مواد کی طرف جائیں (Skip to main content)
علمی، فکری، تحقیقی و دعوتی ترجمان — قائم شدہ: 1978ء
تازہ شمارہ: جولائی تا ستمبر 2026ء

دھڑکنیں

حجمِ خط:
رسم الخط:
خلاصۂ مقالہ:ہم سب اپنے باب سے محروم ہوگئے۔

ہم سب اپنے باب سے محروم ہوگئے۔

اس صدی کی متعدد شخصیتیں ایسی ہیں جنہوں نے نوجوانوں کو متاثر کیا ہے۔ لیکن اقبال اور مرشد مودودی کی گہری فکری چھاپ کے مقابلے میں دوسروں کی چھاپ پھیکی نظر آتی ہے۔ انھوں نے دلوں کو جو ولولۂ تازہ، دماغوں میں انقلابی برقی رو اور ذہنوں کو جو حوصلۂ بے تاب عطا کیا ہے یہ اسی کا فیض ہے کہ آج اسلام محض دھرم کی بجائے مکمل نظام کے روپ میں سامنے آگیا ہے۔ ایک انقلابی تحریک کی شکل میں دنیا کے ہر گوشے میں مصروفِ عمل ہے جس نے ایران کے دو ہزار سالہ مستبد جابر حکومت کا تختہ پلٹ کر امن و انصاف کی حکومت قائم کی، جس نے افغانی مجاہدین کو سرخ بھیڑیوں کو چت کر دینے کا عزم دیا اور جس نے پاکستان میں لادینی عناصر کی لٹیا ڈبو دی ہے۔ ہندوستان میں جس کے شیدائی ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے منصورہ میں اکٹھا ہو رہے ہیں۔

مولانا مودودیؒ پہلے فرد ہیں جنہوں نے نوجوانوں کو انقلابی تحریک کی راہ پر لگایا۔ انہیں مقصد سے سچا عشق اور اپنی خودی کا عرفان اور صحیح منزل کی آگہی دی۔ انہیں جہانِ فانی کی حقیقتوں سے خبردار کر کے “جہانِ نو” تعمیر کرنے کیلئے تیار کیا، یہ ہی وجہ ہے کہ آج ہم نوجوان مولانا کے انتقال سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ آج ہم ہند و پاک ہوں، یا عرب و عجم، صحرائے افریقہ ہو یا سبزہ زارانِ یورپ، جہاں بھی متحرک ہیں اور اسلامی نظام کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں، سب مرشدی مودودیؒ کا فیضانِ نظر ہے۔

مرشدی مودودیؒ کیا تھے؟ بس یوں سمجھو انقلاب کی آواز تھے، انقلاب جو کاخِ امراء کے در و دیوار کو ہلا کر مزدوروں کی حکومت قائم نہیں کرنا چاہتا تھا اور جسے مغربی استعماریت کا باغ و بہار بننا منظور نہ تھا۔ سرخ و سپید سے آزاد انقلاب، دائیں بائیں بازو سے نا وابستہ انقلاب۔ امیروں غریبوں کو ایک صف میں کھڑا کرنے والا انقلاب۔ انسانیت کو ایک خدا کی بندگی پر آمادہ کر کے دوسری تمام بندگیوں سے نجات دلانے والا انقلاب۔ اور یہ آواز اب اقصائے عالم میں گونج چکی ہے۔ جنگل کے پتے پتے پر، در و دیوار کی ہر ہر اینٹ پر، اور انسانوں کے دلوں اور نوجوانوں کے دماغوں پر انمٹ نقوش ثبت کر چکی ہے۔ اب یہ آواز دبائے نہیں دب سکتی۔ وقت کے جابر حکمرانوں نے اس آواز کو دبانا چاہا، وہ خود دب گئے لیکن یہ ابھرتی چلی گئی۔ اور آج اس کی بازگشت واشگاف سنائی دے رہی ہے۔

