مواد کی طرف جائیں (Skip to main content)
علمی، فکری، تحقیقی و دعوتی ترجمان — قائم شدہ: 1978ء
تازہ شمارہ: جولائی تا ستمبر 2026ء

عہدِ اطلاعات میں مسلم ذہن کا محاصرہ

حجمِ خط:
رسم الخط:
خلاصۂ مقالہ:بعض اوقات تاریخ اپنے رخ بدلنے کا اعلان کسی توپ کی گھن گرج یا کسی سلطنت کے زوال سے نہیں کرتی بلکہ خاموشی سے انسانی زندگی میں سرایت کر جاتی ہے۔ بعد میں جب مورخ مڑ کر دیکھتے ہیں تو ان...

بعض اوقات تاریخ اپنے رخ بدلنے کا اعلان کسی توپ کی گھن گرج یا کسی سلطنت کے زوال سے نہیں کرتی بلکہ خاموشی سے انسانی زندگی میں سرایت کر جاتی ہے۔ بعد میں جب مورخ مڑ کر دیکھتے ہیں تو انھیں احساس ہوتا ہے کہ اصل انقلاب میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ انسانی ذہن کے اندر برپا ہوا تھا۔ ہمارا زمانہ بھی شاید ایسی ہی ایک تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار جنگ سرحدوں پر نہیں لڑی جا رہی، ذہنوں کے اندر لڑی جا رہی ہے۔ اور اس جنگ کے سپاہی ٹینک یا توپیں نہیں بلکہ تصاویر، ویڈیوز، خبریں، ہیش ٹیگ، الگورتھم اور مصنوعی ذہانت ہیں۔

تاریخ میں طاقت کی تعریف بارہا بدلی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب زمین طاقت تھی۔ پھر فوج طاقت بن گئی۔ صنعتی انقلاب آیا تو سرمایہ طاقت کا سب سے بڑا سرچشمہ قرار پایا۔ لیکن اکیسویں صدی میں طاقت کی ایک نئی شکل سامنے آئی ہے: اطلاعات اور بیانیہ۔ آج وہی شخص، ادارہ یا ریاست زیادہ طاقت ور ہے جو لوگوں کو یہ باور کرانے کی صلاحیت رکھتی ہو کہ حقیقت کیا ہے، خطرہ کہاں ہے اور امید کس سے وابستہ کی جانی چاہیے۔

اس حقیقت کو سب سے پہلے جدید ابلاغیات کے مفکرین نے سمجھا تھا۔ مارشل میکلوہن کا مشہور جملہ “The medium is the message”نصف صدی قبل شاید ایک علمی بحث محسوس ہوتا تھا، لیکن آج یہ ہمارے عہد کی سب سے بڑی سیاسی اور سماجی حقیقت بن چکا ہے۔ اب پیغام سے زیادہ اہم وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے پیغام پہنچایا جاتا ہے۔ اگر کسی کے پاس ذرائع ابلاغ پر غلبہ حاصل ہو جائے تو وہ صرف خبریں نہیں سناتا، وہ حقیقت کی تعبیر بھی متعین کرتا ہے۔

اس تبدیلی کو سمجھنے کے لیے بہت دور جانے کی ضرورت نہیں۔ گزشتہ پندرہ بیس برسوں میں دنیا نے دیکھا ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا نے روایتی سیاست، صحافت اور سماجی تعلقات کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ کبھی اخبارات عوامی رائے تشکیل دیتے تھے، پھر ٹیلی ویژن نے یہ کردار سنبھال لیا۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ ایک اسمارٹ فون رکھنے والا شخص بھی لاکھوں لوگوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ بظاہر یہ ایک جمہوری پیش رفت تھی، لیکن جلد ہی معلوم ہوا کہ یہ آزادی صرف سچ بولنے والوں کو نہیں ملی بلکہ جھوٹ گھڑنے والوں کو بھی میسر آ گئی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سے ہمارے عہد کا سب سے بڑا بحران جنم لیتا ہے۔

