مواد کی طرف جائیں (Skip to main content)
علمی، فکری، تحقیقی و دعوتی ترجمان — قائم شدہ: 1978ء
تازہ شمارہ: جولائی تا ستمبر 2026ء

ہمارے ڈاکٹر صاحب!

حجمِ خط:
رسم الخط:
خلاصۂ مقالہ:جامعۃ الفلاح کا خیال آتے ہی بلریا گنج کی جن چند شخصیات کے نام ذہن کے کینوس پر ابھر کر سامنے آجاتے ہیں ان میں حکیم محمد ایوب صاحب ، شیخ منیر صاحب ، حاجی متین صاحب، مولوی محمد عیسی ص...

جامعۃ الفلاح کا خیال آتے ہی بلریا گنج کی جن چند شخصیات کے نام ذہن کے کینوس پر ابھر کر سامنے آجاتے ہیں ان میں حکیم محمد ایوب صاحب ، شیخ منیر صاحب ، حاجی متین صاحب، مولوی محمد عیسی صاحب ، منشی محمد انور صاحب کے علاوہ ایک نہایت معتبر نام ڈاکٹر خلیل احمد صاحب کا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان مؤسسین فلاح کی مخلصانہ خدمات کو قبول فرما کر جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔

گذشتہ ۴ مئی کو ڈاکٹر صاحب کی ملاقات اور عیادت کے لیے بلریا گنج حاضر ہوا تھا۔ دیر تک ملاقات رہی۔ چائے ناشتہ کے بعد لنچ کا بھی انتظام کرایا اور پھر اپنے بیٹے برادرم خلیق الرحمن کے ساتھ اپنی نو تعمیر مسجد اور لائبریری دیکھنے کے لیے بھیجا۔ اس سفر کا زیادہ وقت ڈاکٹر صاحب کے ساتھ گذرا، گرچہ اس بار پہلے جیسی گرم جوشی کے باوجود گفتگو میں تسلسل کی کمی تھی ، لہذا دم رخصت ایک موہوم اندیشہ بار بار پریشان کرتا رہا لیکن یہ آخری ملاقات ہو جائے گی اس کا یقین نہیں تھا۔ آخر ۲۸ اور ۲۹ مئی کی درمیانی شب کو فلاح کا روح رواں، اس کا مؤسس ، دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کی پر زور وکالت کرنے والا ماہر تعلیم اور پیکر اخلاص و مروت اپنے لگائے ہوئے پودے کو تناور درخت کی شکل میں دیکھ کر اپنے پیچھے بھرا پر خاندان چھوڑ ہمیشہ کے لیے دار فانی سے رخصت ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

زمانہ طالب علمی میں میرا ڈاکٹر صاحب سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا، البتہ کالی شیروانی میں ملبوس سائیکل کے ساتھ ان کی وضع دار شخصیت سے یہ تاثر ضرور پیدا ہوتا کہ یہ جامعہ کے ناظم ، کامیاب معالج اور مسلم یونیورسٹی کے فرزند ہیں۔ باقاعدہ تعارف اس وقت ہوا جب استاد محترم مولانا شبیر احمد اصلاحی کو پھوڑے کے آپریشن کے سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کی کلینک پر ڈاکٹر اشتیاق صاحب کے پاس لے جانا پڑا۔ آپریشن کے وقت نشتر لگتے ہی میں غشی کھا کر گر پڑا، ہوش آیا تو ڈاکٹر صاحب نے دریافت حال کے بعد تعارف کرایا تو پتہ چلا کہ میرے ماموں زاد بھائی ڈاکٹر سفیان صاحب ( پوٹریا) ڈاکٹر صاحب کے کلاس فیلو ہیں۔ اس تعلق سے کبھی کبھی مطب پر دوا لینے چلا جایا کرتا تھا۔

عربی ششم کے درمیان سے مجھے ندوہ جانے کا حکم ہو گیا۔ وہاں سے مدرسہ بورڈ کی عالم کی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر بی یو ایم ایس میں داخلہ ہوا۔ اس طرح مسلم یونیورسٹی سے وابستہ ہونے کی دیرینہ تمنا اور شوق پورا ہوا۔ میرے ساتھ حمد اللہ فراہی بھی تھے یوں پہلی بار دو فلاحیوں (ایک مکمل اور دوسرا ادھورا) کا علی گڑھ میں داخلہ ہوا جس کا قلق اور احساس برابر رہا کہ مدارس کے فارغین معیاری تعلیم کے باوجود عصری درسگاہوں میں داخلے کے مجاز نہیں ہوتے ۔ لہذا دل میں ٹھان لیا کہ فلاح کی سند کو ضرور منظور کرایا جائے ۔ اس کا تذکرہ منشی سہیل صاحب سے کیا اور ان کے ذریعہ تجویز ڈاکٹر خلیل صاحب کو بھیجی گئی جس کو ڈاکٹر صاحب نے عاملہ سے پاس کرا کے ضروری کاغذات کے ساتھ نگراں جنید صاحب اور مولانا مطیع اللہ صاحب فلاحی کو علی گڑھ بھیجا اور کارروائی کے لیے مجھے پورا اختیار دیا۔ پھر کیا تھا اللہ تعالیٰ کا نام لے کر کام شروع کر دیا۔

