کو ان کے گھر کے پتے پر پھول پور ضلع اعظم گڑھ بھیج دیا۔ اپریل کی کسی تاریخ کو استعفے کی رسید اور منظوری ہم دست ہو گئی۔ ابھی میرے استعفے کو کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ سہ روزہ اخبار دعوت دہلی کے ۱۳ مئی ۱۹۹۰ء کے شمارے میں ضروری اعلان کے عنوان سے میرے خلاف ایک اشتہار شائع ہو گیا۔ اس اشتہار سے ایک بات تو یہ معلوم ہورہی تھی کہ میں ( تابش مہدی ) نے جامعۃ الفلاح میں بڑے پیمانے پر اسناد فروشی کی ہے اور دوسری یہ بات بھی مترشح ہو رہی تھی کہ اسی اسناد فروشی کی وجہ سے مجھے جامعۃ الفلاح سے علاحدہ کر دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس وقت ناظم صاحب تو جامعہ سے بہت فاصلے پر پھول پور میں رہتے تھے۔ حسب ضرورت ہی جامعہ تشریف لاتے تھے، سارے

معاملات نائب ناظم ڈاکٹر خلیل احمد ہی دیکھتے تھے۔ یہ اشتہار بھی ان کی منظوری ہی سے آگے بڑھا ہوگا۔ اس اشتہار کا مجھ پر شدید اثر ہوا۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کیوں ہوا؟ اس کا محرک کیا اور کون رہا ہو گا ؟ میں نے محترم ناظم جامعہ مولانا صدرالدین اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ کو خط کے ذریعے سے صورت حال سے مطلع کیا تو انھوں نے جوابا بس اتنا لکھا کہ میں نے آپ کے استعفے کے ساتھ ہی اپنا استعفا بھی جامعۃ الفلاح کو بھیج دیا تھا۔ اس سلسلے میں میں کچھ نہیں کر سکتا ہوں ۔ اس اشتہار نے پورے تحریکی حلقے میں اور اس سے باہر بھی میری بہت غلط تصویر پیش کی۔ اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔ لیکن جب لوگوں کے سامنے صحیح صورت حال آئی تو بہت جلد ساری غلط فہمیاں اور بدگمانیاں ختم ہوگئیں۔ لوگوں نے بتایا کہ ڈاکٹر خلیل احمد اس صورت حال پر بے حد متاسف تھے۔ انھوں نے بعض لوگوں کو اس کا ذمے دار ٹھہرایا۔ کچھ دنوں کے بعد دہلی تشریف لائے تو اپنے ایک عزیز نیر صاحب کے ہاں مجھے اپنے ہم راہ لے گئے، جو بٹلہ ہاؤس ، جامعہ نگر نئی دہلی میں رہتے تھے۔ وہاں چائے وائے کی ضیافت کے بعد ڈاکٹر صاحب نے اشتہار کی بات چھیڑ دی اور خود کو کسی قدر بے قصور بتاتے ہوئے معافی طلب کی۔ میں نے عرض کیا: ڈاکٹر صاحب آپ میرے محسن و مشفق رہے ہیں۔ میں آپ کا مزاج شناس ہوں ۔ میرا دل آپ کی طرف سے بالکل صاف ہے۔

ڈاکٹر صاحب جب بھی دہلی تشریف لاتے تھے، مجھ سے ضرور ملاقات کرتے تھے۔ میں جب بھی بلریا گنج گیا، ان سے ضرور ملاقات کی اور ان کی ضیافت سے بھی شاد کام ہوا۔ چند برس پہلے جامعۃ الفلاح کے ذمے داروں نے مجھے استاذ زائر (Visiting Professor) کے طور پر طلب کیا تو میں اپنی بعض مجبوریوں کے باوجود اس خدمت کے لیے آمادہ ہو گیا ۔ ہر مہینے کے اوائل یا اواخر میں پابندی کے ساتھ کبھی ہفتے یا عشرے کے لیے میں وہاں جاتا تھا۔ کچھ اوقات تو کلاسوں میں دیتا تھا، باقی تمام اوقات مسجد میں فجر ، مغرب اور عشا کے بعد مختلف جماعتوں کے منتخب طلبہ کو تجوید و قرات پڑھاتا تھا۔ یہ سلسلہ کئی سال تک چلا۔ اعلیٰ درجات کے بعض گروپوں کو میں نے اپنی طرف سے سندیں بھی دیں۔ ڈاکٹر صاحب اس سلسلے سے بہت خوش تھے۔ فرماتے تھے: گرچہ وقت تو بہت کم ہے، پھر بھی طلبہ کو بہت کچھ مل جاتا ہے۔ ان کے اندر نمایاں فرق محسوس کیا جاتا ہے۔ اپنی اس خوشی کا اظہار انھوں نے مولانا ابوالبقا ندوی اور بعض دوسرے حضرات سے بھی کیا۔

ڈاکٹر خلیل احمد صاحب سے میری آخری ملاقات اس وقت ہوئی ، جب وہ جامعۃ الفلاح کے ایک انتخابی سلسلے میں دہلی تشریف لائے ہوئے تھے۔ وہ ملاقات تو بہت مختصر رہی۔ لیکن اس کی مٹھاس اب تک باقی ہے۔ اب وہ ہم سے رخصت ہو چکے ہیں ، اس دنیا میں ان سے ملاقات ممکن نہیں ہے۔ لیکن ان کی شفقتوں محبتوں اور ضیافتوں کی یادیں تا دیر باقی رہیں گی۔ دین وملت کے فروغ و ارتقا کے لیے ان کی بے چینی اور فکر مندی ہمیشہ اپنی روشنی بکھیرتی رہے گی۔ سچ کہا ہے سکندر علی وجد نے:

جانے والے کبھی نہیں آتے جانے والوں کی یاد آتی ہے

ڈاکٹر تابش مہدی

ق

ڈاکٹر تابش مہدی

(ممتاز محقق و ادیب)

اردو ادب، سوانح نگاری اور ملی شخصیات کے تاریخی کوائف پر وقیع مضامین کے نگارندہ۔

مصنف کے تمام مضامین دیکھیں ←