جھوٹ انسانی تاریخ میں ہمیشہ موجود رہا ہے، لیکن اس کی رفتار محدود تھی۔ ایک جھوٹ کو پھیلنے کے لیے وقت درکار ہوتا تھا۔ آج صورت حال اس کے برعکس ہے۔ ایک فرضی ویڈیو، ایک سیاق و سباق سے کاٹی گئی تصویر یا ایک من گھڑت اقتباس چند گھنٹوں کے اندر کروڑوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ سچائی کو ثبوت درکار ہوتے ہیں، تحقیق درکار ہوتی ہے، احتیاط درکار ہوتی ہے،جبکہ جھوٹ کو صرف جذبات درکار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید دنیا میں جھوٹ کی رفتار سچائی سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے۔

اس عالمی تناظر کو سامنے رکھ کر اگر ہندوستانی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو تصویر مزید پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں ذرائع ابلاغ کے کردار میں ایک نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ صحافت کا بنیادی فریضہ اقتدار سے سوال پوچھنا، طاقت کے مراکز کا احتساب کرنا اور عوام کو غیر جانب دار معلومات فراہم کرنا سمجھا جاتا تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ میڈیا کے ایک بڑے حصے نے اس کردار سے دست برداری اختیار کر لی۔ اب خبر اور رائے کے درمیان موجود فاصلہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ ناظرین کو محض واقعات نہیں بتائے جاتے بلکہ ان واقعات کے بارے میں ایک مخصوص زاویۂ نظر بھی پیش کر دیا جاتا ہے۔

یہ رجحان صرف ہندوستان تک محدود نہیں۔ امریکہ میں عراق جنگ کے دوران “ایمبیڈڈ جرنلزم” کی اصطلاح سامنے آئی۔ صحافی فوجی دستوں کے ساتھ رہ کر رپورٹنگ کر رہے تھے اور ان کی معلومات کا بڑا حصہ انہی ذرائع سے حاصل ہو رہا تھا جن کا احتساب ان کی ذمہ داری تھی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ عراق میں تباہ کن ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں جو دعوے کیے گئے تھے، ان میں سے اکثر بے بنیاد تھے۔ لیکن اس وقت تک جنگ شروع ہو چکی تھی، ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی تھیں اور رائے عامہ تشکیل پا چکی تھی۔

یہ مثال اس لیے اہم ہے کہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ میڈیا کی جانبداری کوئی ہندوستانی ایجاد نہیں ہے۔ فرق صرف شدت اور پیمانے کا ہے۔ ہر معاشرے میں طاقت ور حلقے ذرائع ابلاغ کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن جب یہ عمل مسلسل، منظم اور طویل المدت ہو جائے تو اس کے نتائج پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔

ہندوستان میں مسلمانوں کے حوالے سے یہ صورت حال خاص طور پر تشویش ناک رہی ہے۔ نائن الیون کے بعد دنیا بھر میں اسلام اور دہشت گردی کے درمیان ایک مصنوعی ربط قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔ مغربی دنیا میں پیدا ہونے والا یہ بیانیہ مختلف شکلوں میں دوسرے معاشروں تک بھی پہنچا۔ ہندوستان میں بھی اس کے اثرات محسوس کیے گئے، لیکن یہاں مقامی سیاسی ضروریات نے اسے مزید تقویت بخشی۔

آہستہ آہستہ مسلمان ایک شہری، ایک ہمسایہ یا ایک پیشہ ور فرد کے بجائے ایک سیاسی علامت میں تبدیل ہونے لگے۔ میڈیا مباحثوں میں ان کا ذکر اکثر مسائل کے تناظر میں ہونے لگا۔ کبھی دہشت گردی، کبھی آبادی، کبھی مدارس، کبھی حجاب اور کبھی مساجد۔ گویا ایک پوری کمیونٹی کو مسلسل دفاعی پوزیشن میں کھڑا کر دیا گیا۔

اس پورے عمل کا سب سے خطرناک پہلو یہ تھا کہ مسلمان اکثر گفتگو کا موضوع تھے، شریکِ گفتگو نہیں۔ ان کے بارے میں باتیں بہت ہوئیں، ان سے بات کم کی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایسا بیانیہ تشکیل پانے لگا جس میں مسلمان ایک حقیقی انسانی برادری کے بجائے ایک تجریدی تصور بن گئے۔