ان دنوں علی گڑھ میں فلاح کو جاننے والے ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ، ڈاکٹر حمید اللہ اور ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلی صاحبان ہی تھے۔ سب سے رابطہ کیا مگر کسی نے حوصلہ افزائی نہیں کی، بلکہ نجات اللہ صدیقی صاحب نے تو یہ کہہ کر مزید مایوس کر دیا کہ ندوہ وغیرہ کا داخلہ گریجویشن سطح پر نہیں ہوتا تو فلاح کا کیسے ہو جائے گا۔ بہر حال خاموشی سے تین سالوں تک محنت ہوتی رہی اور محترم ڈاکٹر خلیل احمد صاحب کی مکمل تائید اور ہر طرح سے سپورٹ کی بدولت کوشش بار آور ہوئی۔ اس سلسلے میں جن لوگوں کے بے لوث سپورٹ کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور جو پوری فلاحی برادری کے شکریہ کے مستحق ہیں ان میں سر فہرست یونیورسٹی رجسٹرار جمال صاحب، ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنس پروفیسر انوار الحق حقی صاحب، پرووسٹ سرسید ہال پروفیسر حسام الدین فاروقی صاحب، پروفیسر کمال الدین ہمدانی طبیہ کالج اور صدر اسٹوڈنٹس یونین برادر مکرم زیڈ کے فیضان صاحب جنھوں نے اس سعی پیہم میں ہمارا ساتھ دیا۔

آج جامعۃ الفلاح کو جو شہرت اور عروج حاصل ہوا ہے وہ ڈاکٹر صاحب کی دور اندیشی اور عصری تعلیمی درسگاہوں سے فلاح کی ہم آہنگی اور ملک و بیرون ملک کی جامعات سے الحاق کے دور اندیشانہ فیصلے کی بدولت ہے۔ جس کا سہرا بڑی حد تک ڈاکٹر صاحب کو جاتا ہے۔

مولانا ابواللیث اصلاحی کے دور نظامت میں ڈاکٹر صاحب کی سفارش پر سب سے سینئر فلاحی ابوالمکارم صاحب اور ناچیز کو فلاح کی انتظامیہ کا ممبر بنایا گیا ، جبکہ بیرون ملک ملازمت کے سبب دیر تک خدمت نہیں کر سکا اور مستعفی ہو گیا۔

۱۹۸۰ء میں جب میں اعظم گڑھ سول اسپتال میں زیر ٹریننگ تھا اس دوران انجمن طلبہ قدیم کا پہلا کنونشن ہونا طے پایا جس کی ذمہ داری مجھ پر ڈال دی گئی ، اور ڈاکٹر ابرار فلاحی چاند پٹی و انصار احمد فلاحی بلریا گنج کو معاون کنوینز بنایا گیا۔ جلسہ کی تیاری بڑے پیمانہ پر شروع کر دی گئی۔ جس کمرہ میں میرا قیام ہوا کرتا تھا اس پر دفتر انجمن طلبہ قدیم کی تختی لگوا دی گئی ۔ ڈاکٹر صاحب کو کسی نے سمجھایا کہ اس سے یونین بن جائے گی اور یہ فلاح کے مفاد میں نہیں ہے۔ یہ بات ناظم صاحب کو بھی پہنچادی گئی۔ ڈاکٹر صاحب نے منع کروا دیا جس کے جواب میں میں نے کہلوایا کہ یہ جامعہ کے حق میں نہیں ہے۔ آفس تو ہم لوگ کہیں باہر بنالیں گے لیکن ٹکراؤ ہمیشہ کے لیے ہو جائے گا۔ پھر کوئی رکاوٹ نہیں پیدا کی گئی اور کنونشن بہت کامیاب رہا۔ تین نشستوں میں اجلاس ہوا جس میں پہلی بار مولانا سعید احمد اکبر آبادی، ڈاکٹر احمد اللہ صدیقی ، صباح الدین عبد الرحمن، مولانا مجیب اللہ ندوی، ڈاکٹر شبنم سبحانی، جناب حفیظ میرٹھی ، اور جناب مائل خیر آبادی وغیرہ نے شرکت کی ۔ مولانا جلیل احسن ندوی نے درس قرآن دیا۔ فجر کی نماز کے بعد ناظم صاحب نے تمام فلاحیوں کو چائے پر بلایا اور بڑی مشفقانہ و حوصلہ افزا تقریر کی اور اپنی غلط فہمی پر اظہار افسوس کیا۔ ساتھ ہی کنونشن کے کامیاب انعقاد کے لیے مبارکباد دی۔ بعد میں لوگوں نے دیکھا اور جو موجود ہیں وہ دیکھ رہے ہیں کہ مادر علمی کی تعمیر و ترقی میں طلبہ قدیم کا کیسا مثبت رول رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو بھی اس کا احساس ہوا اور فیصلہ کو غلط فہمی پر مبنی بتا کر معذرت کی۔