سیدی مودودیؒ علم و عمل میں پہاڑی کا چراغ۔ بصیرت و بصارت اور عقل و دانشوری میں منارۂ نور کا نام ہے۔ موقف کی راستی، فکر کی صحت، عمل میں اخلاص و للہیت، بے پناہ تبحر علمی اور حضرت علامہ کے بقول فقیری کی شان میں امیری کو مولانا مودودیؒ کہتے ہیں۔ تاریخ میں ایک سے ایک بڑھ کر نابغۂ روزگار اور عبقریِ زمانہ پیدا ہوئے، بڑے بڑے منصب پر فن کار، سیاست دان، محقق، ہادی و لیڈر اپنی جلوہ طرازی دکھا گئے۔ مگر ان سب کی کوششیں اور کارنامے کسی ایک میدان اور کسی ایک فن تک محدود رہے۔ ہندوستان کی جدید ترین تاریخ کو علامہ فراہیؒ جیسا مفسر و محقق، ابوالکلام جیسا خوش بیان خطیب اور آگ لگانے والا قلمکار، محمد علی جوہر جیسا بیباک مقرر، علامہ شبلی جیسا محقق، ان سب کی سیرتیں پڑھو، سب کی کوششیں اور سرگرمیاں کسی ایک خاص میدان تک محدود رہیں۔

مگر حیرت ہوتی ہے سیدی مودودیؒ کی زندگی پر کہ ایک طرف بہترین افکار و نظریات پر مشتمل ضخیم لٹریچر تیار کیا، دوسری طرف لاکھوں نوجوانوں کی سیرت سازی کا سب سے مشکل کام کر دکھایا، تیسری طرف تحریکِ اسلامی کی قیادت کی، دن دن بھر دوروں کا پروگرام، تقریریں، ملاقاتیں سب کچھ انجام دیا اور چوتھی طرف ملک کے لادینی عناصر سے ٹکر بھی لی۔ یہی نہیں بلکہ اپنوں اور علماء کی طرف سے بھی تیز و تند حملوں کو برداشت کیا۔

مرشدی مودودیؒ نوجوانوں کے باپ اور شفیق باپ تھے۔ آج ہمارا یہ باپ ہم سے جدا ہو کر اپنے رب سے جا ملا ہے، اب ہم نوجوانوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ:

ہمارا وطن بھارت تہذیبی جارحیت کا شکار رہے گا؟

یہ غیروں کے در پر دستِ سوال دراز کرتا رہے گا؟

یہاں اخلاقی اقدار پامال ہوتے رہیں گے؟

نوجوانوں کا استحصال ہوتا رہے گا؟

یا

ہم مولانا مودودیؒ کے عقیدت مند اسلام پسند نوجوان اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ملک کو تباہی سے بچانے کی کوشش کریں گے۔ نوجوانوں کو بروقت آگاہ کریں گے اور ملک کی تعمیر میں ان کے کردار سے روشناس کرائیں گے۔

دوستو! آؤ ہم بہت رو چکے۔ اب اپنے آنسو خشک کریں۔ ہم اپنی رقتوں، سسکیوں اور آہوں کو ترنم میں تبدیل کرائیں۔ فضا کی سوگواری ختم کریں۔ اور اب ہم سب پوری یکسوئی اور کامل توجہ کے ساتھ اس مشن کی تکمیل میں لگ جائیں جو ہم سب کے مرشد، ہم سب کے شفیق باپ اور ہم سب کے رہبر نے چھوڑا ہے۔

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ

(اداریہ ، ماہنامہ حیات نو ، شمارہ نمبر 10- اکتوبر 1979ء)

تحریر : انصار احمد فلاحی۔ بلریاگنج

تم یاد کرو گی یا میں امریکہ روانگی سے قبل ایک روز کھانے پر ہماری والدہ نے ایک سالن آگے کرتے ہوئے کہا: ‘میاں صاحب! آپ بھی کھا لیں کیا یاد کریں گے۔ مولانا نے فوراً جواب دیا: “تم یاد کرو گی یا میں یاد کروں گا۔” والد مرحوم کی ہر بات معنی خیز ہوتی تھی۔ (حسین فاروق مودودی)

ق

انصار احمد فلاحی

(جامعۃ الفلاح)

ادبی و روحانی نگارشات کے خالق اور دینی مضامین کے قلم کار۔

مصنف کے تمام مضامین دیکھیں ←