اس صورت حال کو سوشل میڈیا نے مزید پیچیدہ بنا دیا۔ واٹس ایپ گروپوں، فیس بک صفحات اور یوٹیوب چینلوں کی ایک پوری دنیا وجود میں آ گئی جہاں خبر اور افواہ کے درمیان کوئی واضح حد باقی نہیں رہی۔ اس دنیا میں جذبات حقائق پر غالب آ گئے اور تصدیق کی جگہ تاثر نے لے لی۔

کورونا وبا کے دوران تبلیغی جماعت کے خلاف چلائی گئی مہم اس کی ایک واضح مثال ہے۔ ایک مخصوص اجتماع کو اس انداز سے پیش کیا گیا کہ گویا پورے ملک میں وبا کے پھیلاؤ کی ذمہ داری اسی کے کندھوں پر ہو۔ بعد میں مختلف عدالتوں اور تحقیقات نے متعدد الزامات کو کمزور یا بے بنیاد قرار دیا، لیکن عوامی ذہن میں جو نقش قائم ہونا تھا وہ قائم ہو چکا تھا۔ اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ جدید دور میں کردار کشی کے لیے ہمیشہ ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ بعض اوقات صرف ایک مؤثر بیانیہ کافی ہوتا ہے۔

یہ محض ایک واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک علامت تھی۔ ایک ایسی علامت جو یہ بتاتی ہے کہ آج کی دنیا میں سچائی اور جھوٹ کی جنگ صرف حقائق کی جنگ نہیں رہی بلکہ ذرائع ابلاغ، جذبات اور نفسیات کی جنگ بن چکی ہے۔

اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں سے ہندوستانی مسلمانوں کے موجودہ بحران کو سمجھنا شروع کیا جا سکتا ہے

مسلمانوں کے تعلق سے بنائے گئے اس بیانیے کا ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس نے زمینی حقیقتوں اور عوامی تصورات کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر دی ہے۔ معاشرتی علوم کے ماہرین اکثر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جدید سیاست حقائق سے زیادہ تصورات پر چلتی ہے۔ لوگ ہمیشہ اس بنیاد پر ردِ عمل ظاہر نہیں کرتے کہ حقیقت کیا ہے بلکہ اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ انہیں حقیقت کے بارے میں کیا باور کرایا گیا ہے۔

ماب لنچنگ کے واقعات کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

یہ محض چند مجرمانہ واقعات نہیں تھے جنہیں قانون اور نظم و نسق کی ناکامی قرار دے کر فراموش کر دیا جائے۔ ان واقعات کی نفسیاتی اور سماجی معنویت کہیں زیادہ گہری ہے۔ ان کا مقصد صرف چند افراد کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ایک وسیع تر پیغام دینا ہوتا ہے۔ ایسے واقعات پورے معاشرے کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ طاقت کے مراکز کہاں ہیں اور خوف کس کے حصے میں آئے گا۔

گزشتہ برسوں میں لنچنگ کے متعدد واقعات کے متاثرین سے گفتگو کا موقع ملا۔ ان ملاقاتوں میں ایک بات مشترک تھی: خوف۔ وہ خوف جو صرف جان کے ضیاع کا خوف نہیں بلکہ انصاف سے محرومی کا خوف بھی ہے۔ بعض متاثرین نے یہ محسوس کیا کہ ان کی کہانی چند دن خبروں میں رہنے کے بعد فراموش کر دی گئی۔ ان کے زخم ذاتی رہے، قومی نہیں بن سکے۔

یہاں سوال صرف اکثریتی معاشرے سے نہیں بلکہ خود مسلمانوں سے بھی ہے۔ کیا ہم نے ان واقعات کو اپنی اجتماعی ترجیحات میں وہ مقام دیا جس کے وہ مستحق تھے؟

ہماری اجتماعی نفسیات کا ایک عجیب المیہ یہ ہے کہ ہم دور دراز کے المیوں پر فوری ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں لیکن اپنے آس پاس رونما ہونے والے سانحات کے ساتھ وہ جذباتی اور فکری تعلق پیدا نہیں کر پاتے جو ضروری ہے۔ فلسطین ہو، شام ہو یا روہنگیا، ان تمام مسائل پر حساس ہونا ہمارا اخلاقی اور انسانی فرض ہے۔ مظلوم جہاں بھی ہو، اس کے حق میں آواز بلند ہونی چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنے محلوں، قصبوں اور شہروں میں رونما ہونے والی ناانصافیوں کو بھی اسی سنجیدگی سے موضوعِ گفتگو بنایا؟