سعودی عرب کی ملازمت ترک کر کے جگدیش پور کے نواح میں ایک معیاری تعلیمی ادارہ کے قیام کے منصوبہ کے ساتھ ہندوستان واپس آیا تو ڈاکٹر صاحب کو اس پلان سے آگاہ کیا، تو فورا حاجی متین صاحب کے ساتھ مجوزہ زمین اور علاقہ کا ماحول دیکھنے جگدیش پور تشریف لائے اور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا کام بہت مشکل ہے مگر تم کر لو گے۔

اس موقع پر حاجی متین صاحب نے انتظامیہ کی میٹنگ میں مدعو خصوصی کی حیثیت سے شرکت کا لیٹر بھی دیا مگر کالج کی ابتدائی تاسیسی مصروفیات کی وجہ سے میں نے معذرت کر لی۔ پھر اس قدر مصروف ہوا کہ سالوں پیچھے مڑ کر دیکھنے کا موقع نہ ملا۔ جب کبھی فلاح جانا ہوتا تو کوشش یہی رہتی کہ گھر جا کر ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کروں ، اگر کبھی تاخیر ہوتی اور انھیں میری حاضری کا علم ہو جاتا تو خود مہمان خانے آکر شرمندہ کر دیتے ۔ یہ ان کا بڑا پن تھا۔

علی گڑھ قیام کے دوران دوبار مجھے ساتھ لے کر جودھپور طبیہ کالج اور جے پور طبیہ کالج دیکھنے گئے۔ سفر میں مثالی کردار کا مظاہرہ کرتے اور اپنے سے زیادہ میرا خیال رکھتے۔ سفر میں بھی نمازوں کا پورا اہتمام فرماتے ۔ دہلی تشریف لاتے تو گھر ضرور آتے خاص کر اگر میرے دہلی میں ہونے کی اطلاع ہوتی۔

اس جولائی میں فری کلینک کے افتتاح کے لیے خاص طور سے ڈاکٹر صاحب کو مدعو کرنے کا پختہ ارادہ تھا کہ ان کے نام کا ایک یادگاری پتھر بوبلی میں بھی نصب ہو جاتا مگر شاید قدرت کو ڈاکٹر صاحب کا فلاح سے باہر کسی اور ادارہ کی یادگار بننا منظور نہ تھا، افسوس کہ اب جب کلینک افتتاح کے لیے تیار ہے تو ڈاکٹر صاحب ہی نہ رہے۔

ڈاکٹر صاحب عزم کے پختہ، خاموش طبع ، ملنسار، کفایت شعار، سادگی پسند اور علم کے قدر دان تھے۔ ایک بار گھر رساول کھلانے لے گئے ۔ رساول اور موٹی بالائی کے ساتھ بے حد لطف آیا ، مگر آخر میں یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ کھانے کے بعد پیالے کو دھو کر پیا۔ آخر میں بطور خراج عقیدت قتیل شفائی کے دو شعر نذر کرتا ہوں:

اس ایک شخص میں تھیں دل ربائیاں کیا کیا
ہزار لوگ ملیں گے مگر کہاں وہ شخص
قتیل کیسے بھلائیں ہم اہل درد اُسے
دلوں میں چھوڑ گیا سب کے اک نشاں وہ شخص

اطہر ریحان فلاحی

ق

اطہر ریحان فلاحی

(فلاحی قلم کار)

جامعۃ الفلاح کے ممتاز فاضل اور تحقیقی و تاثراتی مضامین کے مصنف۔

مصنف کے تمام مضامین دیکھیں ←