کسی بھی بالغ اور زندہ قوم کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ بیک وقت دو کام کر سکتی ہے: عالمی مسائل پر بھی نظر رکھتی ہے اور مقامی مسائل کو بھی نظر انداز نہیں کرتی۔ افسوس یہ ہے کہ ہم اکثر ان دونوں میں توازن قائم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہماری قیادت کا مزاج بھی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں مسلمانوں کی مذہبی اور سماجی قیادت نے بہت سے اہم کام انجام دیے ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید دنیا کے تقاضوں کو سمجھنے میں وہ خاطر خواہ کامیاب نہیں ہو سکی۔ ہماری قیادت کا ایک بڑا حصہ ابھی تک بیسویں صدی کے سوالات کے جواب ڈھونڈ رہا ہے جبکہ دنیا اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں داخل ہو چکی ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہماری بیشتر تنظیمیں جلسے منعقد کر سکتی ہیں، جلوس نکال سکتی ہیں، قراردادیں پاس کر سکتی ہیں، لیکن جدید میڈیا، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ڈیٹا اینالیسس، پبلک پالیسی اور بیانیہ سازی جیسے میدانوں میں ان کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

آج اگر کسی نوجوان سے پوچھا جائے کہ رائے عامہ کہاں تشکیل پاتی ہے تو وہ شاید مسجد، جلسہ گاہ یا کانفرنس ہال کا نام نہیں لے گا۔ وہ یوٹیوب، ایکس، انسٹاگرام، پوڈکاسٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کا ذکر کرے گا۔ حقیقت بھی یہی ہے۔ آج سیاسی ایجنڈے پارلیمنٹ سے پہلے سوشل میڈیا پر بنتے ہیں۔ موضوعات نیوز روم سے پہلے ٹرینڈز میں جنم لیتے ہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم نے اس تبدیلی کو بہت دیر سے محسوس کیا۔

اردو صحافت کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ایک زمانہ تھا جب اردو اخبارات صرف خبریں نہیں دیتے تھے بلکہ فکری قیادت بھی فراہم کرتے تھے۔ مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابوالکلام آزاد، ظفر علی خان اور حسرت موہانی جیسے لوگوں نے صحافت کو محض پیشہ نہیں بلکہ ایک فکری اور قومی ذمہ داری کے طور پر برتا۔ ان کے اخبارات محدود وسائل کے باوجود پورے برصغیر میں فکری ارتعاش پیدا کرتے تھے۔

آج صورت حال مختلف ہے۔ اردو اخبارات کی اشاعت موجود ہے، قارئین بھی موجود ہیں، لیکن ان کی مجموعی فکری اور قومی اثر پذیری مسلسل سکڑتی جا رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ زبان کا بحران ہے اور دوسری وجہ وژن کا بحران۔

زبانیں کبھی مرتی نہیں، ان کے بولنے والے ان سے بے تعلق ہو جاتے ہیں۔ مسلمانوں کی نئی نسل کا ایک بڑا حصہ اردو سے جذباتی تعلق تو رکھتا ہے لیکن عملی تعلق کمزور پڑ چکا ہے۔ دوسری طرف اردو صحافت کا بڑا حصہ ابھی تک انہی سانچوں میں سوچ رہا ہے جو شاید تیس یا چالیس برس قبل کارآمد تھے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کے پاس ایسا کوئی قومی سطح کا میڈیا ادارہ موجود نہیں جو انگریزی یا ہندی میں مؤثر انداز سے اپنا نقطۂ نظر پیش کر سکے۔ دنیا آپ کے بارے میں کیا سوچتی ہے، اس کا فیصلہ صرف آپ کی نیت نہیں بلکہ آپ کی ابلاغی صلاحیت بھی کرتی ہے۔

یہاں ایک دلچسپ اور غور طلب پہلو سامنے آتا ہے۔

مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیوں کو چیلنج کرنے والے اہم ترین افراد اور اداروں میں سے اکثر کا تعلق خود مسلم برادری سے نہیں ہے۔ آزاد صحافی، انسانی حقوق کے کارکن، بعض ویب پورٹل اور فیکٹ چیکنگ ادارے وہ خدمات انجام دے رہے ہیں جو کسی حد تک ہمیں خود کرنی چاہیے تھیں۔

اس حقیقت کو شکایت کے بجائے خود احتسابی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

یہ سوال بہرحال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ مسلمانوں کے بارے میں سب سے زیادہ گفتگو ہو رہی ہے لیکن بیانیہ سازی کے میدان میں ان کی اپنی موجودگی نسبتاً کمزور ہے؟

اس کا جواب محض وسائل کی کمی میں تلاش کرنا کافی نہیں ہوگا۔ وسائل یقیناً اہم ہیں، لیکن وژن ان سے بھی زیادہ اہم ہے۔ قومیں صرف سرمائے سے ترقی نہیں کرتیں؛ وہ ترجیحات سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر کوئی معاشرہ تعلیم، تحقیق، ابلاغ اور ادارہ سازی کو اپنی ترجیحات میں شامل نہ کرے تو وسائل ہونے کے باوجود وہ پیچھے رہ سکتا ہے۔

مسلمانوں کی موجودہ صورت حال کا سب سے بڑا المیہ شاید یہی ہے کہ ہم نے جدید دنیا کے اصل میدانوں کی نشاندہی بہت دیر سے کی ہے۔ ہم ابھی تک ان جنگوں کی تیاری میں مصروف ہیں جو ختم ہو چکی ہیں، جبکہ نئی جنگیں ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہیں۔

یہاں پہنچ کر ایک اور سوال سامنے آتا ہے۔ اگر بیانیہ سازی اتنی ہی اہم ہے جتنا ہم نے بیان کیا ہے تو پھر آخر وہ لوگ کون ہیں جو اس میدان میں کام کر رہے ہیں؟ اور ان کی کامیابی یا ناکامی سے ہم کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں؟

گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان میں چند ایسے صحافی، ادارے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم سامنے آئے ہیں جنہوں نے طاقت ور بیانیوں کے مقابلے میں سوال اٹھانے کی کوشش کی۔ ان کی سیاسی آرا سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے بعض تجزیوں پر تنقید بھی ممکن ہے، لیکن ایک بات سے انکار مشکل ہے کہ انہوں نے صحافت کے اس بنیادی اصول کو زندہ رکھنے کی کوشش کی جس کے مطابق اقتدار سے سوال پوچھنا جمہوریت کی روح ہے۔

یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر افراد یا ادارے مسلمانوں کی نمائندہ تنظیمیں نہیں ہیں۔ ان کی وابستگی صحافت، انسانی حقوق یا جمہوری اقدار سے ہے۔ بعض آزاد صحافیوں نے، شدید دباؤ، مقدمات اور سوشل میڈیا پر ہونے والی منظم کردار کشی کے باوجود، ایسے موضوعات پر لکھنا جاری رکھا جن سے بڑے میڈیا ادارے گریز کرتے رہے۔ بعض ویب پورٹلوں نے فیک نیوز کی جانچ پڑتال کو اپنا مستقل مشن بنایا۔ بعض رسائل نے وہ تحقیقی صحافت پیش کی جس کی روایت دنیا بھر میں جمہوری معاشروں کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔

اس سے دو حقیقتیں واضح ہوتی ہیں۔

پہلی یہ کہ سچائی اور انصاف کسی ایک مذہب، قوم یا گروہ کی جاگیر نہیں ہیں۔ ہر دور میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو طاقت کے سامنے سوال اٹھانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ اگر دوسرے لوگ آپ کے مسائل کو بیان کر رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو گئے ہیں۔

دراصل یہ سوال پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے کہ مسلم سماج نے ابلاغ، تحقیق اور بیانیہ سازی کے میدان میں اپنی موجودگی کو اتنا محدود کیوں رہنے دیا؟

اس سوال کا جواب صرف موجودہ حالات میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ہمیں اپنی اجتماعی نفسیات کا جائزہ لینا ہوگا۔

ہماری تاریخ کا ایک بڑا حصہ دفاعی ذہنیت میں گزرا ہے۔ دفاع بعض اوقات ناگزیر ہوتا ہے، لیکن مسلسل دفاع انسان اور قوم دونوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر دیتا ہے۔ جب کسی معاشرے کی ساری توانائی صرف الزامات کا جواب دینے میں صرف ہونے لگے تو وہ نئے ادارے بنانے، نئے خیالات پیدا کرنے اور نئے میدان فتح کرنے کی صلاحیت کھونے لگتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو ڈگری تک، صحافت کو خبر تک اور سیاست کو نمائندگی تک محدود کر دیا، جبکہ جدید دنیا ان سب چیزوں کو بہت وسیع معنوں میں دیکھتی ہے۔

آج کی دنیا میں یونیورسٹی صرف تعلیم کا ادارہ نہیں بلکہ خیالات پیدا کرنے کی فیکٹری ہے۔ میڈیا صرف خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ رائے عامہ کی تشکیل کا مرکز ہے۔ اور ٹیکنالوجی صرف سہولت نہیں بلکہ طاقت کا سرچشمہ ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جسے سمجھنے میں ہم نے تاخیر کی۔

اس تاخیر کو سمجھنے کے لیے کبھی کبھی اپنے مخالفین یا حریفوں کی طرف بھی دیکھنا چاہیے۔ اس میں کوئی عار نہیں۔ تاریخ کا ہر کامیاب معاشرہ دوسروں سے سیکھتا آیا ہے۔

ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا ہے جو دنیا کے تمام مسائل کا سبب یہودیوں کو قرار دے کر مطمئن ہو جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ علمی ہے، نہ تاریخی۔ اگر دنیا میں بعض یہودی مفکرین، سائنس دان، بینکار، صحافی یا صنعت کار غیر معمولی کامیاب ہوئے ہیں تو اس کا سبب محض سازش نہیں ہو سکتا۔ سازش ایک حد تک اثر انداز ہو سکتی ہے، لیکن صدیوں تک نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جدید دنیا کی بہت سی سائنسی، معاشی اور فکری پیش رفتوں میں یہودی ذہنوں کا اہم کردار رہا ہے۔ طبیعیات سے لے کر معاشیات تک، نفسیات سے لے کر ذرائع ابلاغ تک، ان کی موجودگی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم ان سے متفق ہیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان کی کامیابی کے اسباب کو سمجھنے کی کوشش کی؟

اگر کوئی قوم تعلیم، تحقیق، ادارہ سازی، مالیات اور میڈیا کو اپنی ترجیحات میں شامل کر لے تو اس کے اثرات نسلوں تک مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وہ سبق ہے جسے سمجھنے کے بجائے ہم اکثر جذباتی نعروں میں گم ہو جاتے ہیں۔

اب صورت حال مزید پیچیدہ ہونے جا رہی ہے۔

اگر گزشتہ دو دہائیاں سوشل میڈیا کی دہائیاں تھیں تو آنے والی دہائیاں مصنوعی ذہانت کی ہوں گی۔

مصنوعی ذہانت نے علم، ابلاغ اور سیاست کی دنیا میں ایک ایسا دروازہ کھول دیا ہے جس کے اثرات کا مکمل اندازہ شاید ابھی کسی کو نہیں۔ آج ایسی ویڈیوز تیار کی جا سکتی ہیں جن میں کوئی شخص وہ باتیں کرتا دکھائی دے جو اس نے کبھی نہیں کیں۔ ایسی آوازیں پیدا کی جا سکتی ہیں جو اصل اور نقل کے درمیان فرق کو تقریباً ناممکن بنا دیں۔ ایسی تحریریں لکھی جا سکتی ہیں جو بظاہر انسانی ذہن کا شاہکار محسوس ہوں۔

اس نئی دنیا میں سب سے بڑا خطرہ صرف جھوٹ نہیں ہوگا بلکہ سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کا مٹ جانا ہوگا۔

جب ہر تصویر مشکوک ہو جائے، ہر ویڈیو قابلِ تردید ہو جائے اور ہر خبر پر سوال اٹھایا جا سکے تو عوامی شعور ایک عجیب انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں وہی لوگ کامیاب ہوں گے جن کے پاس مضبوط ادارے، معتبر ذرائع اور تربیت یافتہ افراد ہوں گے۔

یہاں آ کر ایک بار پھر ہمارا دھیان اپنی طرف لوٹتا ہے۔

کیا ہم اس آنے والی دنیا کے لیے تیار ہیں؟

کیا ہمارے پاس ایسے تحقیقی ادارے ہیں جو جدید ذرائع ابلاغ کا مطالعہ کر رہے ہوں؟

کیا ہمارے پاس ایسے میڈیا ہاؤسز ہیں جو قومی سطح پر اثر انداز ہو سکیں؟

کیا ہماری یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے نوجوانوں کو صرف ملازمت کے لیے نہیں بلکہ فکری قیادت کے لیے بھی تیار کر رہے ہیں؟

کیا ہماری سماجی اور مذہبی تنظیموں نے ڈیجیٹل دنیا کی اہمیت کو اسی سنجیدگی سے سمجھا ہے جس کی وہ مستحق ہے؟

ان سوالات کے جوابات بہت حوصلہ افزا نہیں ہیں۔

لیکن مایوسی بھی کوئی حل نہیں۔

تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قوموں کی تقدیر اس وقت بدلتی ہے جب وہ اپنے مسائل کی صحیح تشخیص کر لیتی ہیں۔ بیماری کی شناخت علاج کا پہلا مرحلہ ہوتی ہے۔

ہمیں سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مسئلہ صرف میڈیا کا نہیں، ذہن کا ہے۔ مسئلہ صرف نمائندگی کا نہیں، قابلیت کا ہے۔ مسئلہ صرف شکایت کا نہیں، تیاری کا ہے۔

اگر آنے والے برسوں میں مسلمان واقعی اپنی اجتماعی صورت حال کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو انہیں چند بنیادی ترجیحات ازسرِ نو متعین کرنا ہوں گی۔

تعلیم کو محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ فکری سرمایہ سمجھنا ہوگا۔

صحافت کو ایک سنجیدہ سماجی ذمہ داری کے طور پر اختیار کرنا ہوگا۔

ہندی اور انگریزی سمیت ان تمام زبانوں میں مہارت حاصل کرنی ہوگی جن کے ذریعے ملک کا اجتماعی شعور تشکیل پاتا ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا، پوڈکاسٹ، فلم سازی، دستاویزی تحقیق، ڈیٹا جرنلزم اور مصنوعی ذہانت جیسے میدانوں میں منظم سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں ردِ عمل کی نفسیات سے نکل کر تخلیق کی نفسیات اختیار کرنی ہوگی۔

دنیا میں کوئی قوم صرف اس لیے باعزت مقام حاصل نہیں کرتی کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ باعزت مقام اس قوم کو ملتا ہے جو مشکلات کے باوجود اپنے اندر نئے امکانات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

شاید ہمارے عہد کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ہم اپنے آپ کو ایک مظلوم برادری کے طور پر دیکھتے رہیں گے یا ایک ایسی زندہ قوم کے طور پر جو اپنے مستقبل کو خود تشکیل دینے کا حوصلہ رکھتی ہے؟

فی الحال تو صورت حال یہی بتاتی ہے کہ جنگ ابھی جاری ہے۔ لیکن اس جنگ کا میدان ٹیلی ویژن کے اسٹوڈیو، پارلیمنٹ کی عمارت یا سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم نہیں ہیں۔ اصل میدان انسانی ذہن ہے۔

اور جو قومیں ذہنوں کی اس جنگ کو سمجھ لیں گی، مستقبل انہی کا ہوگا۔

انَّ فِی ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِاُولِی الْاَبْصَار

تحریر:عبداللہ ندیم

ق

عبداللہ ندیم

(ریسرچ اسکالر ابلاغیات)

معاصر میڈیا اور مسلم نوجوانوں کے فکری و نفسیاتی مسائل کے تجزیہ نگار۔

مصنف کے تمام مضامین دیکھیں ←